محکمہ انسداد دہشت گردی اور ایک وفاقی حساس ادارے نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے مختلف کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے تین خطرناک دہشت گردوں کو دھر لیا ہے۔ یہ کارروائیاں ملک دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف جاری کوششوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد کسی بھی ممکنہ بڑے سانحے کو روکنا ہے۔ گرفتار شدگان کے قبضے سے دھماکہ خیز مواد، ہینڈ گرنیڈ اور ناجائز اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی یہ کارروائی شہر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے جس سے تخریب کاری کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا ہے۔
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق پہلی کارروائی کراچی کے گنجان آباد علاقے گلستان جوہر میں عمل میں لائی گئی جہاں کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی سے وابستہ دو انتہائی مطلوب افراد کو حراست میں لیا گیا۔ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی جانے والی اس کارروائی کے دوران دونوں افراد کو مین یونیورسٹی روڈ کے قریب گھیر کر قابو کیا گیا۔ ان دونوں دہشت گردوں کے حوالے سے سکیورٹی اداروں کو پہلے ہی اہم اطلاعات موصول ہو چکی تھیں جن کی روشنی میں یہ کامیاب گھیراؤ مکمل کیا گیا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے گرفتار ہونے والے دونوں افراد کی شناخت رحیم فضل ولد فضل محمود اور بالاچ بلوچ ولد رسول بخش کے ناموں سے کی گئی ہے۔ ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ دونوں عناصر اپنے تنظیمی کمانڈروں کی مسلسل ہدایات پر عمل پیرا تھے اور شہر میں موجود تھے۔ ترجمان کے مطابق یہ ملزمان اپنے نیٹ ورک کے دیگر اراکین کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں تھے اور ان کی گرفتاری سے کئی اہم سراغ ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ان گرفتار شدگان نے پڑوسی ملک میں عسکری تربیت حاصل کی تھی اور وہ ماضی میں سکیورٹی فورسز کے خلاف ہونے والی کارروائیوں اور مختلف پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ یہ عناصر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ، معصوم شہریوں کے اغوا اور سکیورٹی فورسز پر حملوں جیسے سنگین جرائم میں بھی سرگرم رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے تمام سابقہ ریکارڈ کو بھی سامنے لانے کے لیے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر چکے ہیں۔
سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ گلستان جوہر میں پکڑے جانے والے دہشت گردوں کے قبضے سے تیار شدہ آئی ای ڈی بم اور دستی بم بھی برآمد ہوئے ہیں۔ وہ ان دھماکہ خیز مواد کو شہر کے کسی اہم حساس مقام یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کے دفتر کے خلاف استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ بروقت کارروائی کے باعث ان کے یہ مذموم عزائم دھرے کے دھرے رہ گئے اور وہ اپنے ہندسے تک پہنچنے سے پہلے ہی قانون کی گرفت میں آ گئے۔
دوسری جانب ایک اور کارروائی گلبائی چوک کے قریب عمل میں لائی گئی جہاں فتنتہ الخوارج یعنی کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والا ایک کارندہ دھر لیا گیا۔ اس ملزم کی شناخت شاہ نور رحمان خان ولد اختر عالم کے طور پر کی گئی ہے۔ اس کارروائی کے دوران بھی سکیورٹی اداروں نے بڑی مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزم کو فرار ہونے کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا اور اسے موقع پر ہی قابو کر لیا گیا۔
گرفتار شدہ اس خوارجی عنصر کے قبضے سے ایک تیس بور پستول، لوڈڈ میگزین اور متعدد گولیاں برآمد کی گئیں۔ ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا کہ یہ شخص وزیرستان کے علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں میں باقاعدہ شریک رہا ہے۔ عسکری ذرائع کے مطابق ایسے عناصر ملک کے طول و عرض میں بدامنی پھیلانے کے ناپاک ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں جنہیں آہنی ہاتھوں سے روکا جا رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق یہ خوارجی دہشت گرد اپنے کمانڈر کے حکم پر کراچی پہنچا تھا جہاں اس کا مقصد شہر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر کی ریکی کرنا اور اہم مقامات کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کرنا تھا۔ یہ ملزم اسلاسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں تخریب کاری کے لیے زمین ہموار کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا مگر حساس اداروں کی بروقت نظر نے اس کے تمام ارادے ناکام بنا دیے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام گرفتار ملزمان کے دیگر ساتھیوں، پناہ دینے والوں اور مالی معاونت فراہم کرنے والے نیٹ ورک کی تلاش بھی شروع کر دی گئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے تمام رابطوں کو کھنگال رہے ہیں تاکہ اس پورے دہشت گرد نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔ کسی بھی سہولت کار کو قانون کی گرفت سے بچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور تمام ملوث کرداروں کو بے نقاب کیا جائے گا۔
گرفتار ہونے والے تمام افراد کے خلاف متعلقہ تھانوں میں انسداد دہشت گردی ایکٹ اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ سی ٹی ڈی اور دیگر سکیورٹی ادارے ملزمان سے مزید اہم انکشافات متوقع کر رہے ہیں جن کی روشنی میں آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔ تفتیشی ٹیمیں تمام شواہد کو اکٹھا کر کے چالان عدالت میں پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔
پاکستان کے سکیورٹی ادارے ملک بھر میں بالخصوص بڑے شہروں میں امن و امان کی فضا برقرار رکھنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہیں۔ انٹیلیجنس کی بنیاد پر کی جانے والی مشترکہ کارروائیوں کا یہ سلسلہ اس بات کا غماز ہے کہ ریاست ملک دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر گامزن ہے۔ ان بروقت کارروائیوں کی بدولت دشمن کے تمام عزائم کو خاک میں ملا دیا گیا ہے۔
شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور ریاست کی رٹ کو برقرار رکھنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ترجیح ہے۔ تمام اداروں کے باہمی تعاون کی بدولت ملک میں دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کی جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع دے کر قومی سلامتی کے اس عزم میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
حساس اداروں اور محکمہ انسداد دہشت گردی کی یہ مشترکہ کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے پوری طرح بیدار ہے۔ عوام بھی سکیورٹی فورسز کی ان قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
ملک کے دفاع اور امن کے دشمنوں کے خلاف یہ کارروائیاں اس وقت تک بلا تعطل جاری رہیں گی جب تک آخری دہشت گرد اور اس کا سہولت کار کیفر کردار تک نہیں پہنچ جاتا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس حوالے سے مزید مستعدی سے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔




اپنی رائے دیں