واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی فوج نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے نئے منصوبے تیار کر لیے ہیں۔ ان منصوبوں میں ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے 'مدر آف آل بمز' (MOAB) کا ممکنہ استعمال بھی شامل ہے۔
امریکی میڈیا نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے مشیروں نے گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران ایران کے حوالے سے مختلف آپشنز پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عوامی سطح پر وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی بڑی کارروائی سے گریز کا عندیہ دیا تھا، تاہم نجی سطح پر مختلف تجاویز پر غور جاری ہے۔
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے فوج کو ایرانی اہداف کے خلاف اضافی اسٹرائیک پیکجز تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان منصوبوں میں خاص طور پر 'پک ایکس ماؤنٹین' جیسی حساس جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے ایم او اے بی کے استعمال کی تجویز دی گئی ہے۔
اس فوجی حکمت عملی کے حوالے سے ایک اہم پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ یہ حملہ 'سینٹ کام' کے علاقے سے امریکی انخلا سے قبل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایک بڑی کارروائی کے بعد فتح کا اعلان کر کے فوری انخلا کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
جی بی یو-43/بی، جسے ایم او اے بی کہا جاتا ہے، امریکی اسلحہ خانے میں موجود سب سے بڑا غیر جوہری بم ہے۔ یہ جی پی ایس گائیڈڈ ہتھیار ہے جو زمین سے ٹکرانے سے قبل ہوا میں پھٹتا ہے اور وسیع رقبے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تاہم، ماہرین اور عسکری ذرائع اس بم کی تاثیر کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ بم سطح پر موجود اہداف کے لیے تباہ کن ہے، لیکن زمین کی گہرائی میں موجود گرینائٹ کی تہوں سے محفوظ جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کی صلاحیت محدود ہو سکتی ہے۔
اس کے باوجود، تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ اسے ایک 'نفسیاتی ہتھیار' کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ اس بم کو بنیادی طور پر دشمن کے حوصلے پست کرنے اور انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔
ایم او اے بی کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اسے عراق جنگ کے دوران تیار کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد بڑے فوجی اجتماعات اور زمین کے اوپر موجود مضبوط بنکرز کو نشانہ بنانا تھا، تاہم بعد ازاں اس کے اہداف کے دائرہ کار میں غاروں اور سرنگوں کو بھی شامل کر لیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران ایم او اے بی کو استعمال کرنے والے پہلے امریکی صدر بنے تھے۔ سن 2017 میں انہوں نے امریکی فوج کو افغانستان میں داعش کے ٹھکانوں پر اس سب سے طاقتور غیر جوہری بم کو گرانے کا اختیار دیا تھا۔ افغان حکام کے مطابق اس حملے میں داعش کے 36 جنگجو ہلاک ہوئے تھے۔
ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے صدر ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اسی مقصد کے تحت وہ بارہا 'پک ایکس' پر حملے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس ممکنہ منصوبے پر عمل درآمد سے خطے میں کشیدگی میں بڑے اضافے کا خدشہ ہے۔ اگرچہ یہ ایک طاقتور ہتھیار ہے، لیکن اسٹریٹجک اعتبار سے اس کے نتائج کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔
فی الحال وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان رپورٹس پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم امریکی میڈیا میں گردش کرنے والی یہ خبریں عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی بڑی کارروائی کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنوں پر بھی مرتب ہوں گے، جس کے پیش نظر عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔





اپنی رائے دیں