مواد پر جائیں
ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 13 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: شام 7:56
بریکنگ
کراچی: نجی ہسپتال کے آلات سے نومولود میں ایم پاکس کی تصدیق، ہسپتال سیلڈرائیو ان سینما: جدید ٹیکنالوجی اور بدلتے رجحاناتپاکستان میں سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی، فی تولہ نرخ 2500 روپے گر گئےسوات کے بالائی علاقوں میں ژالہ باری، مینگورہ سمیت ضلع بھر میں موسم سردملک بھر میں موسم خشک، شمالی علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافہنادرا کا شہریوں کے لیے ازدواجی حیثیت کی فوری تجدید کا اہم پیغاماسکوٹی تشدد واقعہ، مریم نواز نے لڑکی کو خود انصاف دلانے کا بتا دیالاہور میں ایک ہی شہری کے نام پر ہزاروں گاڑیاں اور چالان نکل آئےبیرونِ ملک سے آنے والے موبائل فونز کا ٹیکس اب اقساط میں ادا ہو سکے گاشاہین آفریدی اور ول جیکس کی پریس کانفرنس، سیریز اور ٹیم کی کارکردگی پر گفتگولیونل میسی کو اسپین میں باوقار شاہی اعزاز سے نواز دیا گیاکھلاڑی شہرت ملنے کے بعد سیکھنا چھوڑ دیتے ہیں، محسن نقویبالی ووڈ میں فنکاروں کی صلاحیتیں محدود کی جا رہی ہیں، منوج باجپائیوزیراعلیٰ پنجاب کا غیر ضروری پروٹوکول اور پولیس سکواڈز کے خلاف بڑا فیصلہکراچی ایئرپورٹ پر عمرہ ویزے کی آڑ میں غیر قانونی مائگریشن بے نقاب، پانچ مسافر گرفتاروزیراعظم کروم بک اسکیم 2026: طلبا کے لیے اہلیت اور اپلائی کرنے کا طریقہ کار جاریڈویلپمنٹ سے متعلق معلومات عوام کا حق ہے، باخبر لوگ ترقی کی دلیل ہیں: مریم نوازامریکی ریئلٹی اسٹار انیکا راشون چھاتی کے کینسر کے باعث 34 برس کی عمر میں چل بسیںپاکستان میں کوئی کمی نہیں، سکول کرکٹ سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا: محسن نقویبھارت نے نیوزی لینڈ کو دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں شکست دے کر سیریز میں برتری دو صفر کر لی
پاکستان

لاہور میں ایک ہی شہری کے نام پر ہزاروں گاڑیاں اور چالان نکل آئے

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر محمد عثمان نامی شہری کے نام پر رجسٹرڈ گاڑیوں پر لاکھوں روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔

لاہور میں ایک ہی شہری کے نام پر ہزاروں گاڑیاں اور چالان نکل آئے

لاہور کے ٹریفک حکام نے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جاری مہم کے دوران ایک حیران کن انکشاف کیا ہے جہاں ایک ہی شخص کے نام پر دو ہزار سے زائد مختلف قسم کی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ پائی گئی ہیں۔ محکمہ ٹریفک پولیس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں قانون شکنی کرنے والی ان گاڑیوں پر لاکھوں روپے کے جرمانے بھی واجب الادا ہیں۔ یہ سارا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ٹریفک پولیس نے نمبر پلیٹس میں ہیر پھیر کرنے اور ٹمپرنگ کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کیا۔

شہر میں جاری روزمرہ کی چیکنگ اور جنرل ہولڈاپ کے دوران ایک موٹر سائیکل سوار کو روکا گیا جس کی دستاویزات اور ملکیت کی جانچ پڑتال کی گئی۔ جب پولیس اہلکاروں نے اس موٹر سائیکل کی رجسٹریشن اور کوائف کا ڈیٹا بیس سے تخمینہ لگایا تو وہ حیرت میں ڈوب گئے۔ گاڑی کی جانچ پڑتال کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ موٹر سائیکل ایک ایسے شخص کے نام پر رجسٹرڈ ہے جس کے پاس سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں موٹر سائیکلیں، رکشے اور کاریں موجود ہیں۔

پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق محمد عثمان نامی اس شہری کے نام پر کل دو ہزار تین سو چون موٹر سائیکلیں، رکشے اور گاڑیاں رجسٹرڈ نکلی ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں گاڑیاں ایک ہی فرد کے نام پر رجسٹرڈ ہونے کا انکشاف ٹریفک پولیس کے لیے بھی انتہائی غیر معمولی واقعہ تھا۔ محکمہ ٹریفک نے فوری طور پر ان تمام گاڑیوں کا ریکارڈ نکالا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان پر کتنے ٹریفک قوانین توڑے گئے ہیں اور کتنا جرمانہ بنتا ہے۔

ریکارڈ کی جانچ سے یہ بات بھی عیاں ہوئی کہ محمد عثمان کے نام پر رجسٹرڈ ان تمام دو ہزار تین سو چون گاڑیوں کو مجموعی طور پر اٹھائیس سو تیرہ ای چالان جاری کیے جا چکے ہیں۔ یہ تمام چالان ٹریفک قوانین کی مختلف دفعات کی خلاف ورزی پر کیے گئے ہیں جن میں سگنل توڑنے، تیز رفتاری اور دیگر ضابطہ فوجداری کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ ان تمام چالان کی مد میں حکومت یا متعلقہ محکمے کے پاس اٹھائیس لاکھ چھیاسٹھ ہزار نو سو روپے کے واجبات جمع ہونے باقی ہیں۔

اتنی بڑی رقم کے واجب الادا ہونے اور ہزاروں گاڑیوں کے ایک نام پر ہونے کی وجہ سے پولیس حکام نے معاملے کی گہرائی سے تفتیش شروع کر دی ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ یہ یا تو کسی بڑی جعلسازی کا نتیجہ ہے یا پھر گاڑیوں کی خرید و فروخت کے بعد ان کے کاغذات بروقت منتقل نہ کرانے کی غفلت ہے۔ ٹریفک پولیس اب اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا یہ نمبر پلیٹس کی ٹمپرنگ کا کوئی منظم گروہ ہے جو عوام کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔

اس کارروائی کے دوران پکڑی جانے والی موٹر سائیکل کو فوری طور پر تحویل میں لے کر تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں بند کر دیا گیا ہے۔ موٹر سائیکل کے اصل اور حقیقی مالک کی تلاش کے لیے سیف سٹیز اتھارٹی کو بھی باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ کیمروں کی مدد سے اس کی نقل و حرکت اور اصل مالکان کا سراغ لگایا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں مزید قانونی کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

یہ تمام کارروائی سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کی خصوصی ہدایات اور احکامات کی روشنی میں عمل میں لائی گئی ہے۔ سی ٹی او لاہور نے شہر بھر میں نمبر پلیٹس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے والوں اور غیر قانونی ترامیم کرنے والی گاڑیوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں مزید تیزی لانے کا حکم دے رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

محکمہ ٹریفک پولیس کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ شہر میں زیرو ٹالرنس پالیسی پر مکمل عمل درآمد جاری رہے گا۔ پولیس فلیشر لائٹس کا غیر قانونی استعمال کرنے والی گاڑیوں، بوگس یا غیر قانونی گرین نمبر پلیٹس لگانے والوں اور نمبر پلیٹس کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کرنے والوں کے خلاف اب سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ٹریفک حکام نے شہریوں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کی رجسٹریشن درست رکھیں اور ضابطے کی پابندی کریں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گاڑیوں کی خرید و فروخت کے بعد ان کے کاغذات اور ملکیت کو اپنے نام پر منتقل نہ کرانے کا رجحان عام ہے جس کی وجہ سے ایسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ جب تک شہری اپنی گاڑیاں باقاعدہ طور پر اپنے نام پر منتقل نہیں کرواتے، پرانے مالکان کو اس طرح کے قانونی اور مالی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پولیس نے ایک بار پھر عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹریفک قوانین کا احترام کریں اور گاڑیوں کے جملہ کوائف کو ہمیشہ قانون کے مطابق درست حالت میں رکھیں۔

پولیس ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ جب بھی کوئی شہری گاڑی فروخت کرتا ہے تو ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فوری طور پر محکمہ ایکسائز میں جا کر اس کی منتقلی کے جملہ مراحل مکمل کروائے۔ بصورت دیگر قانون شکنی کی صورت میں ای چالان یا دیگر قانونی نوٹسز پرانے اور اصل رجسٹرڈ مالک کے پتے پر ہی جاتے ہیں۔ اس بات کا اندازہ اس واقعے سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جہاں ایک ہی شخص کو ہزاروں کی تعداد میں چالان موصول ہوئے ہیں۔

شہر بھر میں اس قسم کے دیگر کیسز کی بھی جانچ پڑتال کا عندیہ دیا گیا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کتنے ہی اور افراد ہیں جن کے نام پر غیر متعلقہ یا فروخت شدہ گاڑیاں اب تک رجسٹرڈ چلی آ رہی ہیں۔ محکمہ ٹریفک کا کہنا ہے کہ شہریوں کی سہولت کے لیے آگاہی مہم بھی ساتھ ساتھ چلائی جا رہی ہے تاکہ وہ بروقت اپنے کاغذات درست کروا سکیں۔

ٹریفک پولیس لاہور کے ترجمان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر میں سڑکوں کے نظام کو بہتر بنانے اور قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس طرح کے کریک ڈاؤن آئندہ بھی جاری رہیں گے تاکہ ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا نمبر پلیٹس میں ردو بدل سے گریز کریں اور سفر کے دوران تمام قانونی تقاضے پورے کریں۔ شہر کی سڑکوں پر نظم و ضبط قائم رکھنے کے لیے محکمہ ٹریفک کے ساتھ تعاون کرنا ہر شہری کی اولین ذمہ داری ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں