مواد پر جائیں
ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 13 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 5:38
بریکنگ
کراچی: نجی ہسپتال کے آلات سے نومولود میں ایم پاکس کی تصدیق، ہسپتال سیلپنجاب حکومت کا آذربائیجانی خاتون زیادتی کیس خود لڑنے کا فیصلہدہشت گردی قومی مسئلہ ہے، سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر تعاون کیا جائے: وفاقی وزراءوزیراعظم کروم بک اسکیم 2026: طلبا کے لیے اہلیت اور اپلائی کرنے کا طریقہ کار جاریڈویلپمنٹ سے متعلق معلومات عوام کا حق ہے، باخبر لوگ ترقی کی دلیل ہیں: مریم نوازامریکی ریئلٹی اسٹار انیکا راشون چھاتی کے کینسر کے باعث 34 برس کی عمر میں چل بسیںپاکستان میں کوئی کمی نہیں، سکول کرکٹ سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا: محسن نقویبھارت نے نیوزی لینڈ کو دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں شکست دے کر سیریز میں برتری دو صفر کر لیڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کیخلاف بڑے آپریشن کی دھمکی، پاک بھارت جنگ رکوانے کا دعویٰمیاں عامر کی پی سی بی اور ایچ ای سی کو ٹیلنٹ ہنٹ میں تعاون کی پیشکشبیوی پر تشدد اور زیور بیچنے کا کیس، اسسٹنٹ کمشنر جیل منتقلکراچی ایئرپورٹ پر کارروائی، عمرہ ویزے کا غلط استعمال کرنے والے 5 مسافر گرفتارمیر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر پولیس افسران کے خلاف کارروائی شروعسپریم کورٹ: قتل کیس کے ملزم کی قبل از وقت رہائی قانون کے خلاف قرارصوابی میں علماء و مشائخ کا پاک فوج اور حکومت سے بھرپور یکجہتی کا اعلانایران پر نیا حملہ کشیدگی بڑھا دے گا، ترک وزیرِ خارجہ کا انتباہبرطانیہ میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے نئی قومی مہم کا آغازپنشن ملازم کا قانونی اور آئینی حق ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہچین نے خلا میں ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس کے دو نئے گروپ روانہ کر دیےاسلام آباد ہائیکورٹ کا سرکاری ملازم کو پنشن کی ادائیگی کا حکم
دنیا

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کیخلاف بڑے آپریشن کی دھمکی، پاک بھارت جنگ رکوانے کا دعویٰ

امریکی صدر نے فلوریڈا میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کا عزم دہرایا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کیخلاف بڑے آپریشن کی دھمکی، پاک بھارت جنگ رکوانے کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست فلوریڈا کے شہر میں ایک پرجوش سیاسی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی امور پر کھل کر گفتگو کی اور مختلف ممالک کے حوالے سے اپنی آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تہران کو کسی بھی قیمت پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے ان کی انتظامیہ انتہائی سخت موقف رکھے گی۔

تہران کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور جوہری پروگرام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے ان کا یہ مؤقف اٹل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جیسے ممالک کے پاس عالمی قوانین کی پاسداری کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا ہے۔ امریکی انتظامیہ کسی بھی ایسے اقدام کی اجازت نہیں دے گی جس سے عالمی امن کو خطرہ لاحق ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر تمام اتحادی ممالک کے ساتھ قریبی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

خطاب کے دوران امریکی صدر نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ایرانی معاملے کے مکمل حل اور منطقی انجام تک پہنچنے کے بعد ان کی حکومت کیوبا کے ساتھ بھی معاملات کو طے کرے گی اور اس خطے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کیوبا کے ساتھ تمام بقایا امور کو نمٹانے کے لیے ایک مؤثر لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔ اس تمام سفارتی عمل کو حتمی شکل دینے اور ڈیل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے وہ مارکو روبیو کو خصوصی طور پر روانہ کریں گے۔

مارکو روبیو کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کے تحت ان معاملات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ کیوبا کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کی طویل مدتی پالیسی میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں جنہیں عملی جامہ پہنانے کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔ امریکی صدر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی ٹیم دنیا بھر میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح متحرک ہے۔ لاطینی امریکہ کے امور پر بھی وائٹ ہاؤس کی جانب سے گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ انہوں نے ماضی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک ممکنہ بڑی جنگ کو کامیابی کے ساتھ روکا تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان اور بھارت دونوں خطے کی اہم ایٹمی طاقتیں ہیں اور ان کے درمیان کسی بھی قسم کے تنازع کے پوری دنیا پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے تھے۔ امریکی صدر کے مطابق ان کی بروقت مداخلت اور سفارتی کوششوں کی وجہ سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آئی۔

جنوبی ایشیا کے اس اہم خطے میں امن و امان کی بحالی کے حوالے سے انہوں نے اپنی سفارتی کامیابیوں کا کھل کر ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پس پردہ بھی اہم کردار ادا کیا تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایٹمی صلاحیت کے حامل ممالک کے مابین جنگ کے خطرات کو ٹالنا ان کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی تھی۔ عالمی سطح پر بھی اس سفارتی کوشش کو سراہا گیا تھا۔

پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اس بحران کے دوران مبینہ طور پر دونوں فریقین کے مجموعی طور پر گیارہ جنگی طیارے گرائے گئے تھے جو اس محاذ آرائی کی شدت اور سنگین نوعیت کا واضح ثبوت تھا۔ طیاروں کے گرنے کے اس واقعے نے دنیا بھر کی توجہ اس تنازع کی طرف مبذول کروائی تھی اور عسکری ماہرین نے بھی اس کی سنگینی کا اعتراف کیا تھا۔ امریکی صدر کے مطابق اس نوعیت کے واقعات کسی بھی بڑے ایٹمی تصادم کا پیش خیمہ بن سکتے تھے جسے ان کی بروقت مداخلت نے ناکام بنا دیا۔

موجودہ عالمی منظر نامے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کا بھی افسوس کا اظہار کیا کہ ان کی انتظامیہ نے دنیا بھر میں کئی مقامات پر جاری تنازعات اور جنگوں کو ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن اس کے باوجود بین الاقوامی سطح پر ان کی خدمات کا اعتراف نہیں کیا گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دنیا بھر میں کل آٹھ بڑی جنگیں رکوانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے مگر اس سب کے باوجود انہیں اب تک نوبیل امن انعام سے نہیں نوازا گیا۔ ان کا یہ شکوہ امریکی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بھی زیر بحث رہتا ہے۔

نوبیل انعام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی امن کی کوششیں تاریخ کا حصہ ہیں اور انہوں نے عملی طور پر انسانی جانیں بچائی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ دنیا بھر میں جنگیں رکوانے کے لیے جتنا کام انہوں نے کیا ہے، اتنا کسی اور امریکی صدر نے نہیں کیا۔ اس کے باوجود انہیں وہ بین الاقوامی پذیرائی نہیں ملی جس کے وہ حقدار تھے۔ امریکی صدر نے اپنے حامیوں کے سامنے ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہا۔ فلوریڈا کی اس ریلی میں موجود افراد نے ان کے اس مؤقف کو بھرپور سراہا۔

امریکہ کی موجودہ اور سابقہ خارجہ پالیسیوں کا موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے دور حکومت میں دنیا بھر کے تنازعات کو سفارتی طریقوں سے حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایران ہو یا جنوبی ایشیا کے معاملات، واشنگٹن کا مقصد ہمیشہ خطے میں استحکام لانا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ آئندہ بھی عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔ ان کے اس خطاب سے بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں بھی نئی بحث چھڑ گئی ہے اور مختلف ممالک کی طرف سے اس پر ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

فلوریڈا میں ہونے والی اس سیاسی ریلی میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جن کے سامنے امریکی صدر نے اپنے روایتی جارحانہ اور پُرعزم انداز میں خیالات کا اظہار کیا۔ ریلی کے شرکاء نے ان کے بیانات پر تالیوں اور نعروں سے اپنی حمایت کا یقین دلایا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ خطاب ان کی آئندہ کی انتخابی اور سیاسی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنے ووٹرز کو متحرک رکھنا چاہتے ہیں۔ عالمی رہنماؤں اور میڈیا کی نظریں بھی ان کے ان پالیسی بیانات پر مرکوز ہیں۔

ایران کے خلاف ممکنہ سخت اقدامات کی دھمکی اور کیوبا کے معاملے پر مارکو روبیو کی طلبی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن کی لاطینی امریکی اور مشرق وسطیٰ کی پالیسی آنے والے دنوں میں مزید سخت ہو سکتی ہے۔ ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی بھی قسم کی لچک نہ دکھانے کا عزم اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر تہران پر دباؤ بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان اور بھارت کے حوالے سے ان کے پرانے دعوے نے ایک بار پھر سے میڈیا میں ہلچل مچا دی ہے۔

خلاصہ کلام کے طور پر امریکی صدر کا یہ خطاب ان کی عالمی سیاست میں اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوششوں کا عکاس ہے۔ چاہے وہ ایران کے خلاف سخت مؤقف ہو، کیوبا کے لیے مارکو روبیو کا تقرر ہو یا پھر پاک بھارت جنگ رکوانے کا دعویٰ، یہ تمام امور عالمی سطح پر انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ واشنگٹن ان اعلانات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتا ہے اور بین الاقوامی برادری اس پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ اس طرح کے بیانات خطے کی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں