اسلام آباد میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا نے شہریوں کی سہولت کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ٹریکنگ آئی ڈی گم جانے کی صورت میں شناختی کارڈ کا اسٹیٹس معلوم کرنے کا آسان طریقہ بتا دیا ہے۔ ترجمان نادرا کے مطابق اکثر شہریوں کا ٹوکن گم ہوجاتا ہے یا ٹریکنگ آئی ڈی ذہن سے نکل جاتی ہے جس کی وجہ سے انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس حوالے سے نادرا پوڈ کاسٹ میں ادارے کے ترجمان سید شباہت علی نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اب شہریوں کو اس حوالے سے بالکل بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کی ٹریکنگ آئی ڈی ضائع ہو جائے تو وہ انتہائی آسانی سے اپنے شناختی کارڈ نمبر کی مدد سے متعلقہ معلومات حاصل کر سکتا ہے۔
ترجمان نادرا نے واضح کیا کہ جن شہریوں کے پاس ان کا شناختی کارڈ نمبر موجود ہے وہ اپنے موبائل فون سے صرف ایک مخصوص نمبر پر رابطہ کرکے اپنی درخواست کی صورتحال معلوم کرسکتے ہیں۔ نادرا کی اس سہولت سے عوام کو دفاتر کے چکر کاٹنے اور طویل قطاروں میں کھڑے ہونے کی زحمت سے نجات مل جائے گی۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے موبائل فون سے 1777 ڈائل کریں جس کے ذریعے وہ براہ راست نادرا کے کسٹمر سروس ایجنٹ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ کال ملانے کے بعد شہری کو صرف اپنا شناختی کارڈ نمبر اور مطلوبہ دستاویز کی قسم بتانا ہوگی۔
کسٹمر سروس ایجنٹ شہری کی جانب سے فراہم کردہ شناختی کارڈ نمبر کی تصدیق کرنے کے بعد درخواست کی موجودہ پوزیشن سے آگاہ کر دے گا۔ یہ سروس شہریوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی جن کے ٹوکن یا پرچیاں گھر سے کہیں گم ہو جاتی ہیں یا جن کے نمبر مٹ جاتے ہیں۔
نادرا حکام کے مطابق اس سروس کے ذریعے نہ صرف شناختی کارڈ بلکہ بچوں کے چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ یعنی ب فارم، فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ، کارڈ کی نئی کاپی اور پاکستان اوریجن کارڈ کی درخواست کا اسٹیٹس بھی معلوم کیا جا سکتا ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ ادارے کا مقصد ہمیشہ سے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے اور اس طرح کے اقدامات کا مقصد بھی شہریوں کے مسائل کو کم کرنا ہے۔ ٹیکنالوجی کے دور میں اس نوعیت کی سہولیات سے عام آدمی کی زندگی میں نمایاں آسانی پیدا ہوتی ہے۔
دوسری جانب نادرا نے شہریوں کو ایک اہم تنبیہ بھی جاری کی ہے جس کے مطابق تیار شدہ شناختی کارڈز یا دیگر دستاویزات کو طویل عرصے تک مراکز پر محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔ ادارے کے قواعد و ضوابط کے مطابق یہ دستاویزات ایک مخصوص مدت تک ہی نادرا مراکز میں رکھی جاتی ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ اگر کوئی شہری درخواست دینے کے بعد تین ماہ کے اندر اپنا شناختی کارڈ یا متعلقہ دستاویز متعلقہ مرکز سے وصول نہیں کرتا تو اسے ضابطے کے تحت تلف کر دیا جاتا ہے۔ تین ماہ کی مدت گزرنے کے بعد غیر کلیم شدہ کارڈز کو ضائع کرنا سیکیورٹی اور انتظامی پالیسی کا حصہ ہے۔
نادرا نے تمام شہریوں کو پرزور مشورہ دیا ہے کہ وہ شناختی کارڈ یا کسی بھی سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دینے کے بعد بروقت متعلقہ مرکز کا رخ کریں اور اپنا تیار شدہ کارڈ جلد از جلد وصول کر لیں۔ اس احتیاطی تدبیر سے شہری بعد میں پیش آنے والی غیر ضروری پریشانیوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
ادارے کا ماننا ہے کہ بروقت کارڈ وصول نہ کرنے سے شہریوں کو دوبارہ نئی درخواست دینے کی زحمت اٹھانی پڑتی ہے جس سے وقت اور مالی وسائل دونوں کا ضیاع ہوتا ہے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ مقررہ وقت کے اندر دستاویزات حاصل کر لی جائیں تاکہ کسی قسم کے قانونی یا انتظامی مسائل کا سامنا نہ ہو۔
حکومت اور متعلقہ ادارے عوام کو ڈیجیٹل اور آسان خدمات فراہم کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں تاکہ ہر شہری بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے بنیادی دستاویزی امور انجام دے سکے۔ نادرا کی ہیلپ لائن اور پوڈ کاسٹ کا مقصد بھی عوام میں اس نوعیت کی مفید معلومات عام کرنا ہے۔
شہری اس ہیلپ لائن کے ذریعے ملک بھر سے کسی بھی وقت اپنے معاملات کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتے ہیں اور نادرا کے نمائندے اس حوالے سے ان کی مکمل رہنمائی کرتے ہیں۔ اس اقدام سے نہ صرف ادارے پر بوجھ کم ہوگا بلکہ عوام کے قیمتی وقت کی بھی بچت ہوگی۔





اپنی رائے دیں