مواد پر جائیں
ہفتہ، 31 اکتوبر 2026 20 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
سیالکوٹ: ٹک ٹاکر پتلو کی مہندی کی تقریب میں بھگدڑ، 14 افراد زخمیشاداب خان سر پر چوٹ لگنے کے باعث سری لنکا کے خلاف فائنل سے باہرپاکستان ایران امریکا کشیدگی کم کرانے کیلئے محتاط طور پر پرامید ہے: ڈی جی آئی ایس پی آرنوشہرہ: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے اسسٹنٹ کمشنر مانسہرہ شدید زخمیکراچی: سمندر سے واپسی کے بعد 4 ماہی گیر پراسرار طور پر انتقال کر گئےلکی مروت جوڈیشل کمپلیکس میں فائرنگ، پولیس اہلکار جاں بحق اور پیپلز پارٹی رہنما سمیت دو زخمیپنجاب کے 6 سرکاری تعلیمی اداروں کے نام تبدیل کرنے کا فیصلہکیپ ٹاؤن ٹیسٹ: جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کو جیت کے لیے 288 رنز کا ہدف دے دیامحکمہ موسمیات کی ملک بھر میں موسم کی صورتحال کے حوالے سے پیشگوئیشام کا مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور، وزیر خارجہ اسد الشیبانی کا بیانفیصل آباد اور لاہور کے درمیان ٹرین سروس 3 ماہ سے معطل، ریلوے کو کروڑوں کا نقصانمرید کے میں نشے کے عادی شوہر نے بچوں کے سامنے بیوی کا گلا کاٹ دیاراولپنڈی: ٹیکسلا سے پشاور جانے والی ہائی ایس وین حادثے میں 3 افراد جاں بحقحیدرآباد میں سڑک کے بیچ کھمبے چھوڑنا منصوبہ بندی کا حصہ تھا: مراد علی شاہامریکی حکومت کی افغان مہاجرین کو پاکستان بدر کرنے کی تیاریاداکار معمر رانا کی اہلیہ نے خلع لے لیا، فیملی کورٹ نے ڈگری جاری کر دیاوگرا نے ایل پی جی کی قیمت میں بڑا اضافہ کر دیاپاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے اپنی 52 ویں سالگرہ منائیاسلام آباد ہائیکورٹ: مقدمے سے بری ہونے والوں کے سرٹیفکیٹ میں ایف آئی آر درج نہ کرنے کا حکمپاکستان نے اسلامی دنیا کو نئی راہ دکھائی، غیرملکی اڈے حفاظت نہیں کر سکتے: خواجہ آصف
شوبز

عظیم موسیقار خواجہ خورشید انور کی برسی پر فنی خدمات کو خراجِ تحسین

برصغیر کے نامور موسیقار خواجہ خورشید انور کی برسی منائی جارہی ہے، جنھوں نے فلمی موسیقی میں انمٹ نقوش چھوڑے۔

برصغیر پاک و ہند کے ممتاز اور لافانی موسیقار خواجہ خورشید انور کی برسی پر شوبز اور موسیقی کے حلقوں کی جانب سے ان کی فنی خدمات کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا جارہا ہے۔ خواجہ خورشید انور نے اپنی منفرد اور دلکش دُھنوں کے ذریعے فلمی موسیقی کی تاریخ میں جو مقام بنایا، وہ گنتی کے چند فن کاروں کے حصے میں ہی آیا ہے۔ ان کے تخلیق کردہ نغمات آج بھی اتنے ہی شوق سے سنے جاتے ہیں جتنے اپنے دور میں مقبول تھے۔

پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی ان کے فن کو انتہائی عقیدت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کا یہ فنی سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے جس میں انھوں نے فلمی گیتوں کو امر کر دیا۔ ان کی برسی کے موقع پر مداح اور موسیقی کے قدردان ان کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔

خواجہ خورشید انور اکیس مارچ انیس سو بارہ کو پنجاب کے تاریخی شہر میانوالی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد خواجہ فیروز الدین اپنے علاقے کے ایک معروف اور نامور وکیل تھے۔ گھریلو ماحول علمی اور ادبی تھا جس کی وجہ سے خواجہ صاحب کا رجحان شروع ہی سے فنونِ لطیفہ اور ادب کی طرف ہوگیا۔

ابتدائی تعلیم کے بعد انھوں نے فلسفے کے مضمون میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیمی میدان میں شاندار کامیابیاں سمیٹنے کے بعد انھوں نے انیس سو چھتیس میں انڈین سول سروس کا سخت ترین تحریری امتحان دیا اور انتہائی شاندار نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔

ان کی جوانی کا دور برصغیر کی آزادی کی تحریکوں اور انقلابی سرگرمیوں سے بھرپور تھا۔ وہ اس دوران ایک انقلابی تنظیم کے رکن بھی رہے جس کی وجہ سے سرکاری ملازمت کے حصول میں رکاوٹیں آئیں۔

وہ کالج کے دنوں میں جب مشہور انقلابی بھگت سنگھ اور ان کے ساتھی لاہور جیل میں قید تھے، سیاسی سرگرمیوں کے باعث کچھ عرصے کے لیے گرفتار بھی ہوئے تھے۔ تاہم بعد میں انھیں رہائی مل گئی لیکن اس پس منظر کی وجہ سے اب سول سروس میں ان کے لیے کوئی گنجائش باقی نہ رہی تھی۔

وقت کے دھارے نے انھیں سیاست سے نکال کر فن اور موسیقی کی دنیا کی طرف موڑ دیا۔ موسیقی کے ساتھ ان کا یہ عشق آہستہ آہستہ ان کے کیریئر کا محور بن گیا۔

خواجہ خورشید انور کی باقاعدہ فنی تربیت معروف استاد توکل حسین خان صاحب کی زیر نگرانی ہوئی۔ استاد کے فیض اور اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت انھوں نے موسیقی کی باریکیوں کو بہت جلد سمجھ لیا۔

ان کے باقاعدہ فنی سفر کا آغاز انیس سو انتالیس میں آل انڈیا ریڈیو لاہور سے ہوا۔ ریڈیو کے توسط سے ان کا کام سامعین تک پہنچا اور بہت جلد ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا جانے لگا۔

ان کی ترتیب دی گئی موسیقی کے ساتھ پہلی فلم انیس سو اکتالیس میں بمبئی سے ریلیز ہوئی۔ اس پہلی کام یابی کے بعد بمبئی کی فلمی صنعت میں ان کے لیے ترقی کے دروازے کھل گئے۔

تقسیم کے بعد بھی وہ کچھ عرصہ وہاں رہے لیکن انیس سو ترپن میں وہ مستقل طور پر بمبئی سے لاہور منتقل ہوگئے۔ لاہور منتقلی کے بعد انھوں نے پاکستانی فلمی صنعت کو اپنے فن سے مالا مال کیا۔

اپنے پورے فلمی کیریئر کے دوران انھوں نے مجموعی طور پر اٹھارہ فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ ان میں انتظار، ہیر رانجھا اور کویل جیسی بے شمار یادگار اور سپرہٹ فلمیں شامل ہیں۔

موسیقی کے علاوہ وہ ایک کامیاب فلم ساز اور ہدایت کار بھی تھے۔ انھوں نے ہمراز، چنگاری اور گھونگھٹ جیسی معیاری فلمیں بنائیں اور ان تمام فلموں کی موسیقی بھی خود ترتیب دی۔

ان کی بنائی ہوئی فلموں اور دھنوں نے باکس آفس پر کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ ان کے گیتوں میں مشرقی کلاسیکی موسیقی اور عوامی رجحانات کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔

ان کے سدا بہار نغمات میں ملکہ ترنم نور جہاں کا گایا ہوا دل کا دیا جلایا اور رم جھم رم جھم پڑے پھوار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ استاد مہدی حسن کی آواز میں ان کا ریکارڈ کردہ گیت مجھ کو آواز دے تو کہاں ہے آج بھی شاہکار مانا جاتا ہے۔

ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے ان کو ستارۂ امتیاز سے نوازا۔ اس کے علاوہ فلمی دنیا نے انھیں نگار ایوارڈز سے بھی سرفراز کیا۔

انیس سو پچپن میں فلم انتظار کے لیے انھیں بہترین موسیقار اور بہترین فلم ساز کے صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز ان کی فنی گیرائی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

مشہور موسیقار وزیر افضل خواجہ خورشید انور کے شاگردوں میں شامل تھے اور وہ ہمیشہ فخر سے اپنے استاد کا ذکر کرتے تھے۔ وزیر افضل کا ماننا تھا کہ مشرقی کلاسیکی موسیقی کا جتنا گہرا ادراک خواجہ صاحب کو تھا، وہ شاید ہی کسی اور فلمی موسیقار کو حاصل ہو۔

تیس اکتوبر انیس سو چوراسی کو یہ عظیم فنکار اس دارِ فانی سے کوچ کر گیا۔ ان کی وفات سے برصغیر کا موسیقی کا ایک درخشاں باب تمام ہوگیا۔

آج ان کی برسی کے موقع پر ان کے چاہنے والے اس عہد کا اعادہ کرتے ہیں کہ خواجہ خورشید انور کا فن ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ان کی سگھڑ دھنیںے آنے والی نسلوں کو بھی موسیقی کی گہرائی سے روشناس کراتی رہیں گی۔

اس موضوع پر مزید خبریں

شوبز کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں