لاہور کے صوبائی دارالحکومت میں بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے المناک واقعات میں ایک اور افسوسناک باب کا اضافہ ہو گیا ہے جہاں گارڈن ٹاؤن کے ایک رہائشی علاقے میں نو سالہ معصوم گھریلو ملازمہ کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس گھناؤنے واقعے کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ نے تمام ظالمانہ حقائق کو بے نقاب کر دیا ہے اور پولیس نے اس معاملے پر فوری طور پر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
معاشرے کے اندر کم عمر بچوں کو گھریلو ملازم کے طور پر رکھنے اور پھر ان پر روا رکھے جانے والے مظالم ایک سنگین المیہ بن چکے ہیں جو انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین مثال پیش کرتے ہیں۔ گارڈن ٹاؤن میں پیش آنے والے اس واقعے نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ ہمارے ہاں غریب طبقے کے بچے کس قدر بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
پولیس حکام کو موصول ہونے والی ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق نو سالہ متاثرہ بچی کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات پائے گئے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسے بے دردی سے مارا پیٹا گیا۔ رپورٹ میں طبی ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ بچی کی کمر پر تشدد کے گہرے نشانات موجود ہیں جو اس کی کم عمر اور نازک جسم پر ہونے والے ظلم کی کہانی بیان کرتے ہیں۔
میڈیکل رپورٹ کے مزید انکشافات کے مطابق بچی کی کہنی اور چہرے پر بھی تشدد کے نشانات نمایاں طور پر دیکھے گئے ہیں جہاں بائیں یا دائیں آنکھ کے قریب شدید سوجن پائی گئی ہے۔ اس معصوم بچی کے جسم کے دیگر حصوں پر بھی ڈنڈوں یا دیگر اشیاء سے ضرب لگائے جانے کے آثار موجود ہیں جو اس کے مالکان کی سنگدلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
طبی معائنے کے دوران یہ اہم ترین نکتہ بھی سامنے آیا ہے کہ بچی کے جسم پر موجود یہ سوجن اور زخم تقریباً ایک دن پرانے ہیں جس کا مطلب ہے کہ یہ بہیمانہ تشدد حال ہی میں کیا گیا۔ معصوم بچی پر یہ ظلم ڈھائے جانے کے بعد اسے گھر کے اندر ہی یا تو دباؤ میں رکھا گیا یا کسی کو بتانے سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا۔
اس دلخراش واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس کے اعلیٰ حکام اور تفتیشی ٹیمیں فوری طور پر حرکت میں آ گئیں اور انہوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ کو اس کیس میں ایک بنیادی اور مصدقہ دستاویز کے طور پر شامل کر لیا گیا ہے جس کی روشنی میں مقدمے کی تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ قانون کے مطابق اس گھناؤنے جرم میں ملوث افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ اس قسم کے مجرمانہ رویوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ ریاست اس بات کی پابند ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں خصوصاً کم سن اور بے سہارا بچوں کے بنیادی حقوق اور جان و مال کا بھرپور تحفظ یقینی بنائے۔
معاشرتی تنظیموں اور چائلڈ رائٹس کے کارکنوں نے اس لرزہ خیز واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ گھریلو ملازمین کے طور پر کام کرنے والے بچوں کے تحفظ کے لیے وضع کردہ قوانین پر من و عن عمل درآمد کیا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان ظالم مالکان کو کڑی سزائیں نہیں دی جائیں گی اس وقت تک اس قسم کے جرائم کا سلسلہ رک نہیں سکتا۔
شہر لاہور میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے ض ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو مزید متحرک ہونے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی بھی شخص کم عمر بچوں پر ہاتھ اٹھانے کی جرأت نہ کر سکے۔ غریب والدین مجبوری کے تحت اپنے بچوں کو شہروں میں بھیجتے ہیں جہاں انہیں بہتر مستقبل کا خواب دکھایا جاتا ہے لیکن وہ ایسے درندوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور بچی کے بیانات کے ساتھ ساتھ میڈیکل رپورٹ کے تمام طبی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم اس امر کا بھی پتہ لگا رہی ہے کہ آیا اس گھر میں اس بچی کے علاوہ کوئی اور ملازم بچہ بھی کام کرتا تھا یا نہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کا عزم ہے کہ اس معاملے کو اس کے انجام تک پہنچایا جائے گا اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لا کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ عوام کی جانب سے بھی اس واقعے پر شدید مذمت کی جا رہی ہے اور سوشل میڈیا سمیت ہر فورم پر اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے۔
حکومت اور متعلقہ محکموں کی طرف سے بھی اس طرح کے واقعات پر نوٹس لینے کا سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن عملی طور پر زمینی حقائق کو تبدیل کرنے کے لیے سخت قانون سازی اور اس پر سختی سے عمل درآمد کی اشد ضرورت ہے۔ گارڈن ٹاؤن کا یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ گھریلو ملازمین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ابتدائی میڈیکل رپورٹ سامنے آنے کے بعد اب پولیس اس قابل ہو گئی ہے کہ وہ عدلیہ میں مضبوط شواہد کے ساتھ کیس پیش کرے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے۔ قانون کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ معصوم بچی کو انصاف فراہم کرنے کے لیے جلد ہی اہم پیش رفت سامنے آئے گی۔





اپنی رائے دیں