مواد پر جائیں
ہفتہ، 31 اکتوبر 2026 صبح 9:49 20 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 8:08
تازہ
پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز کا بھرپور جوابی ایکشن، دشمن کی پوسٹیں تباہمیونخ ایئر ڈیزاسٹر یادگار سے قیمتی اشیاء چوری، انتظامیہ کا افسوس کا اظہاراوگرا نے ایل این جی کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیااو ڈی آئی ٹرائی سیریز کا فائنل: پاکستان اور سری لنکا کل لاہور میں مدمقابلہالی وڈ اداکار بریڈ پٹ کا بچوں سے دوری کے حوالے سے جذباتی اظہارانگور اڈہ پر بلا اشتعال فائرنگ: پاک فوج کا بھرپور جوابی ایکشنامریکہ ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے قطری سفارتی وفد تہران پہنچ گیاسپین میں ہولناک ٹرین حادثے نے قبل از وقت انتخابات کا رخ بدل دیابنانس کو تاریخ کے سب سے بڑے ہیک کا سامنا، 6.3 ارب ڈالر چوریروس کے سمارا ریجن کی آئل ریفائنری پر یوکرین کا ڈرون حملہگرین بے پیکیٹرز نے کیرولینا پینتھرز کو 27-19 سے ہرا دیاجیمز اینڈرسن کا لنکاشائر سے علیحدگی پر صدمے کا اظہار، کیریئر کا مستقبل غیر یقینیفیول ریلیف اسکیم کا دائرہ کار وسیع کرنے پر غور، مستفید افراد کی تعداد دو کروڑ تک بڑھانے کا امکانعظیم موسیقار خواجہ خورشید انور کی برسی پر فنی خدمات کو خراجِ تحسینایک روپے کی بھی کرپشن ثابت ہوئی تو استعفیٰ دے دوں گی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازدسمبر سے فروری تک بجلی صارفین کیلئے مشکل ترین ہونے کا خدشہخیبر پختونخوا: ٹی ایم ایز کے لیے اضافی گرانٹ، تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی لازمی قرارکراچی: جعلی پولیس مقابلے میں نوجوان کے قتل پر اہلکار کو سزائے موتخواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان تلخی پارلیمانی نوک جھوک ہے: رانا ثنا اللہبوسنیا: اطالوی فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 4 افراد ہلاک، 11 زخمی
صبح 9:4931 اکتوبر
صحت

خیبر پختونخوا: محکمہ صحت کا 30 ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کرنے کا فیصلہ

محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے جعلی رجسٹریشن اور غیر قانونی تقرریوں کے الزامات ثابت ہونے پر سخت کارروائی کرتے ہوئے 30 ڈاکٹروں کو نوکری سے فارغ کر دیا ہے۔

خیبر پختونخوا: محکمہ صحت کا 30 ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کرنے کا فیصلہ

خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے صوبے بھر کے مختلف طبی مراکز میں تعینات 30 ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ اس اقدام کا باضابطہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے جس کے تحت ان تمام افراد کی خدمات فوری طور پر ختم کر دی گئی ہیں۔

محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ان ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ طویل انکوائری کے بعد کیا گیا۔ ان پر جعلی پی ایم ڈی سی رجسٹریشن اور غیر قانونی تقرریوں کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے جو تحقیقات میں ثابت ہوئے۔

برطرفی سے قبل محکمہ صحت نے ضابطہ اخلاق کے مطابق تمام متعلقہ ڈاکٹروں کو شوکاز نوٹس جاری کیے تھے۔ ان نوٹسز کے جواب میں ڈاکٹروں کی جانب سے پیش کردہ وضاحتوں اور شواہد کا اعلیٰ سطح پر مکمل جائزہ لیا گیا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ تمام ڈاکٹروں کو اپنی صفائی پیش کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا گیا تھا۔ سماعت کے عمل کے دوران ان کے موقف کو سنا گیا اور انکوائری رپورٹس کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا گیا کہ ان کی ملازمتیں برقرار نہیں رکھی جا سکتیں۔

صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق برطرف کیے گئے ڈاکٹروں سے سرکاری واجبات کی وصولی کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔ یہ رقوم ان کی غیر قانونی تعیناتی کے دوران حاصل کردہ تنخواہوں اور دیگر مراعات کی مد میں وصول کی جائیں گی۔

خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں تعینات ان ڈاکٹروں کی برطرفی کا مقصد سرکاری ہسپتالوں میں میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔ محکمہ صحت کا ماننا ہے کہ جعلی اسناد پر کام کرنے والے افراد صحت کے شعبے کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔

صوبائی محکمہ صحت نے واضح کیا ہے کہ صحت کے شعبے میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا جعلی دستاویزات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مستقبل میں بھی ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی جو اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے اس حوالے سے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے ان تمام کیسز کی جانچ پڑتال کی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی تھی کہ ان ڈاکٹروں کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹایا جائے۔

حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب صوبے میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ جعلی ڈگریوں اور غیر قانونی تقرریوں کے خاتمے سے ہسپتالوں میں نظم و ضبط بہتر ہونے کی توقع ہے۔

محکمہ صحت کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ برطرف کیے گئے ڈاکٹروں کے نام پی ایم ڈی سی اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی بھجوا دیے گئے ہیں۔ تاکہ وہ کسی اور جگہ پر بھی اپنی خدمات پیش نہ کر سکیں۔

صوبائی حکومت نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ صحت کے شعبے میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ اس طرح کے اقدامات سے ہی سرکاری ہسپتالوں میں معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔

خیبر پختونخوا کے عوام نے محکمہ صحت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جعلی اسناد رکھنے والے افراد کا طبی شعبے میں کوئی کام نہیں، کیونکہ ان سے مریضوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے یقین دلایا ہے کہ صوبے کے تمام ہسپتالوں میں تعینات عملے کی اسناد کی تصدیق کا عمل جاری رہے گا۔ اس عمل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ صرف اہل اور قابل ڈاکٹر ہی عوام کی خدمت پر مامور رہیں۔

صحت کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں