اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے شروع کی گئی 'پاسبان ریمیٹنس ریوارڈز اسکیم' کے حوالے سے اہم تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد قانونی ذرائع سے ترسیلاتِ زر کو فروغ دینا ہے، جس کے تحت سالانہ 16 ارب روپے کے نقد انعامات تقسیم کیے جائیں گے۔
اسکیم کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شمولیت کے لیے کسی قسم کی رجسٹریشن، ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے یا فیس ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بیرون ملک سے قانونی ذرائع کے ذریعے رقم وصول کرنے والے تمام اہل افراد خود بخود اس قرعہ اندازی کا حصہ بن جائیں گے۔
اسکیم میں اہلیت برقرار رکھنے کے لیے 'تین ماہ کی شرط' کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، ایک ہی اکاؤنٹ میں سہ ماہی کے دوران ہر ماہ کم از کم 100 امریکی ڈالر کے مساوی رقم وصول ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی صارف صرف ایک ماہ رقم وصول کرتا ہے اور باقی دو ماہ ترسیلات نہیں آتی تو وہ قرعہ اندازی کے لیے نااہل تصور ہوگا۔
اسکیم کا آغاز یکم اکتوبر 2026 سے ہو چکا ہے، جس کی پہلی سہ ماہی 31 دسمبر 2026 کو مکمل ہوگی۔ اس کے بعد پہلی قرعہ اندازی 15 جنوری 2027 کو منعقد کی جائے گی۔ کامیاب ہونے والے خوش نصیبوں کو انعامی رقم ان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کر دی جائے گی۔
انعامات کی تقسیم کے لیے مختلف خطوں کا کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ خلیجی ممالک (GCC) کے لیے 50 فیصد، برطانیہ کے لیے 15 فیصد، یورپ کے لیے 15 فیصد، جبکہ شمالی امریکا اور دیگر ممالک کے لیے 10، 10 فیصد کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ تاہم، پہلا انعام تمام خطوں کے لیے یکساں طور پر کھلا رکھا گیا ہے۔
اسکیم کے تحت بننے والی انٹریاں خودکار طریقے سے ون لنک کے ذریعے تیار کی جائیں گی۔ ہر 100 ڈالر کی ترسیل پر ایک انٹری شمار ہوگی اور انٹریوں کی تعداد پر کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے۔ تاہم، یہ انٹریاں عارضی ہوں گی اور سہ ماہی ختم ہونے پر اگلی سہ ماہی میں منتقل نہیں ہوں گی۔
واضح رہے کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس، فارن کرنسی اکاؤنٹس، کمرشل و بزنس اکاؤنٹس، اور کاؤنٹر سے نقد وصول کی گئی ترسیلات اس اسکیم کا حصہ نہیں ہوں گی۔ اس کے علاوہ بینکوں کے ملازمین اور متعلقہ اداروں کے اہلکار بھی اس قرعہ اندازی میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہوں گے۔
بینکنگ حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ انعام کے نام پر کسی بھی قسم کی فیس یا رقم کا مطالبہ کرنے والے افراد سے ہوشیار رہیں۔ کسی بھی شخص کے ساتھ اپنا او ٹی پی (OTP)، پن (PIN) یا بینک پاس ورڈ ہرگز شیئر نہ کریں اور اپنی بینکنگ معلومات کو اپ ڈیٹ رکھیں۔
اسکیم کے تمام تر اخراجات شریک بینک اپنے وسائل سے ادا کریں گے، جس کا مطلب ہے کہ قومی خزانے پر اس کا کوئی بوجھ نہیں پڑے گا۔ یہ اقدام پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے اشتراک سے عمل میں لایا گیا ہے تاکہ ترسیلاتِ زر میں اضافہ کیا جا سکے۔
قرعہ اندازی کے کامیاب افراد کو انعام والے ماہ کی 21 تاریخ تک رقم ان کے بینک اکاؤنٹ میں پاکستانی روپے میں منتقل کر دی جائے گی۔ اس رقم پر قابلِ اطلاق ودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی قانون کے مطابق کی جائے گی، جس سے متعلق صارفین کو آگاہ رکھا جائے گا۔
اسکیم میں شامل ہونے کے لیے کسی بھی قسم کی درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر اہل ترسیلِ زر کی ڈالر کے مساوی رقم کو قریب ترین 100 ڈالر تک راؤنڈ کر کے ون لنک کے ذریعے خودکار طور پر انٹریاں تیار کی جاتی ہیں، جو شفافیت کو یقینی بناتی ہیں۔
اگر کسی صارف کو سیکیورٹی یا کسی مشکوک سرگرمی کا سامنا ہو تو اسے فوری طور پر اپنے متعلقہ بینک سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بینکنگ حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی فراڈ یا منسوخ شدہ ٹرانزیکشنز کو اس اسکیم میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
یہ اسکیم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ قانونی ذرائع سے رقم بھجوا کر نہ صرف ملکی معیشت کو مستحکم کریں بلکہ انعامات جیتنے کا موقع بھی حاصل کریں۔ تمام متعلقہ معلومات بینکوں کی ویب سائٹس پر بھی دستیاب ہیں۔





اپنی رائے دیں