عالمی شہرت یافتہ ایکشن ہیرو اور مارشل آرٹسٹ جیکی چن کے انتقال سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں مکمل طور پر بے بنیاد اور من گھڑت ثابت ہوئیں۔ انٹرنیٹ پر ایک بلیک اینڈ وائٹ تصویر وائرل ہوئی جس میں اداکار کے نام کے ساتھ 1954 سے 2026 تک کے سال درج تھے، جس سے ان کی موت کا غلط تاثر دیا گیا۔
اس وائرل پوسٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ 72 سالہ اداکار اب اس دنیا میں نہیں رہے، جس کے بعد ان کے مداحوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ تاہم، حقائق کی جانچ کرنے والے اداروں اور میڈیا رپورٹس نے ان دعووں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
مذکورہ جھوٹی پوسٹ سوشل میڈیا پر اتنی تیزی سے پھیلی کہ صرف پانچ گھنٹوں کے دوران اسے 38 لاکھ سے زائد بار دیکھا گیا۔ یہ واقعہ معروف شخصیات کے بارے میں غیر مصدقہ اور گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کی ایک افسوسناک مثال ہے۔
جیکی چن کے انتقال کی افواہیں پہلی بار سامنے نہیں آئیں۔ اس سے قبل 2011 میں بھی یہ جھوٹی خبر گردش میں آئی تھی کہ اداکار کو دل کا دورہ پڑا ہے اور ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ اس وقت بھی ان کی ٹیم نے سوشل میڈیا کے ذریعے وضاحت کی تھی۔
اسی طرح 2022 میں بھی جیکی چن کی موت سے متعلق افواہیں پھیلائی گئی تھیں، جنہیں بعد ازاں فیکٹ چیک کرنے والے اداروں نے مسترد کر دیا تھا۔ ان تمام مواقع پر اداکار بالکل خیریت سے پائے گئے اور اپنے معمول کے مطابق کام کرتے رہے۔
جیکی چن کی حالیہ مصروفیات بھی ان کے مکمل طور پر صحت مند ہونے کا ثبوت دیتی ہیں۔ رواں برس وہ کانز فلم فیسٹیول میں بھی شریک ہوئے، جہاں انہوں نے اپنے طویل اور شاندار فلمی کیریئر کے بارے میں حاضرین سے گفتگو بھی کی۔
کانز فلم فیسٹیول کے دوران شرکاء نے کھڑے ہو کر جیکی چن کو خراج تحسین پیش کیا اور سنیما کے لیے ان کی چھ دہائیوں پر محیط خدمات کو سراہا۔ اس موقع پر ان کی توانائی اور جوش و خروش واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا۔
جیکی چن نے اپنے طویل فلمی سفر کے دوران ایکشن اور مارشل آرٹس کے ذریعے دنیا بھر میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ ان کی مقبول ترین فلموں میں 'رش آور'، 'پولیس اسٹوری' اور 'ڈرنکن ماسٹر' جیسی شاہکار فلمیں شامل ہیں۔
اداکار کی جانب سے یا ان کے قریبی ذرائع سے ایسی کسی بھی خبر کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ایسی خبروں کو بغیر تحقیق کے آگے بڑھانا یا ان پر یقین کرنا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر کسی بھی مشہور شخصیت کے بارے میں آنے والی ایسی خبروں کی تصدیق مستند نیوز ذرائع سے کرنی چاہیے۔ سوشل میڈیا پر اکثر کلک بیٹ اور ٹریفک حاصل کرنے کے لیے ایسی جھوٹی کہانیاں بنائی جاتی ہیں۔
جیکی چن آج بھی فلم انڈسٹری میں فعال ہیں اور اپنے مداحوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔ ان کی ٹیم کی جانب سے ماضی میں بھی ایسی افواہوں کی تردید کی جاتی رہی ہے تاکہ شائقین کو درست معلومات فراہم کی جا سکیں۔
مداحوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ جیکی چن کے حوالے سے پھیلائی جانے والی ان افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف مصدقہ میڈیا اداروں کی خبروں پر اعتماد کریں۔ اداکار اپنی زندگی کے اگلے پروجیکٹس پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں معلومات کی تصدیق کرنا کتنا ضروری ہے۔ کسی بھی شخصیت کی موت جیسی حساس خبر کو بغیر کسی ثبوت کے پھیلانا اخلاقی اور قانونی طور پر بھی درست نہیں ہے۔

اپنی رائے دیں