کراچی کے علاقے گڈاپ میں پیش آنے والے فارم ہاؤس موبائل چوری کیس کی مدعی خاتون کو مبینہ طور پر قتل کی دھمکیاں ملنے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس واقعے کے بعد خاتون نے اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے پولیس سے رجوع کر لیا ہے۔
متاثرہ خاتون نے تھانہ شارع فیصل میں تحریری درخواست جمع کرائی ہے جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں مذکورہ مقدمے سے دستبردار ہونے کے لیے مسلسل سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں جس سے وہ شدید خوفزدہ ہیں۔
درخواست گزار خاتون کے مطابق، وہ بدھ کے روز اپنے گھر سے ملازمت کے سلسلے میں باہر نکلی تھیں کہ اس دوران موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد نے انہیں راستے میں گھیرنے کی کوشش کی۔
خاتون نے پولیس کو بتایا کہ ملزمان نے انہیں روکنے کی کوشش کی اور قتل کرنے کے اشارے بھی کیے، جس کے بعد وہ جوہر موڑ کی جانب فرار ہو گئے۔ یہ واقعہ ان کی سیکیورٹی کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔
پولیس حکام نے خاتون کی جانب سے دی گئی درخواست موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گڈاپ کے ایک فارم ہاؤس میں تقریب کے دوران 50 سے زائد خواتین کے موبائل فون چوری ہونے کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کا مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔ اس کیس میں اب دھمکیوں کا نیا پہلو سامنے آیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، مدعی خاتون کی سیکیورٹی کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ انہیں کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔ تفتیشی ٹیمیں ملزمان کی شناخت کے لیے شواہد اکٹھے کر رہی ہیں۔
اس واقعے نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مدعی خاتون کو تحفظ فراہم کیا جائے اور دھمکیاں دینے والے ملزمان کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے بھی ملزمان کی تلاش کر رہی ہے تاکہ ان کی شناخت ممکن ہو سکے۔ اس سلسلے میں مزید پیش رفت جلد متوقع ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے والے کسی بھی شخص کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ کیس کی تفتیش میرٹ پر مکمل کی جائے گی۔
خاتون نے اپنی درخواست میں حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ مقدمے کی پیروی بلا خوف و خطر جاری رکھ سکیں۔
پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مدعی خاتون کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ان کی اولین ترجیح ہے۔ اس حوالے سے متعلقہ ایس ایچ او کو خصوصی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
مذکورہ کیس کے حوالے سے مزید قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے اور پولیس کی جانب سے شواہد کی روشنی میں ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔





اپنی رائے دیں