سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر کیے جانے والے حالیہ حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ان کارروائیوں کو امریکی انتخابات سے قبل عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں دعویٰ کیا کہ حوثی باغی ایران کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں اور خطے میں انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا بنیادی مقصد عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کو متاثر کر کے امریکی معیشت اور انتخابی عمل کو نقصان پہنچانا ہے۔
سابق صدر نے یاد دلایا کہ ماضی میں جب ان کی انتظامیہ نے حوثیوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی کی تھی تو انہیں اس کا سبق مل گیا تھا۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ موجودہ صورتحال میں بھی ایسے عناصر کو ان کے اقدامات کے سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
ایران پر تنقید کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو ایک ناکام ریاست قرار دیا اور کہا کہ ایرانی معیشت شدید بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں مہنگائی کی شرح تین سو فیصد تک پہنچ چکی ہے جس کی وجہ سے ملکی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایرانی حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ اپنے سرکاری امور کو درست طریقے سے چلا سکے یا اپنی فوج کو تنخواہیں ادا کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس اب مالی وسائل کی شدید قلت ہے جس نے ان کی عسکری صلاحیتوں کو بھی محدود کر دیا ہے۔
سابق امریکی صدر نے اپنے پیغام میں یہ عندیہ بھی دیا کہ ان کی جانب سے ایران کے حوالے سے جلد ہی کوئی اہم فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کے خلاف سخت موقف اپنانا ضروری ہے تاکہ خطے میں امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تہران ماضی میں بھی اپنے اوپر لگائے جانے والے ایسے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے اور انہیں سیاسی پروپیگنڈا قرار دیتا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا تعین کرنے والے عوامل میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی ہمیشہ سے ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سعودی عرب پر حملے عالمی سپلائی چین کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھے جاتے ہیں جس پر عالمی طاقتیں گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدہ تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں۔ مختلف ادوار میں پابندیوں اور سفارتی دباؤ کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تناؤ برقرار ہے، جس کا اثر خطے کی سکیورٹی صورتحال پر بھی مسلسل پڑ رہا ہے۔


اپنی رائے دیں