ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے ہفتے کے روز اسلام آباد میں میڈیا سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے کوئی بھی خفیہ نکات یا دفعات موجود ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے اس اہم معاہدے کے تمام معاملات بالکل روشن اور آشکار ہیں۔
ترجمان نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مزید بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے مکہ معاہدے کی توثیق کے تمام ضروری قانونی، آئینی اور سفارتی مراحل انتہائی احسن طریقے سے مکمل کر لیے ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی اور تزویراتی تعاون کا دائرہ کار مزید وسیع ہو چکا ہے جو خطے کے امن کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے ترک پارلیمان میں اس حوالے سے ہونے والی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ترک پارلیمان میں پیش ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کی جاتی ہے اور تمام متعلقہ فریقین اس عمل میں مکمل طور پر شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت طے پانے والے اصولوں اور ضوابط کو دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے باضابطہ طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کا جو بھی مسودہ اس وقت باہر آچکا ہے اور دنیا کے سامنے آچکا ہے، ہم اسی کو سرکاری طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ ترجمان نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق اور منظوری دینے کا ہر ملک کا اپنا الگ آئینی اور قانونی طریقہ کار ہوتا ہے جس کے تحت تمام امور طے پاتے ہیں۔
بھارت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کی کہ فالس فلیگ آپریشن ہمیشہ سے بھارتی ریاستی پالیسی اور پرانی روایت رہا ہے جس کا مقصد خطے کا امن تباہ کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس قسم کے ہتھکنڈوں سے خطے کی صورتحال کو خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی اور پاکستان اس حوالے سے پوری طرح ہوشیار ہے۔
ترجمان نے پریس کانفرنس میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستانی سکیورٹی ادارے اور مسلح افواج کسی بھی ممکنہ بھارتی فالس فلیگ آپریشن کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہر وقت پوری طرح تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرحدوں اور جغرافیائی خودمختاری کے دفاع کے لیے تمام حفاظتی انتظامات مکمل ہیں اور دشمن کے کسی بھی ناپاک عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
استنبول میں منعقد ہونے والے حالیہ اہم اجلاس کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ اجلاس میں شریک آر فور ممالک نے سعودی عرب کی سلامتی پر ہونے والے حوثی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اجلاس کے تمام شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس نوعیت کے حملے ناقابل قبول ہیں اور خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
اجلاس کے شرکا نے حوثی تنظیم سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی تمام فوجی کارروائیاں اور میزائل و ڈرون حملے بند کر دے تاکہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ اس کے علاوہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے غزہ میں بلا تعطل انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق استنبول اجلاس کے شرکا نے مشرق وسطیٰ کے دیرینہ تنازع کے منصفانہ حل کے لیے دو ریاستی حل پر زور دیا جو کہ خطے میں دیرینہ امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں تاکہ مظلوم فلسطینی عوام کو ان کے بنیادی حقوق مل سکیں۔
ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی تمام شقیں اور دفعات کسی بھی تیسرے ملک کے خلاف ہرگز نہیں ہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد صرف اور صرف باہمی مشترکہ دفاع ہے۔ یہ معاہدہ خطے میں کسی کے خلاف جارحیت کے لیے نہیں بلکہ دفاعی صلاحیتوں کو مربوط بنانے کے لیے طے پایا ہے تاکہ امن و امان کی فضا برقرار رہے۔
اس اہم معاہدے کی روح کے مطابق کسی بھی ایک رکن ملک پر ہونے والا بیرونی حملہ معاہدے میں شامل دیگر تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا جو کہ اجتماعی دفاع کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اجتماعی دفاعی فلسفہ خطے میں کسی بھی ممکنہ بیرونی خطرے کے خلاف ایک مضبوط ڈھال کا کردار ادا کرے گا اور جارحین کو روکے گا۔
یہ معاہدہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان تاریخی، دفاعی اور تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی سمت میں ایک انتہائی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں اور وقت کے ہر امتحان پر پورے اترے ہیں، اور ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے پریس کانفرنس کے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے اور دنیا بھر میں امن و امان کے فروغ کے لیے اپنی تمام تر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے لیکن اپنی جغرافیائی حدود اور دفاع کے تحفظ کے لیے بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور کسی بھی جارحیت کا جواب دینے سے گریز نہیں کرے گا۔





اپنی رائے دیں