مواد پر جائیں
جمعہ، 6 نومبر 2026 26 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
پشاور میں نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے جاں بحقایبٹ آباد اور دریا خان میں ٹریفک حادثات، 11 افراد جاں بحق، 30 زخمیآسٹریلوی کرکٹر کرس لِن نے پابندی کی مدت مکمل کر لیجنوبی افریقہ کے ڈیوڈ ملر پاکستان کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو سے محروم رہےسعودی عرب کی حوثیوں سے خفیہ ڈیل اور اربوں ڈالر کے مطالبات کی تردیدروس کے صدر پیوٹن اور ایرانی سلامتی کے سربراہ محسن رضائی کی ماسکو میں ملاقاتبابا گرو ناناک کے 557 ویں جنم دن پر پاکستان نے کرتار پور راہداری کھول دیراولپنڈی ٹیسٹ میچ کے ٹکٹوں کی فروخت کا باضابطہ آغازآسٹریلیا نے مائیک ہسی کو اہم عالمی مقابلوں کے لیے کنسلٹنٹ کوچ مقرر کر دیاایبٹ آباد: ہزارہ موٹروے پر بس اور ڈمپر کے تصادم میں 7 افراد جاں بحقکراچی: نیو کراچی پاور ہاؤس چورنگی کے قریب اسکول وین الٹنے سے چار بچے زخمیپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، کے ایس ای-100 انڈیکس میں 2200 سے زائد پوائنٹس کی کمیامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اوول آفس کو قومی یادگار قرار دینے کا حکمامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روسی ایلچی سے ملاقات، یوکرین معاہدے کی امیدیورپی کنفرنس لیگ: تھن نے ہارٹ آف مڈلوثین کو ایک کے مقابلے میں تین گول سے ہرا دیالاس اینجلس کے میئر کے انتخاب میں نیتھیا رامن نے معرکہ جیت لیاآسٹریلوی کرکٹر کرس لین ایک ماہ کی پابندی کا شکارالیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 7 فروری کو کرانے کا فیصلہ کر لیابجلی صارفین پر 23 ارب روپے سے زائد اضافی بوجھ ڈالنے کی تیاریامریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ٹیکنالوجی اسٹاکس میں بڑی گراوٹ
دنیا

امریکی رکن کانگریس الہان عمر کی حجاب کے بغیر مبینہ گرفتاری کی تصویر جعلی نکلی

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی امریکی مسلم سیاست دان الہان عمر کی پولیس حراست کی تصویر کو حقیقت کے منافی قرار دے دیا گیا۔

امریکی کانگریس کی مسلمان رکن الہان عمر کی مبینہ گرفتاری اور حجاب ہٹائے جانے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر مکمل طور پر جعلی اور حقیقت سے بعید ثابت ہوئی ہیں۔ ان تصاویر کو لے کر انٹرنیٹ پر طرح طرح کے دعوے کیے جا رہے تھے جنہیں متعلقہ حکام نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر ایک ایسی تصویر تیزی سے وائرل ہوئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی سیاست دان کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے اور ان کا سر بھی گنجا دکھایا گیا۔ اس کے علاوہ ایک اور تصویر بھی شیئر کی گئی جس میں مبینہ طور پر ان کے حجاب کو پولیس کے تحویل میں ایک شواہد والے تھیلے میں بند دکھایا گیا۔

ان تمام افواہوں اور وائرل مواد کے بعد حقائق کی جانچ پڑتال کرنے والے اداروں اور الہان عمر کے دفتر کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ اس قسم کے تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔ ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ امریکی رکن کانگریس کو کسی بھی مقام پر پولیس نے گرفتار نہیں کیا۔

تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق وائرل ہونے والی یہ مبینہ تصویر دراصل ڈیجیٹل طور پر ایڈٹ شدہ اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ ہے۔ اس تصویر کو بنانے کے لیے ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک پرانی اصل تصویر کو کسی اور واقعے کے مگ شاٹ کے ساتھ جوڑا گیا تھا۔

یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہی جعلی تصویر اس سے قبل دو ہزار بیس میں بھی مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلائی گئی تھی جس کی اس وقت بھی عالمی خبر رساں اداروں نے تردید کی تھی۔ اس بار بھی تکنیکی تجزیے سے یہ ثابت ہو گیا کہ دونوں تصاویر میں بدعنوانی کی گئی ہے۔

امریکہ میں بارہ اکتوبر کو واشنگٹن ڈی سی میں واقع الہان عمر کی رہائش گاہ پر حکام کی جانب سے کچھ تفتیشی امور کے سلسلے میں کارروائی ضرور کی گئی تھی، تاہم اس کارروائی کے دوران ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔

اس طرح کے گمراہ کن مواد کا مقصد محض سوشل میڈیا پر سنسنی پھیلانا اور عوامی جذبات کو ابھارنا ہوتا ہے تاکہ معروف شخصیات کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جا سکے۔ ذمہ دار حلقوں نے صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ بغیر تحقیق کے ایسی جعلی تصاویر کو آگے نہ پھیلائیں۔

الہان عمر امریکہ کی سیاست میں ایک جانی پہچانی مسلم شخصیت ہیں جو اکثر اپنے خیالات اور سیاسی موقف کی وجہ سے بحث کا حصہ بنتی رہتی ہیں۔ ان کے خلاف اس قسم کی فرضی مہمات پہلے بھی چلائی جاتی رہی ہیں جن کا مقصد ان کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔

عالمی سطح پر میڈیا کے محققین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو ایسے اکاؤنٹس اور مواد کے خلاف سخت اقدامات کرنے چاہئیں جو فیک نیوز اور مصنوعی ذہانت زدہ جعلی تصاویر پھیلاتے ہیں۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ پروپیگنڈا پر مبنی خبروں پر کان نہ دھریں۔

اس پورے واقعے نے ایک بار پھر اس امر کو اجاگر کیا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں معلومات کی درستگی کو جانچنا کتنا اہم ہو چکا ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین کرنے کے بجائے سرکاری اور مستند خبر رساں اداروں کے بیانات پر بھروسہ کرنا ہی بہترین لائحہ عمل ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان تمام بے بنیاد افواہوں نے ایک بار پھر اس بات کو ثابت کیا ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود ہر تصویر کو حقیقت سمجھ لینا بہت بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ عام شہریوں کے ساتھ ساتھ با اثر شخصیات کو بھی اس قسم کے پروپیگنڈے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مختلف تحقیقاتی اداروں کی جانب سے بارہا یہ انتباہ جاری کیا جاتا رہا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی جعلی خبریں اور تصاویر معاشرے میں بدامنی اور غلط فہمیاں پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ اس لیے ہر ذمے دار شہری کا فرض ہے کہ وہ ایسی معلومات کو آگے بڑھانے سے گریز کریں۔

اس موضوع پر مزید خبریں

دنیا کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں