مواد پر جائیں
ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 13 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 4:17
بریکنگ
پاک بھارت جنگ رکوانا میرے لیے اعزاز ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰایران کا کسی بھی جارحیت کی صورت میں زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے کا انتباہاردن کے علاقے کرک میں چرچ پر حملہ، جنازے کے دوران فائرنگ سے 7 افراد جاں بحقلاہور: مزنگ میں طالبہ پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتار، مقدمہ درجماسکو: ڈرون حملوں کے خطرے کے باعث فضائی آپریشن متاثر، پابندیاں ختمحکومت نے پیٹرول کی قیمت برقرار، ڈیزل مہنگا کر دیاملتان: شوہر اور بچوں کے ہمراہ سفر کرنے والی خاتون سے زیادتی کا واقعہروس اور یوکرین کے درمیان 540 جنگی قیدیوں کا تبادلہمغربی ممالک میں مظاہرین احتساب کے مطالبے پر قائم رہیں: باقر قالیبافمشرقِ وسطیٰ میں نئی سکیورٹی ساخت: ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کا مکہ اتحادبرفانی چیتے کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے: عطا تارڑآر فور ممالک کا اجلاس، سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہدانتوں کی صحت: صرف برش کرنا کافی نہیں، متوازن غذا کا انتخاب بھی ناگزیربولیویا میں مالک کی وفاداری میں برسوں سے اسپتال کے باہر بیٹھا مرغاپاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی فلو ویکسین کی عدم دستیابی کا معاملہسعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان جنرل اتھارٹی فار ڈیفنس ڈویلپمنٹ کے چیئرمین مقررپریانکا چوپڑا نے سیف علی خان کی نئی فلم سے کنارہ کشی اختیار کر لیپاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافے کیلئے ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر توجہ ناگزیرکراچی میں گدھوں کی آڑ میں چھالیہ کی اسمگلنگ کی کوشش ناکامفرانس میں ہنگاموں کے باعث پیرس سینٹ جرمین اور لیون کا میچ ملتوی
دنیا بریکنگ نیوز

ایران کا کسی بھی جارحیت کی صورت میں زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے کا انتباہ

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے حملے کی صورت میں خلیجی ممالک کی انٹرنیٹ کیبلز ہدف بن سکتی ہیں۔

ایران کا کسی بھی جارحیت کی صورت میں زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے کا انتباہ

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایران نے اپنی دفاعی حکمت عملی کو مزید واضح کر دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق، ایرانی حکام نے کسی بھی ممکنہ فوجی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے ایران پر دوبارہ حملہ کیا تو اس کا ردعمل انتہائی سخت ہوگا۔ اس منصوبے کے تحت خلیجی ممالک کے زیرِ سمندر موجود اہم انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق، ایران آبنائے ہرمز کے نیچے بچھائی گئی سات بڑی انٹرنیٹ کیبلز کو اپنے اہداف میں شامل کر سکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں مواصلاتی نظام کو شدید متاثر کرنا اور جارح قوتوں کو براہِ راست نقصان پہنچانا ہے۔

اس کے علاوہ، ایرانی عسکری قیادت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی صورت میں ان کے خفیہ فوجی اڈے بھی ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں ہوں گے۔ یہ انتباہ خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

ایران نے حال ہی میں اپنی ملٹری ڈرون صلاحیتوں میں غیر معمولی اضافے کا بھی مظاہرہ کیا ہے۔ سرکاری ٹی وی پر دکھائی گئی فوٹیج میں جدید ڈرون فیکٹریوں اور بڑی تعداد میں تیار شدہ ڈرونز کے ذخائر کو دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔

ایرانی آرمی چیف جنرل امیر حاتمی نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اب کسی بھی قسم کی غیر روایتی جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے کی دھمکی عالمی مواصلاتی نیٹ ورک کے لیے ایک بڑا خطرہ ہو سکتی ہے۔ اس طرح کا کوئی بھی اقدام نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر انٹرنیٹ اور ڈیٹا ٹریفک کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔

دوسری جانب، خطے کے ممالک اور عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایران کا یہ موقف سامنے آنے کے بعد خلیجی خطے میں سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے اور سفارتی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ایران کا یہ دفاعی منصوبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں پہلے ہی تناؤ کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ مختلف ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خطے میں کسی بھی وقت صورتحال کے بگڑنے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، یہ اقدامات ایران کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ ایران نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر مسلح اور پرعزم ہے، چاہے وہ کسی بھی نوعیت کی ہو۔

عالمی برادری کی جانب سے فریقین پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ کسی بھی بڑی جنگی تباہی سے بچا جا سکے جو عالمی معیشت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

ایران کے ڈرون پروگرام اور اس کی عسکری صلاحیتوں میں حالیہ اضافہ بین الاقوامی مبصرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایران کا عزم ہے کہ وہ اپنی دفاعی ٹیکنالوجی کو جدید خطوط پر استوار کر کے اپنے دفاع کو مزید مضبوط بنائے۔

آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں ایران کے اس انتباہ کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فی الحال، ایران کی جانب سے اپنی عسکری تیاریوں کا مظاہرہ ایک واضح پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں