وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نے عالمی اور سفارتی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرتے ہوئے اسلامی دنیا کو نئی راہ دکھائی ہے۔ کسی ملک کی حقیقی حفاظت غیر ملکی اڈوں کے بجائے اپنے دست و بازو اور قومی صلاحیتوں پر منحصر ہوتی ہے، جبکہ سمندر پار اڈے صیہونی ریاست کی حفاظت اور ذاتی مفادات کے لیے بنائے گئے ہیں۔
سیالکوٹ میں یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوان ملکی ترقی و خوشحالی میں بنیادی اور اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
خواجہ آصف نے سفارتی امور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام، خاص طور پر ایران اور عرب ممالک کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں عسکری اور سفارتی کامیابیوں کا سفر مسلسل جاری ہے اور پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دے کر اپنا لوہا منوایا ہے۔
اپنے 36 سالہ سیاسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے وزیر دفاع نے بتایا کہ انہوں نے اپنے دورِ سیاست میں سختیاں اور قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتقامی سیاست کبھی ملک کے مفاد میں نہیں ہوتی اور تمام اداروں کو اپنا احتساب خود کرنا چاہیے۔





اپنی رائے دیں