خلیج کے پانیوں میں ایک آئل پروڈکٹس ٹینکر کو مبینہ طور پر میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس ناگہانی اور خطرناک واقعے کے نتیجے میں ایک ملاح کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
حملے کا یہ افسوسناک واقعہ جمعرات کے روز پیش آیا۔ اس بات کی باضابطہ تصدیق جہاز کی انتظامی کمپنی کی جانب سے جمعہ کے روز کی گئی۔
متعلقہ کمپنی کے فراہم کردہ بیانات کے مطابق نشانہ بننے والا بحری جہاز مارشل آئلینڈز کے پرچم تلے رواں دواں تھا۔ اس آئل ٹینکر کا نام ایم ٹی ویلوس سفائر بتایا گیا ہے۔
حملے کے وقت یہ جہاز کسی قسم کے کارگو کے بغیر سفر کر رہا تھا۔ آئل ٹینکر اپنی منزل کی جانب جاتے ہوئے بحرین کی طرف محوِ سفر تھا۔
یونان میں قائم مینجمنٹ فرم ویلوس ٹینکرز نے اس سنگین واقعے کی تمام تفصیلات جاری کی ہیں۔ کمپنی نے اپنے سرکاری بیان میں تصدیق کی ہے کہ ان کے جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ویلوس ٹینکرز کے بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس دھماکے اور مبینہ حملے کے نتیجے میں جہاز پر شدید نوعیت کے نقصانات آئے۔
کمپنی کے جاری کردہ بیان کے مطابق اس ہولناک حادثے کے بعد جہاز پر سوار عملے کی جانچ کی گئی۔ جانچ پڑتال کے دوران جہاز پر ایک ملاح کو مردہ حالت میں پایا گیا۔
متعلقہ حکام اور کمپنی کا کہنا ہے کہ مذکورہ ملاح کو حملے کے بعد شدید زخمی حالت میں ملا جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا۔
حملے کے فوری بعد جہاز کی انتظامیہ اور متعلقہ حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ کمپنی کی جانب سے اس واقعے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے کے پیچھے دھماکے کی آواز سنی گئی تھی۔ یہ دھماکہ غالباً ایک میزائل حملے کے نتیجے میں رونما ہوا جس نے جہاز کو اپنی لپیٹ میں لیا۔
بین الاقوامی بحری حدود میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد سکیورٹی کے حوالے سے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ خلیج کے خطے میں تجارتی جہاز رانی کی سلامتی کا معاملہ ایک بار پھر زیرِ بحث آگیا ہے۔
متعلقہ میری ٹائم حکام اس پورے واقعے کی گہرائی سے جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔ حملے کی اصل نوعیت اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔
جہاز کی مینجمنٹ فرم اور متعلقہ بین الاقوامی ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ واقعے سے متعلق مزید تکنیکی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں تاکہ حادثے کے اسباب واضح ہو سکیں۔

اپنی رائے دیں