یورپی یونین کے تکنیکی ریگولیٹرز نے مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر بلاک کے آن لائن مواد کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر باضابطہ الزامات عائد کر دیے ہیں۔
یہ کارروائی جمعہ کے روز کی گئی جس میں ٹک ٹاک کے تجویز کردہ نظام کے نام نہاد ری بٹ ہول اثر کو ہدف بنایا گیا ہے جو صارفین کو یکساں نوعیت کی ویڈیوز کے مسلسل سیلاب کی طرف راغب کرتا ہے۔
یورپی کمیشن کے مطابق ریگولیٹرز نے ٹک ٹاک کو اپنے نظام میں پائی جانے والی ان خامیوں کو فوری طور پر درست کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
کمی سی ون کا کہنا ہے کہ ادا سی، تنہائی یا جسمانی ساخت سے متعلق مواد کی مسلسل نمائش صارفین بالخصوص کم عمر افراد کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔
ٹک ٹاک کی چینی مال کا نہ کمپنی بائائٹ ڈانس کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اس مسئلے کو حل نہ کیا گیا تو اسے اگلے سال اپنے عالمی سالانہ ٹرن اوور کے چھ فیصد تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یورپی یونین کی تکنیکی چیف ہینا ویرکونن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جب بھی کوئی صارف ٹک ٹاک پر سکرول یا لائیک کرتا ہے تو الگورتھم اسی طرح کا مزید مواد فراہم کرتا ہے جس سے صارفین ایسی دل دل میں پھنس جاتے ہیں جہاں سے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔
کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ٹک ٹاک کو یورپ میں اپنے کاروباری ماڈل اور فار یو فیڈ الگورتھم کے ڈیزائن میں نمایاں تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔
دوسری جانب ٹک ٹاک نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کمی سی ون کے بیانات بنیادی طور پر غلط ہیں اور پلیٹ فارم کے ڈھانچے کو مسخ کرتے ہیں۔
کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس کمیونٹی کے تحفظ کا مضبوط ریکارڈ موجود ہے اور صارفین کو اپنے مواد کے تجربے پر مکمل اور بدیہی کنٹرول حاصل ہے۔
یورپی یونین کے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت بڑی آن لائن کمپنیوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر نقصان دہ اور غیر قانونی مواد کے خلاف مؤثر اقدامات کریں۔
یہ تازہ ترین الزامات ٹک ٹاک کے خلاف یورپی یونین کی اس وسیع تر تحقیقات کا حصہ ہیں جو پہلے سے جاری ہیں۔
یورپی کمیشن نے رواں سال فروری میں بھی ٹک ٹاک پر نشہ آور ڈیزائنز اور بچوں کے تحفظ میں ناکامی کے الزامات کے تحت تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔
کمیشن کی جانب سے میٹا پلیٹ فارمز کے فیس بک اور انسٹاگرام کے سفارشاتی سسٹمز کے ری بٹ ہول اثرات کی بھی الگ سے جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔

اپنی رائے دیں