صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی ایک باہمت خاتون کرکٹر زمر شفیع نے اپنی زندگی میں پیش آنے والی مشکلات اور بیماری کو شکست دیتے ہوئے کرکٹ کے میدان میں اپنی موجودگی کو یقینی بنایا ہے اور ہمت کی نئی داستان رقم کی ہے۔
زمر شفیع کا تعلق کوئٹہ کے علاقے سریاب سے ہے اور وہ گزشتہ کچھ عرصے سے بریسٹ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ تاہم، بیماری کی تشخیص کے باوجود انہوں نے کھیل سے اپنی محبت کو کم نہیں ہونے دیا اور پرعزم ہیں۔
ایک باوقار اور پرعزم کھلاڑی کی حیثیت سے زمر شفیع نے اپنی روزمرہ کی زندگی میں کرکٹ کی پریکٹس کو شامل کر رکھا ہے۔ وہ روزانہ دو سے تین گھنٹے میدان میں گزارتی ہیں اور باقاعدگی سے اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مصروف عمل رہتی ہیں۔
جسمانی درد، شدید تھکن اور علاج کے دوران پیش آنے والی مشکلات کے باوجود زمر شفیع کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرکٹ ان کی زندگی کا اہم سہارا ہے اور یہ کھیل ہی انہیں ذہنی سکون اور تقویت فراہم کرتا ہے۔
زمر شفیع نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بیماری اور مشکلات کے باوجود ان کا کرکٹ کے لیے جنون پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ کھیل ہی ان کی زندگی میں امید کی ایک بڑی کرن ثابت ہو رہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ مستقبل میں بلوچستان اور پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کرنے کا خواب دیکھتی ہیں۔ ان کی یہ انتھک جدوجہد ان تمام لوگوں کے لیے ایک مثال ہے جو زندگی میں مشکلات کے سامنے ہمت ہار جاتے ہیں۔
زمر شفیع کی اس ہمت اور کرکٹ سے لگاؤ کو مقامی سطح پر بے حد سراہا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر حلقوں میں ان کی اس ثابت قدمی کی تعریف کی جا رہی ہے جو ثابت کرتی ہے کہ عزم پختہ ہو تو کوئی رکاوٹ آڑے نہیں آتی۔
پاکستان میں خواتین کرکٹرز کی حوصلہ افزائی کے لیے اس طرح کی مثالیں انتہائی اہم ہیں۔ زمر شفیع کا سفر نہ صرف بلوچستان کی دیگر خواتین کے لیے مشعل راہ ہے بلکہ یہ کھیل کے میدان میں ان کی گہری لگن کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو کھیلوں کے میدان میں بہت سی سماجی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زمر شفیع نے ان تمام رکاوٹوں کو عبور کر کے اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔
کرکٹ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ زمر شفیع جیسے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنے خوابوں کی تکمیل کر سکیں۔ ان کا جذبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کھیل کسی بھی بیماری یا مشکل سے لڑنے کی طاقت دیتے ہیں۔
زمر شفیع کی پریکٹس کے معمولات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ اپنی صحت کے ساتھ ساتھ اپنے کھیل پر بھی بھرپور توجہ دے رہی ہیں۔ ان کی یہ کوششیں آنے والے وقت میں انہیں ایک بہتر کھلاڑی کے طور پر ابھار سکتی ہیں۔
ہم امید کرتے ہیں کہ زمر شفیع کی یہ ہمت رنگ لائے گی اور وہ جلد ہی مکمل صحت یاب ہو کر قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گی۔ ان کی کہانی ہر اس شخص کے لیے سبق ہے جو زندگی میں ہمت ہارنے لگتا ہے۔
زمر شفیع کی یہ کہانی ثابت کرتی ہے کہ اگر انسان کے اندر کچھ کر دکھانے کا جذبہ موجود ہو تو بڑی سے بڑی بیماری بھی اس کے ارادوں کو متزلزل نہیں کر سکتی۔ وہ آج بھی پوری تندہی کے ساتھ اپنے کھیل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔



اپنی رائے دیں