پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین، ایک نجی ٹی وی چینل کے اینکر اور اس کے چیئرمین کو پانچ ارب روپے کا قانونی ہتکِ عزت کا نوٹس ارسال کر دیا ہے۔
یہ نوٹس صوبے میں مبینہ وسیع پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد جاری کیا گیا ہے جس میں غیر مشروط معافی اور بیانات کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایک تقریب کے دوران مریم نواز نے موقف اختیار کیا کہ اگر وفاقی وزیر کے پاس کوئی ثبوت موجود ہے تو اسے سامنے لایا جائے بصورت دیگر انہیں عدالت میں گھسیٹا جائے گا۔
صوبائی حکومت کی جانب سے بھجوائے گئے قانونی نوٹس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ وفاقی وزیر کی جانب سے لگائے گئے الزامات بے بنیاد، غیر مصدقہ اور ہتک آمیز ہیں۔
نوٹس کے متن کے مطابق اس قسم کے عام الزامات سے وزیر اعلیٰ اور صوبائی انتظامیہ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اس کی کوئی دستاویزی یا تصدیق شدہ بنیاد پیش نہیں کی گئی۔
وفاقی وزیر نے اپنے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ پنجاب میں بدعنوانی کے کیسوں کی فائلیں الماریوں میں بھری پڑی ہیں تاہم انہوں نے خود یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ ان کے پاس کوئی ثبوت موجود نہیں۔
قانونی نوٹس میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ ایک ذمہ دار وفاقی وزیر کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ کسی دوسری آئینی حکومت پر بغیر کسی شواہد کے اس طرح کے الزامات عائد کرنے کے کیا سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
پنجاب کی وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ انہوں نے صوبے میں کھربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے ہیں اور اگر عوامی وسائل میں ایک پائی کی بھی بے ضابطگی ثابت ہو جائے تو وہ جوابدہ ہیں۔
مریم نواز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اصل تنازعہ گجرات میں ڈپٹی کمشنر کی تقرری سے جڑا ہوا ہے کیونکہ وہ سفارش یا مرضی کی بنیاد پر تقرریوں کی حامی نہیں ہیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ چوہدری سالک حسین کی تنقید کا مقصد دراصل ان کی پسند کے افسر کی تعیناتی کی درخواست مسترد ہونے پر پیدا ہونے والی ذاتی ناراضگی تھی۔
عظمیٰ بخاری نے مزید واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز تمام تقرریاں اور تبادلے صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر کرتی ہیں اور کسی کی سفارش کو خاطر میں نہیں لایا جاتا۔
دوسری طرف وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے انٹرویو کے دوران پوچھے گئے سوالات کے دیانت داری سے جواب دیے تھے۔
چوہدری سالک نے یہ بھی تبصرہ کیا کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کو غرور و تکبر سے بچنا چاہیے اور عاجزی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
اس سیاسی تنازع کے دوران یہ پہلو بھی اہم ہے کہ چوہدری سالک حسین کے بھائی چوہدری شافع حسین بھی پنجاب حکومت میں صنعت و تجارت کے صوبائی وزیر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔
قانونی نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ متعلقہ فریقین اپنے بیانات واپس لیتے ہوئے عوامی سطح پر غیر مشروط معافی مانگیں بصورت دیگر مزید قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔
چوہدری پرویز الٰہی کی سابقہ دورِ حکومت کے حوالے سے بھی انٹرویو میں بات کی گئی تھی جس پر صوبائی حکومت کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا۔
یہ تمام قانونی کارروائی نجی ٹی وی چینل پر نشر کیے جانے والے ایک حالیہ ٹاک شو کے مباحثے کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔



اپنی رائے دیں