مواد پر جائیں
ہفتہ 26، جمادی الاول 1448ھ 7، نومبر 2026ء آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
انڈر 19 ایشیا کپ: عثمان خان کی شاندار سنچری، پاکستان کی متحدہ عرب امارات کے خلاف فتحترک پارلیمنٹ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دیاپ ڈیٹ: سمندر میں تیل و گیس کی تلاش: ترک سیسمک جہاز کی کراچی آمد کے انتظامات مکملامریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا عہدے پر برقرار رہنے کا عزم، ایران جنگ کا دفاعوزیراعظم مولانا فضل الرحمان کی عزت کرتے ہیں، سیاسی مخالفت نہیں چاہتے: رانا ثنا اللہامریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج: 2028 کے صدارتی مقابلے کی ہلچل شروعمیگھن مارکل کے والد تھامس مارکل بچوں کی نازیبا ویڈیوز رکھنے کے الزام میں گرفتارنیو انگلینڈ پیٹریٹس کے رننگ بیک ٹریویون ہینڈرسن نیورولوجیکل مسائل کے باعث ٹیم سے باہرخیبر پختونخوا میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کا فیصلہچین کی ترقی پذیر ممالک میں کلین ٹیکنالوجی کے لیے 132 ارب ڈالر کی سرمایہ کاریامریکہ میں اکتوبر کے دوران ملازمتوں میں توقع سے زیادہ اضافہٹیسلا کا سائبر ٹرک کی پیداوار بند کرنے کا اعلان، توجہ سائبر کیب پر مرکوزبرطانوی کامیڈین رسل برینڈ کو مزید الزامات کا سامنا کرنے کا خدشہخلیج میں آئل ٹینکر پر مبینہ میزائل حملہ، ایک ملاح ہلاکیورپی یونین نے ٹک ٹاک پر نقصان دہ الگورتھم کے الزامات عائد کر دیےانگلش رگبی ٹیم کے فلائی ہاف فن اسمتھ آسٹریلیا کے خلاف میچ کے لیے فٹبرطانیہ میں بچوں کے لیے اسنیپ چیٹ کا فرینڈ فائنڈر فیچر معطلسوڈانی وزیر داخلہ کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سے ملاقاتعالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں 2020 کے بعد بڑی کمی کا امکانمارٹن روز بیلنسیاگا کی نئی کریٹو ڈائریکٹر مقرر
کاروبار

چین کی ترقی پذیر ممالک میں کلین ٹیکنالوجی کے لیے 132 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری

چین نے گزشتہ برس کاربن کے اخراج میں کمی لانے کے لیے ترقی پذیر دنیا کو کلین ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کی مد میں 132 ارب ڈالر فراہم کیے ہیں۔

چین نے گزشتہ برس کے دوران ترقی پذیر ممالک میں کلین ٹیکنالوجی اور اس سے متعلقہ منصوبوں میں 132 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ اقدام عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی لانے کی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے۔

بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق، چین کی جانب سے فراہم کردہ یہ معاونت کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ اس سرمایہ کاری کا مقصد ترقی پذیر معیشتوں کو ماحول دوست ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پائیدار توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا ہے۔

چین کی جانب سے کلین ٹیکنالوجی کے شعبے میں یہ سرمایہ کاری ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت کی گئی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو محدود کرنا اور ترقی پذیر خطوں میں صنعتی ترقی کو ماحول دوست خطوط پر استوار کرنا ہے۔

چین کی یہ 'کلین ٹیکنالوجی مشین' عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جاری جنگ کی سمت کو تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی متوقع ہے بلکہ ترقی پذیر ممالک میں توانائی کے متبادل ذرائع تک رسائی بھی آسان ہو رہی ہے۔

چین کی جانب سے یہ سرمایہ کاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں گرین انرجی اور ماحول دوست ٹیکنالوجیز کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس پیش رفت کو عالمی سطح پر موسمیاتی اہداف کے حصول کے لیے ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مذکورہ سرمایہ کاری کے ذریعے چین نے شمسی توانائی، ونڈ پاور اور الیکٹرک گاڑیوں کی ٹیکنالوجی کی منتقلی پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ یہ ٹیکنالوجیز ترقی پذیر ممالک کو اپنے توانائی کے شعبے کو جدید بنانے میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔

عالمی اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ چین کا یہ اقدام ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ اس سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کی جانب بھی پیش رفت ہوگی۔

چین کی جانب سے فراہم کی جانے والی یہ کلین ٹیکنالوجی عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں کمی لانے کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو رہی ہے۔ ترقی پذیر ممالک اس سرمایہ کاری کے ذریعے اپنے موسمیاتی اہداف کو حاصل کرنے میں زیادہ بہتر پوزیشن میں نظر آتے ہیں۔

اس سرمایہ کاری کے طویل مدتی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ اقدام عالمی سپلائی چین کو بھی متاثر کرے گا۔ کلین ٹیکنالوجی کی فراہمی سے عالمی منڈی میں ماحول دوست مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی کا امکان ہے۔

چین کی جانب سے یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ عالمی ماحولیاتی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں سنجیدہ ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ ایک بڑی معاونت ہے جو ان کی پائیدار ترقی کے سفر کو تیز کر سکتی ہے۔

مستقبل قریب میں اس سرمایہ کاری کے مزید ثمرات سامنے آنے کی توقع ہے۔ چین کی جانب سے کلین ٹیکنالوجی کے شعبے میں مسلسل سرمایہ کاری عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔

عالمی برادری نے چین کی اس کاوش کو سراہا ہے، جس سے ترقی پذیر ممالک کو درپیش توانائی کے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ یہ سرمایہ کاری عالمی سطح پر سبز توانائی کے فروغ کے لیے ایک نئی راہ ہموار کر رہی ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

کاروبار کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں