وفاقی حکومت نے آئین کی شق 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور سیاسی تعطل کے پیش نظر کیا گیا ہے تاکہ انتظامی امور کو بہتر بنایا جا سکے۔
وفاقی کابینہ کی مشاورت اور صدارتی فرمان کے اجرا کے بعد 11 اکتوبر 2026 کو صوبے میں نئی انتظامیہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس اقدام کے بعد سہیل آفریدی کی صوبائی حکومت کی جگہ 11 رکنی مشاورتی کونسل نے لے لی ہے۔
وزیر داخلہ نے 13 اکتوبر کو سینیٹ میں اپنے تفصیلی خطاب کے دوران صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبے کے 12 اضلاع دہشت گردی اور بدامنی سے شدید متاثر ہیں، جہاں امن کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
ان 12 حساس اضلاع کے لیے گریڈ 20 کے افسر یحییٰ اخونزادہ کو بطور ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا گیا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے اور علاقے میں مکمل امن کی بحالی کے لیے یہ سخت آئینی اقدامات ناگزیر ہو چکے تھے۔
پارلیمنٹ نے 14 اکتوبر کو گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی باضابطہ توثیق کر دی ہے۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا، جس کے باعث قرارداد بغیر کسی بڑی مخالفت کے ایوان سے منظور کر لی گئی۔
صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ نئی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں پر اب صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے جس پر عوام کی نظریں ہیں۔
مشاورتی کونسل میں دو خواتین کو بھی شامل کیا گیا ہے، جسے ایک مثبت اور مستحسن قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کونسل صوبائی امور کی نگرانی اور انتظامی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے متحرک رہے گی۔
پاکستان کی تاریخ میں یہ آٹھواں موقع ہے کہ کسی صوبے میں گورنر راج کا نفاذ کیا گیا ہے۔ ماضی میں بھی مختلف سیاسی و سیکیورٹی بحرانوں کے دوران اس آئینی آپشن کا استعمال کیا جاتا رہا ہے، جو کہ ایک ناپسندیدہ مگر ضروری عمل ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے اس اقدام کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ سیاسی انتقام پر مبنی ہے، جبکہ حکومتی وزراء اسے آئینی ضرورت اور ریاست کی رٹ بحال کرنے کا اقدام قرار دے رہے ہیں۔
صوبے میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی اور 9 مئی کے مقدمات میں مفرور افراد کی گرفتاری بھی نئے سیٹ اپ کے اہم چیلنجز میں شامل ہیں۔ انتظامیہ ان معاملات پر قانون کے مطابق سخت کارروائی کرنے کے عزم کا اظہار کر رہی ہے۔
خیبر پختونخوا کے عوام کی نظریں اب نئی مشاورتی کونسل کی کارکردگی پر ہیں۔ صوبے کے ایک تہائی حصے میں بدامنی کے خاتمے کے لیے عوام کی توقعات وابستہ ہیں کہ جلد حالات معمول پر آئیں گے اور امن کا دور دورہ ہوگا۔
اس سے قبل پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت نے گورنر راج کا ذہن بنا لیا تھا، لیکن میرا خیال تھا کہ اس آئینی ایٹم بم کے استعمال سے پہلے سیاسی حل ڈھونڈنا چاہیے، تاہم مذاکرات ناکام رہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ اقدام صوبائی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نئی انتظامیہ کس حد تک اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے اور صوبے میں پائیدار امن کا قیام ممکن ہوتا ہے۔




اپنی رائے دیں