وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سوشل میڈیا پر ایک اہم ویڈیو شیئر کی ہے جس میں پیٹرول پمپ کے غریب ملازم پر تشدد کرنے والے مبینہ بااثر شخص کو قانون کی گرفت میں لائے جانے کے بعد کا منظر دکھایا گیا ہے۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد صوبائی سطح پر قانون کی عملداری اور انصاف کے حصول کے حوالے سے بحث کا آغاز ہو چکا ہے، اور انتظامیہ کی کارروائی کو سراہا جا رہا ہے۔
شیئر کی گئی ویڈیو کلپ میں ملزم کو پولیس تحویل میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں اس دوران مبینہ طور پر متاثرہ ملازم کی جانب سے اسے تھپڑ مارے جانے کا واقعہ بھی سامنے آیا۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں عام شہریوں کی جانب سے کمزور طبقے کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات کو ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔
مریم نواز نے اپنے جاری کردہ بیان میں اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے مغرور اور بگڑے ہوئے عناصر کے منہ پر زور دار طمانچہ قرار دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ معاشرے میں اس قسم کے رویوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا جہاں مالی طاقت کے بل بوتے پر قانون کی دھجیاں اڑائی جائیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ جو لوگ اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں اور غریبوں کو کمتر خیال کرتے ہیں، انہیں اب قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے عناصر جو یہ سوچتے ہیں کہ وہ دولت اور اثرو رسوخ کی وجہ سے ہر جرم سے بچ نکلیں گے، ان کی یہ خام خیالی اب ختم ہو چکی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست اور حکومت کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کے کمزور اور پسے ہوئے طبقے کے حقوق کا تحفظ کرے اور ظالم کو اس کے انجام تک پہنچائے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور کسی بھی بااثر شخص کو قانون کی گرفت سے بچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس واقعے کا سختی سے نوٹس لیا تھا جس کے بعد متعلقہ اداروں نے فوری طور پر کارروائی عمل میں لاتے ہوئے ملزم کو حراست میں لیا۔ اس بروقت کارروائی کا مقصد عامتہ الناس میں یہ واضح پیغام دینا ہے کہ ریاست ہر شہری کی عزت اور جان و مال کے تحفظ کی ضامن ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ انصاف صرف امیر اور بااثر طبقے کا طرہ امتياز نہیں ہے بلکہ یہ ریاست کے ہر عام شہری کا بنیادی اور آئینی حق ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کی طرف سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ مظلوموں کو انصاف کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
مریم نواز نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خود اس بات کی نگرانی کر رہی ہیں کہ کمزوروں پر ظلم کرنے والوں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص قانون شکنی کی جرات نہ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے نشے میں دھت لوگوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ قانون کا ہاتھ سب سے طویل اور مضبوط ہے۔
عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کے اس اقدام اور دوٹوک مؤقف کو انتہائی زبردست الفاظ میں سراہا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سخت اقدامات سے معاشرے میں قانون کا احترام بحال ہوگا اور عام آدمی کا ریاستی اداروں پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
پنجاب حکومت کے اس ایکشن کے بعد پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عام شہریوں بالخصوص محنت کش طبقے پر تشدد کے واقعات کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کریں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اس امر کو اجاگر کیا ہے کہ قانون کی بالادستی کے بغیر ایک پرامن معاشرے کا قیام ممکن نہیں۔
مظلوم ملازم اور اس کے اہل خانہ کو انصاف کی فراہمی کے لیے ضلعی انتظامیہ بھی متحرک ہو چکی ہے اور قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔ حکومت کا یہ واضح مؤقف ہے کہ غریب عوام کے ساتھ کھڑے ہونا اور ان کے حقوق کا دفاع کرنا ریاست کا اولین فریضہ ہے جسے ہر قیمت پر پورا کیا جائے گا۔
واقعے کے بعد پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قانون توڑنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ متاثرہ ملازم کو انصاف دلانے کے لیے تمام ضروری قانونی کارروائی تیزی سے جاری ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
حکومت پنجاب کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا۔ معاشرے کے تمام طبقات نے اس کارروائی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔





اپنی رائے دیں