مواد پر جائیں
جمعہ، 23 اکتوبر 2026 12 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 11:18
بریکنگ
گوادر میں دہشت گردی کی بڑی کوشش ناکام، خاتون سمیت 10 دہشت گرد ہلاکلسبیلہ میں کوچ اور وین میں خوفناک تصادم، 12 افراد جاں بحقراولپنڈی: گھر سے دو خواتین کی تشدد زدہ لاشیں برآمد، مقدمہ درجوفاق کا خیبرپختونخوا کیلئے 160 ارب روپے کے فنڈز کی فراہمی کا وعدہدہشت گردوں کو ہر جگہ نشانہ بنائیں گے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیرپاکستانی نژاد ہارٹ سرجن ڈاکٹر آصف حسن کو برطانیہ کا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ مل گیااداکارہ ایمن سلیم نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیاٹریکنگ آئی ڈی گم ہونے پر شناختی کارڈ کا اسٹیٹس جاننے کا آسان طریقہ متعارفپیٹرول پمپ مالکان کا ڈیلی پرائس میکانزم پر تحفظات کا اظہارپیٹرول پمپ ملازم پر تشدد، مریم نواز نے ملزم کی گرفتاری کی ویڈیو شیئر کر دیملک کے مختلف حصوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئیچیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی قذافی اسٹیڈیم آمد، کھلاڑیوں سے ملاقاتسندھ میں منکی پاکس کے مریضوں کی تعداد 98 تک پہنچ گئیجامعہ کراچی میں تقریبات کے انعقاد سے قبل وائس چانسلر کی اجازت لازمی قرارلاہور میں سی سی ڈی اہلکار کی لڑکی سے مبینہ زیادتی اور ویڈیو بنانے کا مقدمہ درجاین سی سی آئی اے ملتان اور ساہیوال میں نئے افسران تعیناتوزن گھٹانے والی ادویات کے استعمال سے امریکی درزیوں اور موچیوں کا کاروبار چمک اٹھااسحاق ڈار کی استنبول میں آر فور اجلاس میں علاقائی امن کیلئے سفارتی کوششوں پر بریفنگبرازیل: والد کی قبر پر بیٹھنے والا بیٹا ڈھانچہ ٹوٹنے سے قبر میں گر کر جاں بحقاستنبول میں آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس، علاقائی امن پر زور
جرم و سزا

لاہور میں سی سی ڈی اہلکار کی لڑکی سے مبینہ زیادتی اور ویڈیو بنانے کا مقدمہ درج

متاثرہ لڑکی کی مدعیت میں تھانہ کاہنہ میں مقدمہ درج کر لیا گیا، ڈی آئی جی آپریشنز نے نوٹس لیا۔

لاہور میں سی سی ڈی اہلکار کی لڑکی سے مبینہ زیادتی اور ویڈیو بنانے کا مقدمہ درج

لاہور کے علاقے کاہنہ میں کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے ایک اہلکار کی جانب سے لڑکی کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور اس کی نازیبا ویڈیو تیار کرنے کا ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ واقعے کے بعد پولیس نے متاثرہ لڑکی کی مدعیت میں فوری طور پر مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ صوبائی دارالحکومت لاہور کے مضافاتی علاقے میں پیش آیا جہاں قانون کے محافظ ادارے کے ہی ایک فرد پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس گھناؤنے فعل میں ملوث ملزم کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور کسی بھی سطح پر رعایت نہیں برتی جائے گی۔

ابتدائی معلومات کے مطابق کوٹ لکھپت کی رہائشی متاثرہ لڑکی کا موبائل فون یکم اکتوبر کے روز کاہنہ بازار سے گم ہو گیا تھا جس کے بعد وہ اپنی گمشدگی کی رپورٹ درج کروانے اور مدد کے حصول کے لیے تھانہ کاہنہ پہنچی تھی۔ اسی دوران اس کی ملاقات محمد شبیر نامی سی سی ڈی کے اہلکار سے ہوئی جس نے مبینہ طور پر اس کے فون نمبر کا تبادلہ کیا اور بعد میں رابطہ کیا۔

متاثرہ لڑکی کی طرف سے درج کروائی گئی ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزم محمد شبیر نے اسے فون کر کے بتایا کہ اس کا گم شدہ موبائل فون ٹریس ہو چکا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے ایک مخصوص مقام پر پہنچ جائے۔ اس خبر سے خوش ہو کر لڑکی بتائے گئے مقام پر پہنچ گئی جہاں ملزم اسے ایک نامعلوم خاتون کے گھر لے گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق سی سی ڈی اہلکار نے وہاں پہنچ کر مبینہ طور پر اسلحہ نکالا اور خوفزدہ کر کے لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس دوران درندہ صفت اہلکار نے نہ صرف اس گھناؤنے فعل کا ارتکاب کیا بلکہ متاثرہ لڑکی کی انتہائی نازیبا ویڈیوز بھی اپنے موبائل فون میں ریکارڈ کر لیں تاکہ اسے بلیک میل کیا جا سکے۔

متاثرہ لڑکی نے اپنی درخواست میں مزید انکشاف کیا ہے کہ ملزم محمد شبیر نے اس کو محض ایک بار ہی نہیں بلکہ دس اکتوبر کو دوبارہ اسی خاتون کے گھر طلب کیا اور بلیک میلنگ کے ذریعے دوبارہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس مسلسل جبر اور دھمکیوں سے تنگ آ کر متاثرہ لڑکی نے جرات کا مظاہرہ کیا اور اعلیٰ حکام تک رسائی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔

واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے متاثرہ لڑکی نے لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے دفتر کا رخ کیا اور اپنی کچہری میں پیش ہو کر تمام روداد سنائی۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے اس درخواست پر فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ پولیس حکام کو فوری کارروائی اور انصاف فراہم کرنے کی سخت ہدایات جاری کیں جس کے بعد قانونی عملتی شروع ہوئی۔

ڈی آئی جی آپریشنز کی ہدایت پر تھانہ کاہنہ میں سی سی ڈی اہلکار محمد شبیر کے خلاف باقاعدہ طور پر تعزیرات پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے اعلیٰ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کی شفاف تفتیش کی جائے گی اور تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ ملزم کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔

معاشرے میں اس قسم کے واقعات پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور عوامی حلقوں کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں کالی بھیڑوں کے خلاف سخت ترین تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ محافظوں کا اس طرح جرائم میں ملوث ہونا پورے ادارے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق محکمہ اپنے کسی بھی اہلکار کی جانب سے غیر قانونی یا مجرمانہ سرگرمیوں کی ہرگز پشت پناہی نہیں کرتا اور قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ محکمہ جاتی تحقیقات بھی شروع کی جا رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ملزم نے اس سے پہلے اس قسم کے کتنے جرائم میں اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا ہے۔

متاثرہ لڑکی کو اس وقت پولیس کی جانب سے تحفظ فراہم کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں جبکہ میڈیکل اور دیگر قانونی تقاضے بھی پورے کیے جا رہے ہیں۔ عدالتی اور پولیس کارروائی کے دوران متاثرہ کو ہر ممکن انصاف دلانے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے تاکہ وہ بغیر کسی خوف کے اپنے بیان پر قائم رہ سکے۔

ماہرین قانون کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب قانون کا نفاذ کرنے والا ادارہ خود اس طرح کے سنگین جرائم میں ملوث ہو جائے تو شہریوں کا نظام انصاف سے اعتماد متزلزل ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ لہذا اس کیس میں جتنی جلدی اور شفافیت سے کارروائی ہو گی، اتنا ہی عوام کا اداروں پر اعتماد بحال رہے گا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور اسے جلد ہی حراست میں لے کر عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ قانون کے مطابق ملزم کو اس کے مکروہ فعل کی سزا دلوانے کے لیے تمام دستتاویزات اور ڈیجیٹل شواہد کو عدالت میں پیش کیا جائے گا جن میں مبینہ ویڈیو بھی شامل ہے۔

شہر بھر میں اس واقعے پر وکلا، حقوق نسواں کی تنظیموں اور عام شہریوں کی طرف سے شدید مذمت کی جا رہی ہے اور ایسے عناصر کے خلاف زیرو ٹالیرنس پالیسین اپنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ پولیس اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچائے گی تاکہ آئندہ کوئی اس قسم کی جرات نہ کر سکے۔

جرم و سزا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں