مواد پر جائیں
جمعرات، 29 اکتوبر 2026 18 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 8:14
بریکنگ
پنجاب میں جعلی ہارمونل دوا کی فروخت پر الرٹ جاریکار سرکار میں مداخلت کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزاکے ایم سی کے 10 ہزار ملازمین کی ڈگریاں تصدیق کروانے کا حکمبلوچستان کی باہمت خاتون کرکٹر زمر شفیع کینسر کے باوجود میدان میں ڈٹ گئیںمولانا فضل الرحمان کے بیان پر محسن نقوی کا سخت ردعمل، احترام کی گنجائش ختم ہونے کا اعلانپاکستان میں سونے کی قیمت مستحکم، چاندی کے نرخوں میں کمیپاسبان ریمیٹنس ریوارڈز اسکیم: 16 ارب روپے کے انعامات جیتنے کا طریقہ کار واضحلاہور ہائیکورٹ: نیورو سرجری اسسٹنٹ پروفیسرز کی بھرتیاں پی ایم ڈی سی ضوابط کے تابع قرارلکی مروت: دو سالہ بچہ اغوا کے بعد قتل، بوری بند لاش برآمدکراچی: بنارس موبائل مارکیٹ میں ڈکیتی کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پرکراچی کے علاقے ڈیفنس میں شہریوں کو ہراساں کرنے کی ویڈیوز، پولیس کی تحقیقات جاریکراچی: شاہ فیصل کالونی میں بھائی نے فائرنگ کر کے دو بہنوں کو قتل کر دیاخیبر پختونخوا میں تجاوزات کیخلاف گرینڈ آپریشن کا آغاز، غیر قانونی تعمیرات مسماردرآمدی گندم کی آمد، آٹے اور گندم کی قیمتوں میں کمی کا امکانبھارت: مائیکروسافٹ ملازم کو نوکری چھوڑنے پر 11 لاکھ کی پیشکش، انٹرنیٹ پر بحثثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے نہم جماعت سائنس گروپ کے نتائج کا اعلان کر دیابلوچستان: سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 9 دہشت گرد ہلاکآئی سی سی رینکنگ میں بڑی تبدیلی، مارکو جینسن اور ابھیشیک شرما نمبر ون بن گئےامریکا کی ایران پر ممکنہ بڑے حملے کی تیاری، خلیجی ممالک کو آگاہ کر دیاکراچی: عمرہ ویزے کی آڑ میں غیر قانونی سفر کی کوشش ناکام، دو بھائی گرفتار
کھیل

بلوچستان کی باہمت خاتون کرکٹر زمر شفیع کینسر کے باوجود میدان میں ڈٹ گئیں

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی زمر شفیع بریسٹ کینسر جیسی موذی بیماری کے باوجود روزانہ کئی گھنٹے کرکٹ کی پریکٹس کر کے عزم و ہمت کی نئی مثال قائم کر رہی ہیں۔

بلوچستان کی باہمت خاتون کرکٹر زمر شفیع کینسر کے باوجود میدان میں ڈٹ گئیں

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی ایک باہمت خاتون کرکٹر زمر شفیع نے اپنی زندگی میں پیش آنے والی مشکلات اور بیماری کو شکست دیتے ہوئے کرکٹ کے میدان میں اپنی موجودگی کو یقینی بنایا ہے اور ہمت کی نئی داستان رقم کی ہے۔

زمر شفیع کا تعلق کوئٹہ کے علاقے سریاب سے ہے اور وہ گزشتہ کچھ عرصے سے بریسٹ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ تاہم، بیماری کی تشخیص کے باوجود انہوں نے کھیل سے اپنی محبت کو کم نہیں ہونے دیا اور پرعزم ہیں۔

ایک باوقار اور پرعزم کھلاڑی کی حیثیت سے زمر شفیع نے اپنی روزمرہ کی زندگی میں کرکٹ کی پریکٹس کو شامل کر رکھا ہے۔ وہ روزانہ دو سے تین گھنٹے میدان میں گزارتی ہیں اور باقاعدگی سے اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مصروف عمل رہتی ہیں۔

جسمانی درد، شدید تھکن اور علاج کے دوران پیش آنے والی مشکلات کے باوجود زمر شفیع کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرکٹ ان کی زندگی کا اہم سہارا ہے اور یہ کھیل ہی انہیں ذہنی سکون اور تقویت فراہم کرتا ہے۔

زمر شفیع نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بیماری اور مشکلات کے باوجود ان کا کرکٹ کے لیے جنون پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ کھیل ہی ان کی زندگی میں امید کی ایک بڑی کرن ثابت ہو رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ مستقبل میں بلوچستان اور پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کرنے کا خواب دیکھتی ہیں۔ ان کی یہ انتھک جدوجہد ان تمام لوگوں کے لیے ایک مثال ہے جو زندگی میں مشکلات کے سامنے ہمت ہار جاتے ہیں۔

زمر شفیع کی اس ہمت اور کرکٹ سے لگاؤ کو مقامی سطح پر بے حد سراہا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر حلقوں میں ان کی اس ثابت قدمی کی تعریف کی جا رہی ہے جو ثابت کرتی ہے کہ عزم پختہ ہو تو کوئی رکاوٹ آڑے نہیں آتی۔

پاکستان میں خواتین کرکٹرز کی حوصلہ افزائی کے لیے اس طرح کی مثالیں انتہائی اہم ہیں۔ زمر شفیع کا سفر نہ صرف بلوچستان کی دیگر خواتین کے لیے مشعل راہ ہے بلکہ یہ کھیل کے میدان میں ان کی گہری لگن کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو کھیلوں کے میدان میں بہت سی سماجی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زمر شفیع نے ان تمام رکاوٹوں کو عبور کر کے اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔

کرکٹ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ زمر شفیع جیسے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنے خوابوں کی تکمیل کر سکیں۔ ان کا جذبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کھیل کسی بھی بیماری یا مشکل سے لڑنے کی طاقت دیتے ہیں۔

زمر شفیع کی پریکٹس کے معمولات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ اپنی صحت کے ساتھ ساتھ اپنے کھیل پر بھی بھرپور توجہ دے رہی ہیں۔ ان کی یہ کوششیں آنے والے وقت میں انہیں ایک بہتر کھلاڑی کے طور پر ابھار سکتی ہیں۔

ہم امید کرتے ہیں کہ زمر شفیع کی یہ ہمت رنگ لائے گی اور وہ جلد ہی مکمل صحت یاب ہو کر قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گی۔ ان کی کہانی ہر اس شخص کے لیے سبق ہے جو زندگی میں ہمت ہارنے لگتا ہے۔

زمر شفیع کی یہ کہانی ثابت کرتی ہے کہ اگر انسان کے اندر کچھ کر دکھانے کا جذبہ موجود ہو تو بڑی سے بڑی بیماری بھی اس کے ارادوں کو متزلزل نہیں کر سکتی۔ وہ آج بھی پوری تندہی کے ساتھ اپنے کھیل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کھیل کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں