یورپ کے مختلف ممالک میں گزشتہ چند روز سے پروازوں کو بم سے اڑانے کی دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث متعدد طیاروں کو ہنگامی بنیادوں پر لینڈنگ کرنی پڑی یا ان کا رخ موڑنا پڑا۔ ان واقعات کے بعد یورپی حکام نے فضائی حدود میں سیکیورٹی سخت کر دی ہے اور کئی مقامات پر لڑاکا طیاروں کو بھی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
جمعہ کے روز بھی یہ سلسلہ تھم نہ سکا اور پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں ایک نجی ایئرلائن کی پرواز کو بم کی دھمکی ملنے کے بعد سیکیورٹی آپریشن کیا گیا۔ اسی طرح اٹلی کے شہر روم کے فیومیچینو ایئرپورٹ پر بھی ایک پرواز کو دھمکی موصول ہوئی، جس کے بعد طیارے کو وینس کی جانب موڑ کر سیکیورٹی کلیئرنس لی گئی۔
برطانوی ایئرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن کے مطابق، جب بھی کسی پرواز کو دھمکی ملتی ہے تو اسے ایک طے شدہ پروٹوکول کے تحت جانچا جاتا ہے تاکہ اس کی نوعیت کا تعین کیا جا سکے۔ اگر دھمکی کو سنجیدہ سمجھا جائے تو طیارے کو فوری طور پر محفوظ مقام پر اتار کر مسافروں کو باہر نکالا جاتا ہے اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ذریعے طیارے کی تلاشی لی جاتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اب تک کی گئی تلاشی کے دوران کسی بھی طیارے سے کوئی مشکوک مواد یا دھماکہ خیز آلہ برآمد نہیں ہوا ہے، جس سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ سب جھوٹی کالز ہو سکتی ہیں۔ برطانوی حکومت نے بھی ان واقعات کو بدنیتی پر مبنی جھوٹی دھمکیاں قرار دیا ہے۔
ماہرینِ ہوابازی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے ایئرلائنز کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایک پرواز کے متاثر ہونے سے ڈھائی لاکھ ڈالر تک کا خرچ آ سکتا ہے۔ یورپی یونین کے کمشنر برائے ٹرانسپورٹ نے کہا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ان واقعات کے پیچھے کون ہے یا آیا یہ تمام واقعات آپس میں جڑے ہوئے ہیں یا نہیں۔
یورپی ممالک میں ان واقعات کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم کسی بھی ملک نے تاحال کسی مخصوص گروہ یا ملک کو براہِ راست ذمہ دار نہیں ٹھہرایا ہے۔ روس نے بھی ان دھمکیوں میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔



اپنی رائے دیں