وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکریٹری کیٹی زکریا کی تقرری کے بعد ان کی تعلیمی اسناد اور قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کے بیانیے کو بہتر انداز میں پیش کرنے کے لیے کیٹی زکریا کو ترجمان مقرر کیا ہے، تاہم ان کی وکالت کی ڈگری اور بار کے لائسنس کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کیٹی زکریا نے 2011 میں پیپرڈائن یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی، جس کی تصدیق یونیورسٹی کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔ تاہم، امریکی قوانین کے تحت قانون کی ڈگری حاصل کرنا ہی وکالت کے لیے کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے متعلقہ ریاست کے بار کا امتحان پاس کرنا اور لائسنس حاصل کرنا لازمی ہے۔
تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایک پریس بریفنگ کے دوران صحافی نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے کس ریاست میں بار کا امتحان پاس کیا ہے۔ اس پر کیٹی زکریا نے جواب دیا کہ 'جب میں چین منتقل ہوئی تھی'، جس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں انہوں نے وضاحت کی کہ ہیلی کاپٹر کے شور کے باعث سوال سمجھنے میں غلط فہمی ہوئی تھی۔
وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کیٹی زکریا نے قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کیلیفورنیا میں بار کا امتحان دیا تھا لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ اس معاملے سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران وہ اپنی شادی کی تیاریوں اور چین منتقلی کے منصوبوں میں مصروف تھیں۔
کیٹی زکریا کے لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق، وہ 2011 سے 2013 تک بیجنگ میں ایک لاء فرم 'ژونگ لون' کے ساتھ وابستہ رہیں۔ چین کے قوانین کے مطابق وہاں وکالت کا لائسنس صرف چینی شہریوں کو دیا جاتا ہے، تاہم غیر ملکی ماہرین قانونی فرموں میں مشاورتی عہدوں پر کام کر سکتے ہیں۔
ایک ریڈیو انٹرویو کے دوران کیٹی زکریا نے دعویٰ کیا تھا کہ چین میں قیام کے دوران انہوں نے عالمی بینک اور انٹرنیشنل فائنانس کارپوریشن کے لیے بیرونی قانونی مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
امریکی نگرانی کی ایک تنظیم 'کیمپین فار اکاؤنٹیبلیٹی' نے کیلیفورنیا اسٹیٹ بار میں شکایت درج کرائی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں کہ آیا کیٹی زکریا نے لائسنس کے بغیر خود کو وکیل ظاہر کر کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ کیلیفورنیا کے قوانین کے تحت یہ عمل جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
کیٹی زکریا نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ جب وہ ٹی وی چینلز پر بطور مبصر کام کرتی تھیں، تو یونیورسٹی کے صدر نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ خود کو وکیل تو کہہ سکتی ہیں لیکن 'اٹارنی' کا لفظ استعمال نہ کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے بین الاقوامی کاروباری لین دین کے شعبے میں کام کیا ہے اور ان کے پاس اس کے لیے تمام ضروری اسناد موجود ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشنز ڈائریکٹر اسٹیون چیونگ نے کیٹی زکریا کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی عوام تک معلومات پہنچانے کے لیے غیر معمولی صلاحیتوں کی حامل ہیں اور اس عہدے کے لیے مکمل طور پر موزوں ہیں۔
یاد رہے کہ کیٹی زکریا اس سے قبل محکمہ داخلی سلامتی میں بھی ترجمان کے فرائض سرانجام دے چکی ہیں۔ وہ ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ سے بھی وابستہ رہی ہیں اور صدر ٹرمپ کے دونوں ادوارِ صدارت کو ملا کر وائٹ ہاؤس کی چھٹی چیف ترجمان ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کی تقرری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ زکریا میڈیا، امریکی عوام اور انتظامیہ کے درمیان بہترین تعلقات استوار کرنے میں کامیاب رہیں گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پریس سیکریٹری کا عہدہ انتہائی حساس ہوتا ہے اور اس پر فائز شخص کی ساکھ پر اٹھنے والے سوالات انتظامیہ کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔
کیٹی زکریا نے اپنی پریس بریفنگ کے دوران صرف تین سوالات کے جوابات دیے اور 15 منٹ میں بریفنگ ختم کر دی۔ ان کی کارکردگی پر بھی کچھ مبصرین نے تنقید کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اپنی نئی ذمہ داریوں کے دوران میڈیا کے سخت سوالات کا سامنا رہے گا۔





اپنی رائے دیں