مواد پر جائیں
ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 13 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: شام 6:56
بریکنگ
کراچی: نجی ہسپتال کے آلات سے نومولود میں ایم پاکس کی تصدیق، ہسپتال سیللاہور میں ایک ہی شہری کے نام پر ہزاروں گاڑیاں اور چالان نکل آئےبیرونِ ملک سے آنے والے موبائل فونز کا ٹیکس اب اقساط میں ادا ہو سکے گاشاہین آفریدی اور ول جیکس کی پریس کانفرنس، سیریز اور ٹیم کی کارکردگی پر گفتگولیونل میسی کو اسپین میں باوقار شاہی اعزاز سے نواز دیا گیاکھلاڑی شہرت ملنے کے بعد سیکھنا چھوڑ دیتے ہیں، محسن نقویبالی ووڈ میں فنکاروں کی صلاحیتیں محدود کی جا رہی ہیں، منوج باجپائیوزیراعلیٰ پنجاب کا غیر ضروری پروٹوکول اور پولیس سکواڈز کے خلاف بڑا فیصلہکراچی ایئرپورٹ پر عمرہ ویزے کی آڑ میں غیر قانونی مائگریشن بے نقاب، پانچ مسافر گرفتاروزیراعظم کروم بک اسکیم 2026: طلبا کے لیے اہلیت اور اپلائی کرنے کا طریقہ کار جاریڈویلپمنٹ سے متعلق معلومات عوام کا حق ہے، باخبر لوگ ترقی کی دلیل ہیں: مریم نوازامریکی ریئلٹی اسٹار انیکا راشون چھاتی کے کینسر کے باعث 34 برس کی عمر میں چل بسیںپاکستان میں کوئی کمی نہیں، سکول کرکٹ سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا: محسن نقویبھارت نے نیوزی لینڈ کو دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں شکست دے کر سیریز میں برتری دو صفر کر لیڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کیخلاف بڑے آپریشن کی دھمکی، پاک بھارت جنگ رکوانے کا دعویٰمیاں عامر کی پی سی بی اور ایچ ای سی کو ٹیلنٹ ہنٹ میں تعاون کی پیشکشبیوی پر تشدد اور زیور بیچنے کا کیس، اسسٹنٹ کمشنر جیل منتقلکراچی ایئرپورٹ پر کارروائی، عمرہ ویزے کا غلط استعمال کرنے والے 5 مسافر گرفتارمیر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر پولیس افسران کے خلاف کارروائی شروعسپریم کورٹ: قتل کیس کے ملزم کی قبل از وقت رہائی قانون کے خلاف قرار
پاکستان

وزیراعلیٰ پنجاب کا غیر ضروری پروٹوکول اور پولیس سکواڈز کے خلاف بڑا فیصلہ

صوبائی وزرا، مشیروں، ارکان اسمبلی اور سرکاری افسران کے مستقل پولیس سکواڈز ختم کر دیئے گئے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا غیر ضروری پروٹوکول اور پولیس سکواڈز کے خلاف بڑا فیصلہ

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے بھر میں غیر ضروری پروٹوکول اور صوابدیدی پولیس سکواڈز کے خاتمے کا باضابطہ فیصلہ کرتے ہوئے سخت احکامات جاری کر دیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری وسائل کے ضیاع کو روکنا اور عام شہریوں کے لیے نقل و حرکت کے نظام کو مزید آسان بنانا ہے۔

نئے احکامات کے مطابق صوبائی وزرا، معاونین خصوصی اور وزراعلیٰ کے مشیروں کے ساتھ اب مستقل بنیادوں پر پولیس سکواڈ تعینات نہیں کیے جائیں گے۔ اس پالیسی کا اطلاق پارلیمانی سیکرٹریز اور قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں پر بھی یکساں طور پر ہوگا۔

صوبائی اسمبلی کے ارکان یعنی ایم پی ایز بھی اب صوابدیدی یا مستقل طور پر پولیس پروٹوکول کے اہل نہیں ہوں گے اور اس حوالے سے تمام غیر ضروری سکیورٹی فورس واپس بلا لی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ عوامی نمائندوں کے لیے پروٹوکول کے نام پر پولیس اہلکاروں کی طویل تعیناتی اب قابل قبول نہیں ہوگی۔

صوبائی حکومت کے اس نئے فیصلے کی زد میں سرکاری افسران اور نجی افراد بھی آ گئے ہیں جو ماضی میں مختلف طریقوں سے پولیس سکواڈز سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔ اب کسی بھی سرکاری افسر یا نجی شخص کو ذاتی نوعیت کے لیے مستقل پولیس سکواڈ رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سرکاری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق بھی ضوابط کو مزید سخت کر دیا گیا ہے اور بغیر باقاعدہ اجازت گاڑیوں پر سرکاری پرچم یا فلیگ سٹاف لگانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس حکم نامے کا مقصد سرکاری علامتوں کے غلط استعمال کو روکنا اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ہے۔

پرنسپل سیکرٹری ٹو وزیراعلیٰ پنجاب ساجد ظفر ڈال کی جانب سے اس سلسلے میں باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس میں تمام متعلقہ محکموں کو احکامات پر فوری عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے متن میں تمام غیر مجاز اور غیر ضروری پولیس سکواڈز کو فی الفور واپس بلانے کا کہا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے ایک بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ صوبے میں کسی بھی سطح پر غیر مجاز پولیس سکواڈز یا پروٹوکول کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان احکامات کی سختی سے پابندی کو یقینی بنائیں۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران کو خصوصی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ فیلڈ میں اس پالیسی پر عملدرآمد کی خود نگرانی کریں۔ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

عوام کی طرف سے حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے عام شہریوں کو سڑکوں پر آمدورفت کے دوران ہونے والی دشواریوں سے نجات ملے گی۔ ماضی میں غیر ضروری پروٹوکول کی وجہ سے ٹریفک کے نظام میں خلل پڑتا تھا جس پر اکثر شکایات موصول ہوتی تھیں۔

صوبائی حکومت کے اس قدم سے قومی خزانے پر بوجھ میں بھی کمی واقع ہوگی اور پولیس کے وسائل کو شہریوں کی جان و مال کے تحفظ جیسے اصل فرائض کے لیے بہتر انداز میں استعمال کیا جا سکے گا۔ پولیس فورس کو پروٹوکول ڈیوٹیوں سے ہٹا کر امن و امان کی بہتری پر مامور کیا جائے گا۔

پرنسپل سیکرٹری کی جانب سے جاری کردہ اس نوٹیفکیشن کی نقول تمام متعلقہ محکموں اور حکام کو ارسال کر دی گئی ہیں تاکہ احکامات پر بغیر کسی تاخیر کے عمل درآمد شروع ہو سکے۔ اس نوعیت کے اقدامات انتظامیہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

پنجاب حکومت کی جانب سے یہ قدم صوبے میں وی آئی پی کلچر کے خاتمے کی سمت ایک اہم سنگ میل تصور کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں غیر ضروری پروٹوکول اور سکیورٹی اہلکاروں کی ذاتی تعیناتی پر عوامی سطح پر بھی تحفظات کا اظہار کیا جاتا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے نفاذ سے پولیس کی افرادی قوت کا درست استعمال ممکن ہو سکے گا اور تھانہ کلچر کی بہتری کے لیے بھی اضافی اہلکار میسر آئیں گے۔ حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ عوام کی فلاح و بہبود کے ایسے فیصلے آگے بھی جاری رہیں گے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں