کراچی کے علاقے بنارس موبائل مارکیٹ میں ڈکیتی کی ایک بڑی واردات پیش آئی ہے جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج اب منظر عام پر آ گئی ہے۔ اس واقعے نے مقامی تاجروں میں خوف و ہراس اور شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ چھ مسلح ملزمان نے منصوبہ بندی کے تحت دکان میں داخل ہو کر دکاندار کو اسلحہ کے زور پر یرغمال بنایا۔ ملزمان نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے اپنے چہروں کو کپڑے سے ڈھانپ رکھا تھا۔
واردات کے دوران ملزمان نے دکان سے قیمتی موبائل فونز اور نقدی لوٹی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملزمان تقریباً 45 سے 50 لاکھ روپے مالیت کے موبائل فونز اور دیگر سامان لوٹنے کے بعد باآسانی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس حکام نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور شواہد اکٹھے کیے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی شناخت کے لیے مزید سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ ان تک رسائی ممکن ہو سکے۔
صدر کراچی موبائل اینڈ الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اس سنگین واردات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تاجروں کی جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
تاجر رہنماؤں نے اے آئی جی کراچی سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں اور مارکیٹ میں سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کریں۔ تاجر برادری نے مطالبہ کیا کہ جرائم پیشہ عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
کراچی میں اس طرح کی وارداتوں کا بڑھنا تاجر برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ آئے روز پیش آنے والے ڈکیتی کے واقعات سے کاروبار کرنے والے افراد عدم تحفظ کا شکار ہو رہے ہیں اور حکومت سے فوری اقدامات کے منتظر ہیں۔
پولیس کے مطابق تفتیشی ٹیمیں اس کیس پر کام کر رہی ہیں اور علاقے میں موجود دیگر کیمروں کی مدد سے ملزمان کے فرار ہونے کے راستوں کا تعین کیا جا رہا ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ جلد ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔
شہر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی جانب سے گشت بڑھانے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، تاہم بنارس مارکیٹ میں پیش آنے والا یہ واقعہ سیکیورٹی انتظامات پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
تاجر برادری نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ملزمان کو جلد گرفتار نہ کیا گیا تو وہ احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ تاجروں کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے جسے پورا کیا جانا چاہیے۔
واقعے کے بعد مارکیٹ میں سیکیورٹی کے حوالے سے نئے سرے سے غور کیا جا رہا ہے۔ دکانداروں نے اپنی مدد آپ کے تحت بھی سیکیورٹی کے انتظامات بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسی وارداتوں سے بچا جا سکے۔
پولیس حکام نے یقین دلایا ہے کہ وہ اس کیس کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھ رہے ہیں اور کسی بھی مشتبہ شخص کو بخشا نہیں جائے گا۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں۔
اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو رہی ہے جس کے بعد عوام کی جانب سے بھی ملزمان کی گرفتاری کے لیے شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ شہر میں بڑھتی ہوئی اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہیں۔




اپنی رائے دیں