امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد ملک میں سیاسی سرگرمیاں 2028 کے صدارتی انتخاب کی سمت گامزن ہو چکی ہیں۔ اگرچہ ووٹوں کی گنتی کا عمل تاحال جاری ہے، تاہم کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کی بڑی کامیابیوں نے سیاسی حلقوں میں نئے امکانات کو جنم دیا ہے۔
انتخابی نتائج کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر مستقبل کے صدارتی امیدواروں کے حوالے سے بحث شروع ہو گئی ہے۔ جارجیا کے سینیٹر جون اوسوف اور پنسلوانیا کے گورنر جوش شاپیرو کی کامیابیوں نے ان کی قومی سطح پر اہمیت میں اضافہ کیا ہے، جبکہ الینوائے کے گورنر جے بی پرٹزکر کی جیت کو بھی صدارتی دوڑ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ریپبلکن پارٹی کو انتخابی نتائج کے بعد اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کا سامنا ہے۔ نائب صدر جے ڈی وانس نے انتخابی شکست کی ذمہ داری ایران میں جاری جنگی پالیسی پر عائد کی ہے، جسے سیاسی مبصرین ان کے 2028 کے صدارتی امیدوار بننے کی کوششوں کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے پارٹی کی شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ووٹرز کے معاشی مسائل پر توجہ نہ دینا پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پارٹی جلد اپنی پوزیشن بہتر بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اعتدال پسند اور بائیں بازو کے دھڑوں کے درمیان بھی مستقبل کے لائحہ عمل پر بحث جاری ہے۔ جہاں بائیں بازو کے حامیوں کا ماننا ہے کہ معاشی پاپولزم کے ذریعے انتخابی میدان جیتا جا سکتا ہے، وہیں اعتدال پسند ڈیموکریٹس کانگریس میں اپنی نشستوں کی تعداد میں اضافے کو اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔
امریکی سیاسی منظرنامے میں 2028 کے صدارتی انتخاب کے لیے ابھی سے جوڑ توڑ شروع ہو چکی ہے، تاہم حتمی امیدواروں کا تعین آنے والے مہینوں میں سیاسی پیش رفت پر منحصر ہوگا۔


اپنی رائے دیں