کراچی کی بندرگاہ پر درآمدی گندم کی بڑی کھیپ پہنچنے کے بعد ملک بھر میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی توقع پیدا ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق 51 ہزار ٹن گندم لے کر ایک بحری جہاز کراچی پورٹ کے برتھ نمبر 16 اور 17 پر پہنچ چکا ہے۔
اس سلسلے میں مزید پیش رفت کرتے ہوئے 3 نومبر کو ایک اور جہاز 59 ہزار 132 ٹن گندم لے کر کراچی پہنچے گا۔ اس طرح دونوں جہازوں کے ذریعے مجموعی طور پر ایک لاکھ 10 ہزار ٹن سے زائد گندم درآمد کی جا رہی ہے جس سے مقامی منڈی میں رسد بہتر ہوگی۔
وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر حسین نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ چند روز میں گندم کی قیمتیں معمول پر آ جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ عرصے میں قیمتوں میں اضافہ مصنوعی تھا جس کے پیچھے بعض عناصر کی منڈی میں مداخلت کارفرما تھی۔
وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ حکومت نے تمام صوبوں کے ساتھ مشاورت اور مکمل اتفاق رائے کے بعد گندم کی قیمت 4500 روپے فی من مقرر کی ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرنا اور انہیں ان کی محنت کا جائز معاوضہ فراہم کرنا ہے۔
حکومت نے 40 سال بعد ایک جامع قومی گندم پالیسی تشکیل دی ہے جس کے تحت ملک میں گندم کے 60 لاکھ میٹرک ٹن تک اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھے جائیں گے۔ رانا تنویر حسین نے عوام کو یقین دلایا کہ ملک میں گندم کی کوئی قلت نہیں ہے اور وافر ذخائر موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت درآمدی گندم کے بجائے مقامی کسانوں سے خریداری کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ ملکی زرعی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔ پاسکو کے ذخائر سے اب تک صوبوں کو 13 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم فراہم کی جا چکی ہے۔
صوبائی حکومتوں کی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے ساڑھے 5 لاکھ میٹرک ٹن تک مزید گندم درآمد کرنے کے انتظامات بھی کر رکھے ہیں۔ ان اقدامات سے مارکیٹ میں گندم کی دستیابی یقینی بنائی جا رہی ہے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔
کے جی ٹی ایم ایل کے ذریعے کراچی پورٹ پر گندم کی ہینڈلنگ کا عمل تیزی سے جاری ہے تاکہ درآمدی گندم کو جلد از جلد ملک کے مختلف حصوں تک پہنچایا جا سکے۔ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ ترسیل کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آنے دی جائے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ درآمدی گندم کی آمد سے آٹے کی قیمتوں میں کمی کا رجحان پیدا ہوگا جس سے مہنگائی کے ستائے عوام کو بڑی ریلیف ملے گی۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں کے تعین اور ذخائر کی نگرانی کا عمل جاری رہے گا تاکہ مصنوعی قلت پیدا نہ ہو۔
وفاقی وزیر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پریشان نہ ہوں کیونکہ حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ میں رہیں۔ گندم کی سپلائی چین کو بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
ملک بھر میں گندم کی قیمتوں میں استحکام کے لیے صوبائی حکومتوں کو بھی متحرک کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی سطح پر نگرانی کا نظام مضبوط بنائیں۔ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ بھی دیا گیا ہے تاکہ منڈی میں شفافیت برقرار رہے۔
پاکستان کی زرعی پالیسی میں یہ ایک اہم موڑ ہے جہاں طویل مدتی منصوبہ بندی کے ذریعے گندم کی قلت کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کسانوں کی خوشحالی اور صارفین کے لیے سستی روٹی کی فراہمی حکومت کا عزم ہے۔
آنے والے دنوں میں گندم کی نئی کھیپ مارکیٹ میں آنے سے آٹے کے نرخوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئے گی۔ انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قیمتوں کے تعین پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ عوام کو سرکاری نرخوں پر آٹا مل سکے۔


اپنی رائے دیں