وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری کوششیں بار آور ثابت ہوں گی اور چند ہفتوں یا مہینوں میں حالات معمول پر آ جائیں گے۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے دہشت گردوں کی تعداد اور ان کے ٹھکانوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ دہشت گردوں کے چھوٹے گروہ تین سے پندرہ افراد پر مشتمل ہیں جو مقامی آبادیوں میں گھل مل کر رہ رہے ہیں۔ ان علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشنز جاری ہیں۔
انہوں نے مقامی آبادی پر زور دیا کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ اگر مقامی لوگ دہشت گردوں کو نکالنے میں مدد نہیں کرتے تو آپریشن کے دوران مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
مشیر برائے سیاسی امور نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں موجودہ انتظامی سیٹ اپ کی اولین ترجیح امن کا قیام ہے۔ صوبائی حکومت کے تعاون سے دہشت گردی کے خاتمے کا ہدف حاصل کرنا اب ممکن نظر آتا ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے اور جنگ میں پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتیں حکومت کا ساتھ دیں گی۔ قومی یکجہتی سے ہی ان چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے بارہ اضلاع کے مالی معاملات کو وفاق کے زیر انتظام لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیکیورٹی اور انتظامی امور کو بہتر بنایا جا سکے۔ یہ اقدام امن کی بحالی کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں صوبائی حکومت کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون نہ کرنے کے باعث مشکلات پیش آئیں۔ اب گورنر کی زیر نگرانی نیا سیٹ اپ پوری طرح متحرک اور تعاون کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہونے کے بعد خیبر پختونخوا میں معمول کی زندگی بحال ہو جائے گی۔ حکومت اس عزم پر کاربند ہے کہ ریاست کی رٹ کو ہر صورت قائم رکھا جائے گا اور عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔ اگر وہ وزیراعظم ہاؤس آتے ہیں تو ان کا خیرمقدم کیا جائے گا اور ملکی مسائل پر بات چیت کی جائے گی۔
رانا ثناء اللہ نے محمود خان اچکزئی کے حوالے سے کہا کہ وہ ان کا احترام کرتے ہیں اور وہ ان کے لیے بھائیوں کی طرح ہیں۔ تاہم سیاسی قیادت کو ضد کے بجائے ملکی مفاد میں بات چیت کا راستہ اپنانا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا نہیں بلکہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالنا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام اسٹیک ہولڈرز کا کردار انتہائی اہم ہے۔
حکومت کی جانب سے انٹیلی جنس اداروں کی ورکنگ کو پرفیکٹ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔ امن کا قیام ہی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔





اپنی رائے دیں