مواد پر جائیں
منگل، 3 نومبر 2026 23 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خیبرپختونخوا کی صورتحال پر اہم جائزہ اجلاسامریکہ کا آبنائے ہرمز میں ایران کے جزیرے پر فضائی حملہاے سی سی رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلانشکاگو بیئرز نے شاندار کارکردگی سے سیٹل سیہاکس کو شکست دیشاہ رخ خان کی فلم ’کنگ‘ نے ریلیز سے پہلے ہی 665 کروڑ روپے کما لیےدنیا بھر میں یوٹیوب ویڈیوز دیکھنے میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے، پی ٹی اےپولیس سے جھگڑے کا کیس: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی ضمانت منظورکراچی پورٹ کو جدید بنانے کے منصوبوں پر کام تیز، نئی ٹیکنالوجی کا استعمالاوورسیز پاکستان فاؤنڈیشن کے ملازمین کو حکومت کی اعلان کردہ تنخواہ سے بھی کم معاوضہ ملنے کا انکشافبھارتی شہر پنچکولا کے اسکول میں بچے کا بچی پر تشدد، پرنسپل اور عملے کے خلاف مقدمہ درجکراچی: نارتھ ناظم آباد میں مزدا ٹرک کی ٹکر سے طالبعلم جاں بحق، دوسرا زخمیراولپنڈی: گھر سے 37 لاکھ روپے مالیت کے زیورات چرانے والی ملازمہ گرفتارفوجی فاؤنڈیشن نے پرل کانٹی نینٹل ہوٹلز کی مالک کمپنی کے 19.70 فیصد حصص خرید لیےسعودی عرب میں نومبر سے جنوری تک معمول سے زائد بارشوں کی پیش گوئیسپریم کورٹ نے بیوی پر تشدد کے ملزم آئی بی ملازم کی اپیل خارج کر دیسمندری طوفان مرسو انڈیا کے مشرقی ساحل سے ٹکرا گیابیلجیم میں سیاسی بحران، وفاقی بجٹ پر مذاکرات ناکام ہونے پر وزیراعظم نے استعفیٰ دے دیاامریکی سپریم کورٹ نے کیلیفورنیا میں بیلٹس روکنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست مسترد کر دیپاک چین تعلقات کے استحکام کا اعادہ، چینی وزیر کا دورہ اسلام آبادمالی سال کی پہلی سہ ماہی میں معیشت مستحکم، زرِمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ
جرم و سزا

کراچی میں سی ٹی ڈی اور حساس ادارے کی کارروائی، 3 دہشت گرد گرفتار

گلستان جوہر اور گلبائی چوک کے قریب مشترکہ کارروائیوں میں کالعدم تنظیموں کے تین تربیت یافتہ دہشت گرد دھر لیے گئے۔

کراچی میں سی ٹی ڈی اور حساس ادارے کی کارروائی، 3 دہشت گرد گرفتار

محکمہ انسداد دہشت گردی اور ایک وفاقی حساس ادارے نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے مختلف کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے تین خطرناک دہشت گردوں کو دھر لیا ہے۔ یہ کارروائیاں ملک دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف جاری کوششوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد کسی بھی ممکنہ بڑے سانحے کو روکنا ہے۔ گرفتار شدگان کے قبضے سے دھماکہ خیز مواد، ہینڈ گرنیڈ اور ناجائز اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی یہ کارروائی شہر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے جس سے تخریب کاری کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا ہے۔

ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق پہلی کارروائی کراچی کے گنجان آباد علاقے گلستان جوہر میں عمل میں لائی گئی جہاں کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی سے وابستہ دو انتہائی مطلوب افراد کو حراست میں لیا گیا۔ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی جانے والی اس کارروائی کے دوران دونوں افراد کو مین یونیورسٹی روڈ کے قریب گھیر کر قابو کیا گیا۔ ان دونوں دہشت گردوں کے حوالے سے سکیورٹی اداروں کو پہلے ہی اہم اطلاعات موصول ہو چکی تھیں جن کی روشنی میں یہ کامیاب گھیراؤ مکمل کیا گیا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے گرفتار ہونے والے دونوں افراد کی شناخت رحیم فضل ولد فضل محمود اور بالاچ بلوچ ولد رسول بخش کے ناموں سے کی گئی ہے۔ ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ دونوں عناصر اپنے تنظیمی کمانڈروں کی مسلسل ہدایات پر عمل پیرا تھے اور شہر میں موجود تھے۔ ترجمان کے مطابق یہ ملزمان اپنے نیٹ ورک کے دیگر اراکین کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں تھے اور ان کی گرفتاری سے کئی اہم سراغ ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ان گرفتار شدگان نے پڑوسی ملک میں عسکری تربیت حاصل کی تھی اور وہ ماضی میں سکیورٹی فورسز کے خلاف ہونے والی کارروائیوں اور مختلف پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ یہ عناصر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ، معصوم شہریوں کے اغوا اور سکیورٹی فورسز پر حملوں جیسے سنگین جرائم میں بھی سرگرم رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے تمام سابقہ ریکارڈ کو بھی سامنے لانے کے لیے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر چکے ہیں۔

سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ گلستان جوہر میں پکڑے جانے والے دہشت گردوں کے قبضے سے تیار شدہ آئی ای ڈی بم اور دستی بم بھی برآمد ہوئے ہیں۔ وہ ان دھماکہ خیز مواد کو شہر کے کسی اہم حساس مقام یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کے دفتر کے خلاف استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ بروقت کارروائی کے باعث ان کے یہ مذموم عزائم دھرے کے دھرے رہ گئے اور وہ اپنے ہندسے تک پہنچنے سے پہلے ہی قانون کی گرفت میں آ گئے۔

دوسری جانب ایک اور کارروائی گلبائی چوک کے قریب عمل میں لائی گئی جہاں فتنتہ الخوارج یعنی کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والا ایک کا رن دہ دھر لیا گیا۔ اس ملزم کی شناخت شاہ نور رحمان خان ولد اختر عالم کے طور پر کی گئی ہے۔ اس کارروائی کے دوران بھی سکیورٹی اداروں نے بڑی مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزم کو فرار ہونے کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا اور اسے موقع پر ہی قابو کر لیا گیا۔

گرفتار شدہ اس خوارجی عنصر کے قبضے سے ایک تیس بور پستول، لوڈڈ میگزین اور متعدد گولیاں برآمد کی گئیں۔ ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا کہ یہ شخص وزیرستان کے علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں میں باقاعدہ شریک رہا ہے۔ عسکری ذرائع کے مطابق ایسے عناصر ملک کے طول و عرض میں بدامنی پھیلانے کے ناپاک ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں جنہیں آہنی ہاتھوں سے روکا جا رہا ہے۔

ترجمان کے مطابق یہ خوارجی دہشت گرد اپنے کمانڈر کے حکم پر کراچی پہنچا تھا جہاں اس کا مقصد شہر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر کی ریکی کرنا اور اہم مقامات کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کرنا تھا۔ یہ ملزم اسلاسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں تخریب کاری کے لیے زمین ہموار کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا مگر حساس اداروں کی بروقت نظر نے اس کے تمام ارادے ناکام بنا دیے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام گرفتار ملزمان کے دیگر ساتھیوں، پناہ دینے والوں اور مالی معاونت فراہم کرنے والے نیٹ ورک کی تلاش بھی شروع کر دی گئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے تمام رابطوں کو کھنگال رہے ہیں تاکہ اس پورے دہشت گرد نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔ کسی بھی سہولت کار کو قانون کی گرفت سے بچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور تمام ملوث کرداروں کو بے نقاب کیا جائے گا۔

گرفتار ہونے والے تمام افراد کے خلاف متعلقہ تھانوں میں انسداد دہشت گردی ایکٹ اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ سی ٹی ڈی اور دیگر سکیورٹی ادارے ملزمان سے مزید اہم انکشافات متوقع کر رہے ہیں جن کی روشنی میں آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔ تفتیشی ٹیمیں تمام شواہد کو اکٹھا کر کے چالان عدالت میں پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

پاکستان کے سکیورٹی ادارے ملک بھر میں بالخصوص بڑے شہروں میں امن و امان کی فضا برقرار رکھنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہیں۔ انٹیلیجنس کی بنیاد پر کی جانے والی مشترکہ کارروائیوں کا یہ سلسلہ اس بات کا غماز ہے کہ ریاست ملک دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر گامزن ہے۔ ان بروقت کارروائیوں کی بدولت دشمن کے تمام عزائم کو خاک میں ملا دیا گیا ہے۔

حساس اداروں اور محکمہ انسداد دہشت گردی کی یہ مشترکہ کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے پوری طرح بیدار ہے۔ عوام بھی سکیورٹی فورسز کی ان قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

ملک کے دفاع اور امن کے دشمنوں کے خلاف یہ کارروائیاں اس وقت تک بلا تعطل جاری رہیں گی جب تک آخری دہشت گرد اور اس کا سہولت کار کیفر کردار تک نہیں پہنچ جاتا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس حوالے سے مزید مستعدی سے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

اس موضوع پر مزید خبریں

جرم و سزا کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں