اسلام آباد میں منعقد ہونے والے سینیٹ کے اجلاس کے دوران ملکی سیاسی و انتظامی امور پر اہم بحث کی گئی جس میں قومی اداروں کی کارکردگی اور عوامی شکایات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اجلاس کے دوران ایوانِ بالا کو بتایا گیا کہ اہم سرکاری اداروں میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور قانون شکنی کرنے والے عناصر کے خلاف بلاتفریق کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما اور سینیٹر طلال چوہدری نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کے حوالے سے ایک بڑا انکشاف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نادرا کے ایک سو ایسے ملازمین کے خلاف مجرمانہ کارروائی کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر رشوت کی خاطر سنگین نوعیت کی غفلت کا مظاہرہ کیا۔
سینیٹر طلال چوہدری نے وضاحت کی کہ ان ملازمین پر الزام ہے کہ انہوں نے مالی مفاد کی خاطر غیر ملکی شہریوں کو پاکستانی شہریوں کے خاندانی شجرہ میں غیر قانونی طور پر شامل کیا۔ اس قسم کی سنگین بے ضابطگیوں کے باعث قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز پر بھی ایوان کے اندر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
بتایا گیا کہ اس معاملے کا انکشاف اس وقت ہوا جب سعودی عرب سے پاکستانی شناختی دستاویزات اور نادرا کے ریکارڈ سے متعلق پانچ ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئی تھیں۔ ان شکایات کے موصول ہونے کے بعد متعلقہ حکام نے انتہائی پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا آغاز کیا اور الزامات کی تصدیق کے بعد سخت ترین قدم اٹھائے۔
حکومتی رکن کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے غیر قانونی اقدامات سے نہ صرف ملک کی اندرونی سلامتی متاثر ہوتی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے وقار کو نقصان پہنچتا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مفادات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
سینیٹر طلال چوہدری نے بیرون ملک غیر قانونی طور پر سفر کرنے والے افراد اور مختلف مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے حوالے سے بھی سخت الفاظ میں گفتگو کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا مقصد دنیا بھر میں اپنا بہترین ہنر مند طبقہ اور تعلیم یافتہ ٹیلنٹ روانہ کرنا ہے نہ کہ مجرمانہ پس منظر کے حامل افراد۔
انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض اوقات دنیا کے جن ممالک میں سنگین جرائم کے واقعات رونما ہوتے ہیں وہاں بدقسمتی سے پاکستانیوں کے نام بھی سامنے آ جاتے ہیں۔ اس طرح کے چند افراد کی مجرمانہ حرکات کی وجہ سے بیرون ملک محنت مزدوری کرنے والے ایک کروڑ سے زائد پاکستانیوں کے لیے سفری اور انتظامی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔
حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ملنے والے مثبت نتائج کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ ملک سے غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے والے افراد کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سخت بارڈر کنٹرول اور انتظامی اصلاحات کی بدولت اس غیر قانونی رجحان میں چونسٹھ فیصد تک کمی آئی ہے۔
پاسپورٹ فیسوں میں کیے جانے والے حالیہ اضافے کے حوالے سے بھی سینیٹ کے اجلاس میں تفصیلی وضاحت پیش کی گئی تاکہ اراکینِ پارلیمنٹ اور عوام کو اس فیصلے کے پس منظر سے آگاہ کیا جا سکے۔ سینیٹر طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ پاسپورٹ کے حصول کی فیسوں میں یہ اضافہ طویل عرصے کے وقفے کے بعد کیا گیا ہے۔
انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ پاسپورٹ فیسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی ہی اس پورے ادارے کے مالی امور اور نظام کو چلانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ فیسوں میں اضافے کے باوجود پاکستان میں پاسپورٹ کے حصول کے اخراجات خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں اب بھی کافی کم ہیں۔
قومی اداروں کی اصلاحات کے اس عمل کو ملک کی معاشی اور انتظامی بہتری کے لیے ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے تاکہ اداروں کے اندر کرپشن کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔ سینیٹ کے اس اجلاس میں اراکین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قومی شناخت اور دستاویزات کے نظام کو مزید محفوظ اور فول پروف بنایا جائے۔
حکومت کی جانب سے اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ قانون شکنی میں ملوث کسی بھی سرکاری اہلکار کو رعایت نہیں دی جائے گی چاہے وہ کسی بھی عہدے پر فائز ہو۔ اس کارروائی کو نادرا کے نظام کو اندرونی طور پر صاف کرنے کی جانب ایک اہم اور فیصلہ کن قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایوان کے اس اہم اجلاس میں شریک دیگر اراکین نے بھی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز پیش کیں اور اس بات پر اتفاق کیا کہ نادرا جیسے حساس ادارے میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کی اندرونی اور بیرونی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھا جائے گا تاکہ پاکستان کا سافٹ امیج دنیا بھر میں اجاگر ہو سکے۔




اپنی رائے دیں