جامعہ کراچی میں تعلیمی اور انتظامی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں جن کا مقصد اداروں کے اندر نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اس فیصلے کے تحت اب کیمپس کی حد تک ہر قسم کی تقریبات کے انعقاد کے لیے ضابطہ کار کو سخت کر دیا گیا ہے۔
یونیورسٹی آف کراچی کے رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر عمران احمد صدیقی کی جانب سے باضابطہ طور پر ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس میں تمام متعلقہ شعبہ جات کو نئی پالیسی سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ کیمپس میں کسی بھی قسم کے پروگرام یا تقریب کی اجازت کے بغیر منعقد کرنے پر پابندی ہوگی۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق جامعہ کراچی کے اندر کسی بھی پروگرام، سیمینار، کانفرنس یا دیگر تقریبات کے انعقاد سے قبل وائس چانسلر سے پیشگی اجازت حاصل کرنا اب لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ اجازت باقاعدہ طور پر رجسٹرار آفس کے توسط سے حاصل کی جائے گی۔
جامعہ کراچی کے اس نئے حکم نامے کا اطلاق یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات، ڈینز، ڈائریکٹرز، چیئرپرسنز، انچارجز اور تمام سیکشنل ہیڈز پر یکساں طور پر ہوگا اور سب کو ان ہدایات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ تقریب کے انعقاد کے خواہش مند تمام متعلقہ شعبہ جات کو اپنی درخواست تجویز کردہ پروگرام کی تاریخ سے کم از کم پندرہ دن قبل جمع کروانا ہوگی تاکہ تمام امور کا وقت پر جائزہ لیا جا سکے۔
درخواست کے ساتھ پروگرام کی مکمل تفصیلات، مقررہ پروفارمہ اور اس سے متعلقہ تمام معاون دستاویزات منسلک کرنا لازمی قرار دی گئی ہیں تاکہ مجاز اتھارٹی کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔ کسی بھی پیشگی منظوری کے بغیر کسی تقریب کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مجاز اتھارٹی سے بذریعہ رجسٹرار پیشگی منظوری حاصل کیے بغیر کیمپس کے اندر کوئی بھی تقریب منعقد کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی اور تمام شعبے اس کے پابند ہوں گے۔
مہمانِ خصوصی اور معزز شخصیات کی دعوت کے حوالے سے بھی سخت ضابطہ کار طے کر دیا گیا ہے جس کے تحت کسی بھی وزیر، معزز شخصیت یا دیگر اہم مہمان کو براہ راست دعوت نامے نہیں بھیجے جا سکتے ہیں۔
اعلامیے کے مطابق تمام مہمانِ خصوصی یا اہم شخصیات کو دعوت نامے صرف جامعہ کراچی کے رجسٹرار آفس کی جانب سے ہی جاری کیے جائیں گے، جو کہ متعلقہ شعبے یا سیکشن کی درخواست پر مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
شعبہ جات یا مختلف سیکشنز خود سے کسی بھی مہمان کو براہ راست دعوت نامہ ارسال کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے اور اس حوالے سے تمام تر کارروائی صرف مرکزی دفتر کے ذریعے ہی عمل میں لائی جائے گی۔
یونیورسٹی کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ان ہدایات کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ لیا جائے گا اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جامعہ کے مروجہ قوانین اور ضوابط کے تحت سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ آئندہ کے لیے اس قسم کی کوتاہی سے بچا جا سکے۔
تمام متعلقہ افراد اور شعبہ جات کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان نئی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ جامعہ کا انتظامی امور احسن طریقے سے چلتا رہے اور کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔





اپنی رائے دیں