ملکی کرنسی مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز ملا جلا رجحان دیکھا گیا جہاں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی پوزیشن قدرے مستحکم رہی۔ فاریکس ڈیلرز کے مطابق مقامی مارکیٹ میں ڈالر کی طلب میں کمی کے باعث اس کی قدر پر دباؤ برقرار رہا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں لین دین کے اختتام پر امریکی کرنسی کی قدر میں 3 پیسے کی کمی واقع ہوئی۔ اس معمولی کمی کے بعد ڈالر 276 روپے 90 پیسے سے کم ہو کر 276 روپے 87 پیسے پر بند ہوا۔
انٹربینک مارکیٹ کی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی امریکی ڈالر کے نرخ میں تنزلی ریکارڈ کی گئی۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں ایک پیسے کی کمی دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں امریکی کرنسی 278 روپے 63 پیسے کی سطح پر آگئی۔
دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں یورپی اور برطانوی کرنسیوں کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں پیش آنے والی تبدیلیوں کے اثرات مقامی سطح پر بھی یورو اور پاؤنڈ کے نرخوں پر واضح طور پر دیکھے گئے۔
اوپن مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق یورپی یونین کی مشترکہ کرنسی یورو کی قدر میں 21 پیسے کا اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد مقامی مارکیٹ میں یورو کی قیمت بڑھ کر 313 روپے 89 پیسے پر جا پہنچی۔
برطانوی پاؤنڈ کی مانگ میں بھی تیزی دیکھی گئی جس کے باعث اس کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروباری دن کے دوران پاؤنڈ 41 پیسے مہنگا ہوا، جس سے اوپن مارکیٹ میں اس کی لین دین کی سطح 372 روپے 65 پیسے تک پہنچ گئی۔
خلیجی کرنسیوں کے حوالے سے بھی اوپن مارکیٹ میں مختلف نوعیت کی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ عمرہ اور تجارتی ضروریات کے باعث سعودی ریال کی قیمت میں 2 پیسے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد ریال 74 روپے 49 پیسے کی سطح پر فروخت ہوتا رہا۔
سعودی ریال کے برعکس متحدہ عرب امارات کے درہم کی قیمت میں استحکام برقرار رہا۔ کاروباری سرگرمیوں کے دوران اماراتی درہم کے نرخ میں کوئی ردوبدل نہیں ہوا اور یہ کرنسی بغیر کسی تبدیلی کے 76 روپے 20 پیسے کی سابقہ سطح پر برقرار رہی۔
معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک میں جاری مالیاتی اقدامات اور زرمبادلہ پر سخت نگرانی کے باعث روپے کی قدر کو سہارا مل رہا ہے۔ درآمدات کے نظم اور ترسیلاتِ زر کے تسلسل نے انٹربینک مارکیٹ میں زرمبادلہ کی صورتحال کو متوازن رکھنے میں مدد دی ہے۔
بینکنگ ذرائع کے مطابق درآمدی ادائیگیوں کے باقاعدہ نظام اور برآمد کنندگان کی جانب سے زرمبادلہ کی آمد نے روپے کو مستحکم بنانے میں کردار ادا کیا ہے، جس کی بدولت گزشتہ دو روز سے انٹربینک میں ڈالر میں مسلسل معمولی کمی دیکھی جا رہی ہے۔
اوپن مارکیٹ اور انٹربینک مارکیٹ کے درمیان ڈالر کے نرخوں کا فرق بھی معمول کی سطح پر برقرار ہے۔ مالیاتی قوانین اور ایکسچینج کمپنیوں کے لیے متعین کردہ حکومتی قواعد و ضوابط کی بدولت کرنسی کے غیر قانونی لین دین کی روک تھام میں مدد ملی ہے۔
کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ بیرونی ادائیگیوں کے توازن کے باعث فی الوقت ڈالر کی قیمت میں کسی بڑے اتار چڑھاؤ کے امکانات کم ہیں، جس سے درآمدی سامان کے نرخوں میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
مجموعی طور پر دن کے اختتام پر کرنسی مارکیٹ کا رجحان روپے کی معمولی برتری کے ساتھ ختم ہوا، تاہم یورو اور برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں اضافے کا رجحان برقرار رہا۔





اپنی رائے دیں