امریکا میں حال ہی میں منعقد ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں سال 2020 کے بعد ایک ہفتے کے دوران سب سے بڑی کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کو انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے بعد سیاسی منظر نامے میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہیں۔
اس سیاسی تبدیلی کے بعد ایران کے ساتھ جنگ کے خدشات میں کمی اور مصالحت کی نئی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملے بدستور خام تیل کی قیمتوں کو ایک خاص سطح سے نیچے گرنے سے روکنے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں جاری اتار چڑھاؤ کے دوران جنوری کے لیے برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں 26 سینٹ کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد یہ 98.55 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں بھی 57 سینٹ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ 91.09 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد سے تجاوز کر گئی تھی، جس کے بعد موجودہ صورتحال کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔
امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے اثرات صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ وہاں کی اسٹاک مارکیٹ میں بھی مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
علاوہ ازیں، عالمی منڈی میں قیمتوں کے تعین کے حوالے سے سرمایہ کاروں کی نظریں اب امریکی سیاسی قیادت کے آئندہ کے اقدامات پر لگی ہوئی ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے باوجود، مارکیٹ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات میں بہتری کے امکانات قیمتوں کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
مستقبل کے سودوں میں ہونے والی یہ تبدیلیاں اس بات کی عکاس ہیں کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی طلب اور رسد کا توازن سیاسی حالات کے زیر اثر ہے۔
عالمی مارکیٹ کے شرکاء اب مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال اور امریکی پالیسیوں میں ممکنہ تبدیلیوں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں تاکہ قیمتوں کے مستقبل کے رجحان کا تعین کیا جا سکے۔


اپنی رائے دیں