جرمنی کے 34 شہروں میں ہفتے کے روز نوجوانوں کی تحریک 'جنریشن زی' کی اپیل پر ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کیے۔ مظاہرین نے تعلیمی اداروں کے لیے فنڈز میں اضافے، مہنگائی اور رہائشی اخراجات میں کمی، سماجی شعبوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ لازمی فوجی بھرتی کی پالیسی کی مخالفت کی۔
مظاہروں میں میونخ، برلن، فرینکفرٹ، ہیمبرگ اور کولون جیسے اہم شہر شامل تھے۔ اگرچہ دن کے بیشتر حصے میں احتجاج پُرامن رہا، تاہم شام ہوتے ہی بعض شہروں میں صورتِ حال کشیدہ ہو گئی جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
فرینکفرٹ میں مظاہرین کی جانب سے دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی گئی جبکہ پولیس اور امدادی ٹیموں پر آتش گیر مواد پھینکا گیا۔ ہیمبرگ میں رکاوٹیں جلانے کے واقعات پیش آئے اور کولون میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن اور مرچوں کے اسپرے کا استعمال کیا۔
جرمن حکام نے مظاہروں سے قبل ہی پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی تھی کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ پرامن احتجاج میں شرپسند عناصر شامل ہو کر امن و امان کی صورتِ حال خراب کر سکتے ہیں۔
یورپ کے دیگر ممالک میں بھی اسی نوعیت کے مظاہرے دیکھے جا رہے ہیں، جہاں فرانس، اسپین اور اٹلی کے مختلف شہروں میں بھی نوجوانوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں اور ہنگامہ آرائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔




اپنی رائے دیں