برطانوی کامیڈین اور اداکار رسل برینڈ کو ایک عدالت کی جانب سے ریپ اور جنسی حملوں کے مقدمات میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد اب مزید قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے سربراہ مارک رولی کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد مزید خواتین کے سامنے آ کر شکایات درج کرانے کا قوی امکان ہے۔ اکیاون سالہ رسل برینڈ کو جمعرات کے روز ایک ہائی پروفائل ٹرائل کے اختتام پر چار مختلف خواتین کے خلاف ریپ اور تین جنسی حملوں کا مرتکب پایا گیا تھا۔
یہ عدالتی کارروائی لندن کے سدرک کراؤن کورٹ میں ہوئی جہاں چھ خواتین نے ان پر سن 1999 سے سن 2009 کے دوران ریپ اور جنسی استحصال کے الزامات عائد کیے تھے۔ جیوری نے انہیں دو دیگر ریپ اور ایک اقدامِ بدتمیزی کے الزامات سے بری کر دیا تھا جبکہ وہ ان تمام الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ سزا کا اعلان پیر کے روز متوقع ہے اور جج نے انہیں ریمانڈ پر جیل بھیجتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انہیں طویل قید کی سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔
میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق رسل برینڈ کو اس وقت دو مزید مقدمات میں بھی تفتیش کا سامنا ہے جن میں ایک 16 سالہ اسکول کی طالبہ کا معاملہ بھی شامل ہے۔ پولیس عہدیدار اینڈی فرپی نے اپنے بیان میں ان خواتین کی جرأت اور عزم کی تعریف کی جنہوں نے سامنے آ کر اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔ ان کا کہنا تھا کہ مجرم نے اپنے اثر و رسوخ اور شہرت کا غلط استعمال کرتے ہوئے خواتین کو جنسی طور پر نشانہ بنایا۔
اس عدالتی فیصلے کے بعد برطانوی میڈیا اور نشریاتی ادارے بھی سخت تنقید کی زد میں آ گئے ہیں جن کے ساتھ رسل برینڈ طویل عرصے تک وابستہ رہے ہیں۔ پولیس چیف اور فلاحی تنظیم ویمنز ایڈ کا کہنا ہے کہ با اثر افراد کو اپنے اعمال کا جوابدہ ہونا چاہیے اور میڈیا اداروں کو بھی اس کلچر پر غور کرنا چاہیے۔ بی بی سی نے اپنے ایک بیان میں اس دور کے دوران تنظیمی خامیوں پر ایک بار پھر معذرت کا اظہار کیا ہے جب رسل برینڈ اس ادارے کا حصہ تھے۔
رسل برینڈ سن 2000 کی دہائی میں برطانیہ کی مقبول ترین تفریحی شخصیات میں شامل تھے اور وہ بی بی سی، چینل فور اور ایم ٹی وی جیسے بڑے اداروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ اپنے کیریئر کے دوران وہ متنازعہ حرکات اور بیانات کی وجہ سے سرخیوں میں رہے لیکن بعد میں انہوں نے خود کو ایک آن لائن مذہبی مبصر اور گرو کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا تھا۔ اب حالیہ عدالتی فیصلے کے بعد ان کے ماضی کے کردار پر دوبارہ سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

اپنی رائے دیں