اسلام آباد میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے بیرونِ ملک سے منگوائے گئے یا لائے جانے والے موبائل فونز کی رجسٹریشن کے حوالے سے ایک اہم اور آسان قدم اٹھاتے ہوئے سیلز ٹیکس کی ماہانہ اقساط میں ادائیگی کی سہولت متعارف کرا دی ہے۔ اس نئے اقدام کا مقصد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور مسافروں کو مالیاتی دباؤ سے بچانا اور انہیں قانون کے مطابق اپنے موبائل فونز کی باقاعدہ رجسٹریشن کے لیے بہترین موقع فراہم کرنا ہے۔
ایف بی آر کے جاری کردہ کسٹمز جنرل آرڈر کے تحت درآمدی موبائل فونز کی ڈیوائس آئیڈنٹیفکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم کے نظام کو مزید لچکدار بنایا گیا ہے تاکہ عام شہری اور مسافر یکمشت بھاری ٹیکس ادا کرنے کے بجائے سہولت کے ساتھ اقساط میں ادایگیاں مکمل کر سکیں۔
نئے ضابطے کے نفاذ کے بعد اب اہل افراد کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ ڈیوائس آئیڈنٹیفکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم کے ذریعے درخواست جمع کرواتے وقت سیلز ٹیکس کی رقم کو ماہانہ اقساط میں تقسیم کرنے کا انتخاب باقاعدہ طور پر کر سکیں۔
اس طریقہ کار کے تحت مجموعی سیلز ٹیکس کو متعلقہ مالی سال کے اختتام تک باقی بچنے والے مہینوں کی تعداد کے حساب سے بالکل برابر ماہانہ اقساط میں تقسیم کیا جائے گا تاکہ شہری آسانی سے ادائیگی کے عمل کو جاری رکھ سکیں۔
حکام کے مطابق جس ماہ کے دوران درخواست جمع کرائی جائے گی، اس مہینے کو بھی کل اقساط کی گنتی میں شمار کیا جائے گا، تاہم اس اصول میں ایک خاص استثنا بھی شامل کیا گیا ہے جو کہ سال کے آخری ماہ سے متعلق ہے۔
اگر کوئی صارف ماہِ جون کے دوران موبائل فون درآمد کرتا ہے اور اس کی رجسٹریشن کی درخواست دیتا ہے تو اسے اس خاص مہینے کے لیے پورا سیلز ٹیکس اسی مہینے کے اختتام تک لازمی طور پر جمع کرانا ہوگا۔
ٹیکس دہندگان کے لیے پہلی قسط کی ادائیگی کا طریقہ کار بھی واضح کر دیا گیا ہے جس کے تحت پہلی قسط درخواست جمع کراتے وقت حاصل ہونے والی پیمنٹ سلپ آئی ڈی کے ذریعے ادا کرنا ہوگی۔
آئندہ آنے والی ماہانہ اقساط کے لیے ہر مہینے مقررہ تاریخ پر ایک نئی الگ پی ایس آئی ڈی جاری کی جائے گی جس کے ذریعے شہری اپنی قسط بینک یا آن لائن ذرائع سے جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔
اگر کسی مخصوص مہینے میں مقررہ تاریخ کیلنڈر کے لحاظ سے موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں متعلقہ پی ایس آئی ڈی اس مہینے کے بالکل آخری دن باقاعدہ طور پر جاری کی جائے گی۔
ایف بی آر کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ تمام تر اقساط کی ادایگیوں کا عمل ہر صورت میں تیس جون تک مکمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی یا تکنیکی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
اس کے ساتھ ہی صارفین کو یہ سہولت بھی دی گئی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو مقررہ تاریخوں کا انتظار کیے بغیر اپنے بقایا ٹیکس کی کچھ رقم یا پھر تمام واجب الادا رقم وقت سے پہلے بھی یکمشت ادا کر سکتے ہیں۔
ادارے نے تمام متعلقہ صارفین کو سخت خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسط کی مقررہ تاریخ تک ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ صارف کو باقاعدہ طور پر نادہندہ قرار دے دیا جائے گا۔
قسط بروقت ادا نہ کرنے کی صورت میں نہ صرف موبائل فون کو غیر رجسٹرڈ قرار دے دیا جائے گا بلکہ اسے ڈیوائس آئیڈنٹیفکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم کے ذریعے بلاک بھی کر دیا جائے گا۔
نادہندہ قرار پانے والے صارفین کے لیے یہ تنبیہ بھی جاری کی گئی ہے کہ اس کے بعد انہیں باقی ماندہ ٹیکس اقساط میں ادا کرنے کی سہولت دوبارہ حاصل نہیں رہے گی اور تمام ٹیکس فوری دینا ہوگا۔
اس نئے حکم نامے کے نفاذ سے بیرونِ ملک سے نئے یا استعمال شدہ موبائل فونز پاکستان لانے والے افراد کو بڑی مالی آسانی ملے گی اور وہ اپنے فونز کو بلاک ہونے سے محفوظ رکھ سکیں گے۔





اپنی رائے دیں