خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایران نے اپنی دفاعی حکمت عملی کو مزید واضح کر دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق، ایرانی حکام نے کسی بھی ممکنہ فوجی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے ایران پر دوبارہ حملہ کیا تو اس کا ردعمل انتہائی سخت ہوگا۔ اس منصوبے کے تحت خلیجی ممالک کے زیرِ سمندر موجود اہم انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ایران آبنائے ہرمز کے نیچے بچھائی گئی سات بڑی انٹرنیٹ کیبلز کو اپنے اہداف میں شامل کر سکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں مواصلاتی نظام کو شدید متاثر کرنا اور جارح قوتوں کو براہِ راست نقصان پہنچانا ہے۔
اس کے علاوہ، ایرانی عسکری قیادت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی صورت میں ان کے خفیہ فوجی اڈے بھی ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں ہوں گے۔ یہ انتباہ خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
ایران نے حال ہی میں اپنی ملٹری ڈرون صلاحیتوں میں غیر معمولی اضافے کا بھی مظاہرہ کیا ہے۔ سرکاری ٹی وی پر دکھائی گئی فوٹیج میں جدید ڈرون فیکٹریوں اور بڑی تعداد میں تیار شدہ ڈرونز کے ذخائر کو دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔
ایرانی آرمی چیف جنرل امیر حاتمی نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اب کسی بھی قسم کی غیر روایتی جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے کی دھمکی عالمی مواصلاتی نیٹ ورک کے لیے ایک بڑا خطرہ ہو سکتی ہے۔ اس طرح کا کوئی بھی اقدام نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر انٹرنیٹ اور ڈیٹا ٹریفک کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔
دوسری جانب، خطے کے ممالک اور عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایران کا یہ موقف سامنے آنے کے بعد خلیجی خطے میں سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے اور سفارتی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ایران کا یہ دفاعی منصوبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں پہلے ہی تناؤ کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ مختلف ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خطے میں کسی بھی وقت صورتحال کے بگڑنے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، یہ اقدامات ایران کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ ایران نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر مسلح اور پرعزم ہے، چاہے وہ کسی بھی نوعیت کی ہو۔
عالمی برادری کی جانب سے فریقین پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ کسی بھی بڑی جنگی تباہی سے بچا جا سکے جو عالمی معیشت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
ایران کے ڈرون پروگرام اور اس کی عسکری صلاحیتوں میں حالیہ اضافہ بین الاقوامی مبصرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایران کا عزم ہے کہ وہ اپنی دفاعی ٹیکنالوجی کو جدید خطوط پر استوار کر کے اپنے دفاع کو مزید مضبوط بنائے۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں ایران کے اس انتباہ کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فی الحال، ایران کی جانب سے اپنی عسکری تیاریوں کا مظاہرہ ایک واضح پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔





اپنی رائے دیں