وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں برآمدات کے فروغ اور پاکستانی مصنوعات کی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کے لیے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کی جدید خطوط پر تنظیم نو کی منظوری دے دی ہے۔
وزیرِ اعظم کی صدارت میں جمعہ 6 نومبر کو اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ٹی ڈی اے پی کی موجودہ کارکردگی اور تجویز کردہ ادارہ جاتی اصلاحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ان اصلاحات کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) سمیت مقامی انڈسٹری کو بین الاقوامی برآمدی معیار کے مطابق ڈھالنا ہے۔
اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ صنعتی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی برآمدات میں اضافے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے، اور ٹی ڈی اے پی کی جدید تنظیم نو سے اس مقصد کی راہ ہموار ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں زرعی مصنوعات کی برآمد کے لیے مکمل ویلیو چین پر مبنی ایک جامع ایکو سسٹم تشکیل دیا جائے گا تاکہ زراعت کے شعبے سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے جو انتہائی موزوں جغرافیے کے حامل ملک میں ممکن ہے۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ٹی ڈی اے پی میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل اور بہترین تربیت یافتہ افرادی قوت کو مکمل شفافیت اور صرف میرٹ کی بنیاد پر شامل کیا جائے۔
شہباز شریف نے واضح کیا کہ کسی بھی ادارے میں اصلاحات اسی وقت ممکن ہوتی ہیں جب ملازمین کی ترقیاں مقررہ اہداف کے حصول اور کارکردگی سے مشروط کی جائیں۔
انہوں نے ادارے کی مالی اور پیشہ ورانہ شفافیت کے لیے ایک معتبر نجی آڈٹ فرم کی خدمات حاصل کرنے اور آزادانہ تھرڈ پارٹی جائزے کا نظام قائم کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان میں برآمدات کی وسیع صلاحیت موجود ہے اور ملک کا جغرافیہ تجارتی نقطہ نظر سے انتہائی موزوں ہے، جس سے فائدہ اٹھانے کے لیے حکومت انڈسٹری اور ایس ایم ایز کو ہر ممکن سہولیات فراہم کر رہی ہے۔
اجلاس کو عالمی سطح پر فعال تجارتی اداروں کا موازنہ پیش کرتے ہوئے بتایا گیا کہ جدید ادارے مقامی منڈیوں کی ترقی اور بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی کے لیے مربوط خدمات فراہم کرتے ہیں۔
ٹی ڈی اے پی کو ایک جدید اور عالمی معیار کا تجارتی ادارہ بنانے کے لیے اس کا دائرہ کار آٹھ بنیادی امور تک محدود کرنے اور اس کے بورڈ اور انتظامی ڈھانچے کی دوبارہ تشکیل کی تجویز دی گئی۔
اصلاحاتی منصوبے میں ادارے کے علاقائی نیٹ ورک کو زیادہ فعال بنانے، جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دینے کی سفارشات بھی شامل ہیں۔
اجلاس میں ادارہ جاتی کارکردگی کی پیمائش کے لیے قابلِ پیمائش اشاریے قائم کرنے اور کارکردگی کی باقاعدہ جانچ کا غیر جانبدارانہ نظام وضع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
اصلاحات کے نفاذ کے لیے 12 ماہ پر مشتمل مرحلہ وار منصوبہ پیش کیا گیا، جس میں منظوری، ڈیزائن، عملدرآمد اور آزادانہ جائزہ شامل ہیں۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت جاری کی کہ تجارتی ادارے کی ان تمام اصلاحات کو آئندہ برس کے وسط تک ہر صورت مکمل کیا جائے اور ان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
اس اہم جائزہ اجلاس میں وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیرِ مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ اور وفاقی وزیرِ ماحولیاتی تبدیلی مصدق ملک کے علاوہ دیگر وفاقی وزرا اور سینئر حکام نے شرکت کی۔


اپنی رائے دیں