ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ ایران کو درپیش چیلنجز اور غیر ملکی دباؤ کے باوجود ملک اپنے اہداف کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دشمن قوتیں، بالخصوص امریکا، ایران کے داخلی استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔
صدر ایران نے کہا کہ دشمن ملک میں نسلی اور صنفی اختلافات کو ہوا دے کر قومی اتحاد کو کمزور کرنے کی مذموم کوششیں کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے تمام ہتھکنڈوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عوام اور حکومت کا باہمی تعاون سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
مسعود پزشکیان نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی مسلح افواج نے دشمن کے جارحانہ عزائم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری افواج کسی بھی بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار اور مستعد ہیں۔
ملکی معیشت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ بجلی کی قلت اور پانی کے بحران جیسے مسائل موجود ہیں، تاہم حکومت ان پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات پر زور دیا کہ وہ ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ دشمن معاشی مشکلات کو سیاسی انتشار پھیلانے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے، لیکن ایرانی عوام اپنی بصیرت سے ان سازشوں کو ناکام بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی حمایت ہی ہماری اصل طاقت ہے جس کے ذریعے ہم ہر مشکل کا سامنا کریں گے۔
حکام کو ہدایت جاری کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ مقامی سطح پر درپیش مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کسی بھی صورت بیرونی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور اپنے قومی مفادات کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہم اپنے راستے پر گامزن رہیں گے۔
ایرانی قیادت کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کی صورتحال انتہائی حساس ہے اور ایران کو مختلف محاذوں پر دباؤ کا سامنا ہے۔ تاہم تہران کی جانب سے مسلسل یہی مؤقف اپنایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے دفاع اور ترقی کے لیے کسی کا محتاج نہیں ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کی موجودہ حکمت عملی داخلی استحکام اور معاشی خود انحصاری پر مرکوز ہے۔ صدر پزشکیان کی جانب سے صنعت کاروں کو دی گئی ترغیبات اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں تاکہ ملکی پیداوار میں اضافہ کر کے بیرونی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
ایرانی عوام بھی ملک کی موجودہ صورتحال میں حکومت کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں اور قومی یکجہتی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ صدر نے اپنے خطاب میں عوام کے اس جذبے کو سراہا اور کہا کہ یہی ثابت قدمی ہی دراصل دشمن کی شکست کا سبب بنتی ہے۔
مستقبل کے حوالے سے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ہم اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ بھی بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں، لیکن اپنی عزتِ نفس اور قومی وقار پر کسی کو سمجھوتہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ایران ایک پرامن خطے کے قیام کے لیے بھی اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
آخر میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کے دشمنوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ان کی سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔ ہم اپنے عوام کے تعاون سے ایک مضبوط اور مستحکم ایران کی تعمیر کے سفر کو جاری رکھیں گے اور تمام تر رکاوٹوں کو عبور کریں گے۔
یہ بیان ایران کی خارجہ اور داخلہ پالیسی کے حوالے سے ایک واضح پیغام ہے کہ ملک کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ کے باوجود اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے۔ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں اور معاشی اصلاحات کے ذریعے اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔





اپنی رائے دیں