مواد پر جائیں
ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 13 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 12:37
بریکنگ
گوادر میں دہشت گردی کی بڑی کوشش ناکام، خاتون سمیت 10 دہشت گرد ہلاکلسبیلہ میں کوچ اور وین میں خوفناک تصادم، 12 افراد جاں بحقراولپنڈی: گھر سے دو خواتین کی تشدد زدہ لاشیں برآمد، مقدمہ درجقومی اسمبلی: پارلیمانی سیکرٹری آئی ٹی فائیو جی کا مطلب بتانے میں ناکامخیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا خاتمہ چند ماہ میں ممکن ہے، رانا ثناء اللہوزیر مملکت حذیفہ رحمان کا مولانا فضل الرحمان کے بیانات پر ردعملماورا حسین اور امیر گیلانی کے ہاں پہلے بیٹے کی پیدائشپاکستانی نژاد ہارٹ سرجن ڈاکٹر آصف حسن کو برطانیہ کا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ مل گیااداکارہ ایمن سلیم نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیاٹریکنگ آئی ڈی گم ہونے پر شناختی کارڈ کا اسٹیٹس جاننے کا آسان طریقہ متعارفپیٹرول پمپ مالکان کا ڈیلی پرائس میکانزم پر تحفظات کا اظہارپیٹرول پمپ ملازم پر تشدد، مریم نواز نے ملزم کی گرفتاری کی ویڈیو شیئر کر دیملک کے مختلف حصوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئیچیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی قذافی اسٹیڈیم آمد، کھلاڑیوں سے ملاقاتسندھ میں منکی پاکس کے مریضوں کی تعداد 98 تک پہنچ گئیجامعہ کراچی میں تقریبات کے انعقاد سے قبل وائس چانسلر کی اجازت لازمی قرارلاہور میں سی سی ڈی اہلکار کی لڑکی سے مبینہ زیادتی اور ویڈیو بنانے کا مقدمہ درجاین سی سی آئی اے ملتان اور ساہیوال میں نئے افسران تعیناتوزن گھٹانے والی ادویات کے استعمال سے امریکی درزیوں اور موچیوں کا کاروبار چمک اٹھااسحاق ڈار کی استنبول میں آر فور اجلاس میں علاقائی امن کیلئے سفارتی کوششوں پر بریفنگ
پاکستان

وزیر مملکت حذیفہ رحمان کا مولانا فضل الرحمان کے بیانات پر ردعمل

حذیفہ رحمان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن کو معدنیات سے جوڑنا شہداء کی قربانیوں کی توہین ہے۔

وزیر مملکت حذیفہ رحمان کا مولانا فضل الرحمان کے بیانات پر ردعمل

وفاقی وزیر مملکت اور معاون خصوصی حذیفہ رحمان نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خیبر پختونخوا میں جاری آپریشن اور معدنیات سے متعلق حالیہ بیانات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا مناسب نہیں ہے۔

حذیفہ رحمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن کو معدنیات کی جنگ قرار دینا انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بیانات سے ملک کی سیکیورٹی فورسز کے مورال پر اثر پڑتا ہے اور یہ شہداء کی قربانیوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔

وزیر مملکت نے مزید کہا کہ ریاست کی رٹ ہر چیز سے مقدم ہے اور کوئی بھی فرد یا جماعت ریاست سے بڑی نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کسی خاص مفاد کے لیے نہیں بلکہ ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پی ڈی ایم کے دور میں اپنی سیاسی جدوجہد کی پوری قیمت وصول کی ہے، لہذا اب انہیں قومی سلامتی کے حساس معاملات پر سیاست کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

حذیفہ رحمان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام دہشت گردی سے متاثر ہیں اور حکومت ان کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ریاست کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے سیکیورٹی ادارے شب و روز مصروف عمل ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن کو متنازع بنانے کی کوششیں ملک دشمن عناصر کے بیانیے کو تقویت دیتی ہیں۔ انہوں نے سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ وہ قومی یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور سیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔

دوسری جانب رانا ثناء اللہ نے بھی اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کی حکمت عملی واضح ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کارروائیوں کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے اور امن بحال ہو جائے گا۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے کچھ وقت درکار ہوتا ہے، تاہم حکومت اس معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ان علاقوں میں امن کا قیام چند ہفتوں یا مہینوں کی بات ہے۔

حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے بیانات حقائق کے برعکس ہیں اور ان کا مقصد صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر سیاسی جماعتوں کے درمیان بحث و مباحثہ جاری ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن مکمل طور پر شفاف ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف شہریوں کا تحفظ ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ صورتحال میں قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ سیکیورٹی اداروں کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ ہو۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے بیان کو برداشت نہیں کرے گی جو قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف ہو۔ تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ملکی مفاد کو اپنی سیاست پر ترجیح دیں اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں۔

آخر میں حذیفہ رحمان نے کہا کہ حکومت ملک میں استحکام کے لیے پرعزم ہے اور تمام تر مشکلات کے باوجود دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور ریاستی اداروں پر اعتماد رکھیں۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں