مواد پر جائیں
جمعہ، 6 نومبر 2026 26 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
ترک پارلیمنٹ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دیپشاور میں نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے جاں بحقایبٹ آباد اور دریا خان میں ٹریفک حادثات، 11 افراد جاں بحق، 30 زخمییورپ بھر میں فضائی سفر متاثر، متعدد پروازوں کو بم کی دھمکیاںفرانس میں بس حادثہ، ایک بچے سمیت دو افراد ہلاک اور متعدد زخمیکرس جینر کی خفیہ شادی کی افواہیں، کو ری گیم بل کی پوسٹ نے مداحوں کو تجسس میں ڈال دیاانگلینڈ کو 2027 ورلڈ کپ تک فٹ ترین ٹیم بنانا ہدف ہے، ہیری بروکقائدِ اعظم ٹرافی: بابر اعظم کا مایوس کن مظاہرہ، آؤٹ ہونے پر غصے کا اظہارآئرلینڈ اور ارجنٹائن کی رگبی ٹیمیں نیشنز چیمپئن شپ میں مدمقابلپاکستان میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ سستا ہو گیاپاکستان کرکٹ بورڈ کا ابوظبی ٹی ٹین لیگ کے لیے کھلاڑیوں کو این او سی دینے کا فیصلہپرائم منسٹر یوتھ کروم بک اسکیم، کراچی کے طلبا کی میرٹ لسٹ جاریبانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق تشویشناک اطلاعات پر سپریم کورٹ سے رجوعویل چیئر رگبی ورلڈ کپ: انگلینڈ نے آئرلینڈ کو شکست دے کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیاوزیرِ اعظم کی ٹی ڈی اے پی کی جدید تنظیم نو کی منظوری، برآمدات بڑھانے کا حکمترکی کے مغربی صوبے میں فائرنگ سے آٹھ افراد ہلاک، مشتبہ ملزم گرفتارامریکہ اور امیرِ قطر کا ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی بحران کے خاتمے پر تبادلہ خیالامریکہ میں جج نے واشنگٹن ڈی سی میں ٹرمپ کے ‘آرک’ کی تعمیر روک دیاسرائیلی صدر اتوار کو نئی حکومت بنانے کے لیے امیدوار کا نام فائنل کریں گےوزیراعظم شہباز شریف نے برآمدات بڑھانے کیلئے ٹی ڈی اے پی کی جدید کاری کی منظوری دی
سیاست

بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق تشویشناک اطلاعات پر سپریم کورٹ سے رجوع

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق تشویشناک اطلاعات پر سپریم کورٹ سے رجوع

تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے ملنے والی اطلاعات حوصلہ افزا نہیں ہیں اور اس صورتحال پر پوری قوم کو گہری تشویش لاحق ہے۔

اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ پارٹی رہنماؤں کو بانی سے ملاقات کے بعد حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوا ہے۔

بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ بیرسٹر سلمان صفدر کی ملاقات کے دوران بانی پی ٹی آئی کی صحت اور قانونی امور سے متعلق کچھ ہدایات اور معلومات موصول ہوئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ میں 18 اگست کے عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیے باقاعدہ درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

اس عدالتی حکم میں بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کرنے اور وہاں ان کا مناسب علاج کرانے کی واضح ہدایت دی گئی تھی۔

عدالتی احکامات میں بانی پی ٹی آئی کی صحت کا جائزہ لینے کے لیے ایک جامع میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا بھی کہا گیا تھا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سے یہ استدعا کی گئی ہے کہ اس معاملے پر جلد از جلد سماعت کی جائے تاکہ تاخیر نہ ہو۔

انہوں نے زور دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت انتہائی اہمیت رکھتی ہے اور اس معاملے پر کسی بھی قسم کی غفلت یا سمجھوتہ ناقابل قبول ہے۔

ملکی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ملک میں جاری سیاسی تناؤ میں مزید اضافہ نہیں ہونا چاہیے اور اب اس کشیدگی کو ختم کرنا چاہئے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی کارکنوں، سپورٹرز اور ارکان اسمبلی کو حراست میں لینے کا سلسلہ اب بند کیا جانا چاہیے۔

بیرسٹر گوہر نے انکشاف کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں اس وقت جیل میں موجود ہیں جن کے بارے میں تاحال مکمل معلومات سامنے نہیں آ سکیں، لہٰذا ان کی فوری رہائی کو یقینی بنایا جائے۔

ادھر سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مشال یوسفزئی نے بتایا کہ چار ہفتے گزر جانے کے باوجود بانی پی ٹی آئی کا کیس سماعت کے لیے فکس نہیں ہو سکا۔

سینیٹر مشال یوسفزئی نے تصدیق کی کہ اڈیالہ جیل میں قید تنہائی کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی کا بلڈ پریشر 192 تک بڑھ جاتا ہے۔

انہوں نے عدالتِ عظمیٰ سے پُر زور اپیل کی کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس کی سماعت اگلے ہفتے کے لیے مقرر کی جائے۔

عدالت میں دائر کی گئی اس نئی درخواست کا مقصد حکمِ عدولی کے خدشات کو دور کرنا اور بانی کو فوری طبی امداد فراہم کرنا ہے۔

تحریک انصاف کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ قانون اور آئین کے تحت ہر قیدی کو طبی سہولیات تک رسائی کا بنیادی حق حاصل ہے۔

موجودہ سیاسی منظر نامے میں یہ قانونی چارہ جوئی حکومت اور عدلیہ دونوں کے لیے ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق وکلاء کی ٹیم عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے لیے تمام آئینی اور قانونی راستے استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ اداروں کی جانب سے اس نئی درخواست پر تاحال کوئی رسمی جوابی بیان سامنے نہیں آیا ہے اور سماعت کی تاریخ کا اعلان آئندہ دنوں میں متوقع ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین کی نگاہیں بھی سپریم کورٹ کے اس ممکنہ فیصلے پر لگی ہوئی ہیں جو اس تنازعے کا رخ طے کر سکتا ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

سیاست کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں