راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ون ڈے سہ ملکی سیریز کے ایک اہم میچ میں پاکستان نے شاندار اور ذمہ دارانہ کھیل پیش کرتے ہوئے انگلینڈ کی مضبوط ٹیم کو 87 رنز کے واضح مارجن سے شکست دے دی۔
میچ کے آغاز میں انگلینڈ کے کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور پاکستانی ٹیم کو بیٹنگ کی دعوت دی جو کہ ابتدا میں درست ثابت ہوتا دکھائی دیا۔
قومی ٹیم کی اننگز کا آغاز انتہائی مایوس کن انداز میں ہوا جب میچ کی پہلی ہی گیند پر تجربہ کار اوپنر فخر زمان بغیر کوئی رن بنائے پویلین واپس لوٹ گئے۔
انگلینڈ کے فاسٹ بولر گس اٹکنسن نے اننگز کی پہلی ہی بال پر فخر زمان کو جو روٹ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرا کے قومی ٹیم کو زبردست دھچکا پہنچایا۔
اس کے فوراً بعد دوسرے اوپنر صائم ایوب بھی زیادہ دیر کریز پر نہ ٹک سکے اور محض 8 رنز کے انفرادی اسکور پر سونی بیکر کا شکار بن گئے۔
اکیس رنز پر دو وکٹیں گرنے کے بعد سابق کپتان بابر اعظم اور وکٹ کیپر بیٹر سعد بیگ نے پچ پر کچھ دیر قیام کیا اور اسکور کو آگے بڑھایا۔
بابر اعظم نے 34 رنز کی اننگز کھیلی جس کے دوران انہوں نے چند اچھے شاٹس کھیلے تاہم وہ ول جیکس کی گیند پر بولڈ ہو کر آؤٹ ہو گئے۔
سعد بیگ نے بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 35 رنز بنائے اور ٹیم کے مجموعی اسکور کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کیا جبکہ سلمان علی آغا 16 رنز بنا سکے۔
ایک موقع پر پاکستان کی پانچ وکٹیں محض 133 رنز کے مجموعے پر گر چکی تھیں اور اننگز جلد ختم ہونے کا خدشہ منڈلا رہا تھا جس پر شائقین پریشان تھے۔
ایسے مشکل ترین وقت میں حسن نواز اور نوجوان آل راؤنڈر عرفات منہاس نے شاندار شراکت داری قائم کی اور انگلش بولرز کے خلاف جارحانہ انداز اپنایا۔
حسن نواز نے انتہائی شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 79 رنز کی یادگار اننگز کھیلی اور مخالف بولرز پر دباؤ برقرار رکھا۔
دوسری جانب عرفات منہاس نے بھی ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کیا اور 59 رنز کی قیمتی اننگز کھیل کر ٹیم کے اسکور کو معتبر مقام تک پہنچایا۔
مڈل آرڈر کے بعد فہیم اشرف نے بھی جارحانہ انداز میں 39 رنز بنائے جبکہ آخری اوورز میں شاہین آفریدی نے 10 اور حارث رؤف نے 4 رنز کا اضافہ کیا۔
قومی ٹیم نے مقررہ پچاس اوورز میں نو وکٹوں کے نقصان پر 302 رنز کا بڑا مجموعہ بورڈ پر سجایا جو کہ ایک دفاعی لحاظ سے مستحکم اسکور تھا۔
انگلینڈ کی جانب سے بولنگ کرتے ہوئے سونی بیکر نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ گس اٹکنسن نے دو وکٹیں اپنے نام کیں۔
اس کے علاوہ ول جیکس، جمی اوورٹن، عادل رشید اور سیم کرن نے ایک ایک وکٹ حاصل کی اور پاکستانی بلے بازوں کو وقفے وقفے سے آؤٹ کیا۔
جواب میں تین سو تین رنز کے ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کی ٹیم کا آغاز بھی اچھا نہ رہا اور پاکستانی بولرز نے ابتدائی اوورز سے ہی دباؤ ڈالا۔
انگلینڈ کی جانب سے ٹام بینٹن نے سب سے زیادہ 57 رنز بنائے جبکہ بین ڈکٹ نے 45 اور تجربہ کار جو روٹ نے 33 رنز کی اننگز کھیلی۔
تاہم پاکستانی اسپنرز اور بالخصوص عرفات منہاس کی تباہ کن بولنگ کے سامنے انگلش مڈل آرڈر اور لوئر آرڈر بری طرح ناکام ثابت ہوا۔
عرفات منہاس نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف 40 رنز کے عوض انگلینڈ کے 6 اہم بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔
عرفات منہاس کی اس جادوئی بولنگ نے انگلینڈ کی بیٹنگ لائن کی کمر توڑ دی اور کوئی بھی کھلاڑی مزید مزاحمت نہ کر سکا۔
نتیجے کے طور پر انگلینڈ کی پوری ٹیم اڑتیسویں اوور میں 215 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور پاکستان نے میچ 87 رنز سے جیت لیا۔
اس فتح کے ساتھ ہی پاکستان نے سہ ملکی سیریز میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر لی ہے اور کھلاڑیوں کے حوصلے بھی کافی بلند ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سیریز کے اپنے پہلے میچ میں بھی پاکستان نے سری لنکا کو 37 رنز سے شکست دے کر فاتحانہ آغاز کیا تھا۔





اپنی رائے دیں