کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں شہریوں کو اسلحے کے ذریعے ہراساں کرنے کے مبینہ واقعات کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
وائرل ہونے والی ویڈیوز میں کار میں سوار چند نوجوانوں کو اسلحہ لہراتے ہوئے اور سڑک پر چلنے والے راہگیروں، بشمول لڑکوں اور لڑکیوں کو خوفزدہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس پر شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کی خصوصی ہدایات پر ساؤتھ ڈسٹرکٹ پولیس نے ان ویڈیوز کا نوٹس لیتے ہوئے ملوث افراد کی شناخت اور ان کی گرفتاری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ علاقے میں امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔
پولیس ترجمان کے مطابق ابتدائی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ویڈیوز تقریباً 32 گھنٹے قبل سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی گئی تھیں، تاہم جس اکاؤنٹ سے یہ مواد شیئر کیا گیا تھا اسے بعد ازاں حذف کر دیا گیا ہے۔
تحقیقاتی ٹیمیں اب اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ آیا یہ ویڈیوز حقیقی ہیں یا ان میں کسی قسم کی تکنیکی تبدیلی کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں این سی سی آئی اے سے بھی تکنیکی معاونت طلب کی گئی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ کا سراغ لگانے اور اس سے متعلق تکنیکی معلومات حاصل کرنے کے لیے سائبر کرائم کے ماہرین کی مدد لی جا رہی ہے تاکہ ویڈیو اپلوڈ کرنے والے اصل کردار تک پہنچا جا سکے۔
ویڈیو میں نظر آنے والے مقامات کی نشاندہی کے بعد متعلقہ علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے تاکہ واقعے کے وقت اور حالات کی درست تصدیق کی جا سکے اور ملوث گاڑیوں کا سراغ لگایا جا سکے۔
ابتدائی مشاہدے کے دوران پولیس کو یہ شبہ بھی ہے کہ ویڈیو کے کچھ حصے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کیے گئے ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے حتمی رائے فرانزک جانچ اور ٹھوس شواہد ملنے کے بعد ہی قائم کی جائے گی۔
پولیس کی جانب سے ویڈیو میں نظر آنے والے پھول فروشوں اور دیگر ممکنہ عینی شاہدین کی تلاش بھی جاری ہے تاکہ ان کے بیانات کی روشنی میں واقعے کی حقیقت کو پرکھا جا سکے اور کسی بھی قسم کی غلط فہمی کو دور کیا جا سکے۔
ترجمان ساؤتھ زون پولیس نے واضح کیا ہے کہ تمام دستیاب شواہد کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے اور کسی بھی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ڈی ایچ اے جیسے حساس اور مصروف علاقے میں اس طرح کی سرگرمیوں پر شہریوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر قریبی تھانے کو دیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
پولیس کی جانب سے علاقے میں گشت بڑھانے کے احکامات بھی دیے گئے ہیں تاکہ شہریوں کو تحفظ کا احساس دلایا جا سکے اور اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے مزید مؤثر حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔


اپنی رائے دیں