روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ روس یوکرین کے ساتھ جاری تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ایک حتمی امن معاہدہ ممکن ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ روس اور یوکرین کے عوام تاریخی طور پر ایک ہی قوم ہیں اور ان کے درمیان اختلافات کو بات چیت کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔
صدر پوتن نے واضح کیا کہ روس کو میدانِ جنگ میں شکست دینا ایک ناممکن ہدف ہے اور اسے اسٹریٹجک شکست دینے کی کوششیں حقیقت سے دور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو ممالک روس کو کمزور کرنے کے لیے جنگی حکمت عملی اپنا رہے ہیں، انہیں موجودہ عالمی حقائق کو تسلیم کرنا چاہیے۔
روسی صدر نے یورپی ممالک کی روس مخالف پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں سیاسی شیزوفرینیا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ روس یورپ کے ساتھ کسی بھی قسم کی جنگ کا خواہشمند نہیں ہے اور نہ ہی ایسی کوئی تیاری کر رہا ہے، بلکہ روس کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہی یورپی عوام کے مفاد میں ہیں۔
یوکرین کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے پوتن نے دعویٰ کیا کہ یوکرینی قیادت اپنے شہریوں کو جنگی وسائل کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زبردستی شہریوں کو محاذ پر بھیجا جا رہا ہے اور فوج سے فرار ہونے والے اہلکاروں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
صدر پوتن نے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ فوج سے فرار ہونے والے اہلکاروں کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ان کے خلاف تین لاکھ سے زائد فوجداری مقدمات درج کیے گئے ہیں جو کہ ایک سنگین صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
روسی صدر نے 2014 کے واقعات اور منسک معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماسکو ہمیشہ سے پُرامن حل کا حامی رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس نے ماضی میں بھی مذاکرات کی پیشکش کی تھی لیکن اس کے جواب میں شہری آبادی کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا۔
مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں روسی صدر نے انکشاف کیا کہ امریکہ، روس اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی رابطے دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد حتمی امن معاہدے کے بعد تمام فریقین کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
روسی صدر نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اگر روس اور یوکرین کی سلامتی پر بات چیت ہوتی ہے تو اس کے ساتھ مجموعی یورپی سلامتی کے ڈھانچے پر بھی گفتگو ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو مختصر مدتی جنگ بندی کے بجائے دیرپا امن کا خواہاں ہے۔
پوتن نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ روس اپنے خصوصی فوجی آپریشن کے تمام اہداف کو ہر صورت حاصل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے لیکن روس اپنی قومی سلامتی اور مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور امن کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا۔
روسی صدر کے مطابق، یورپی ممالک میں جاری سیاسی عمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں کے عوام روس کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں صورتحال میں بہتری آئے گی اور فریقین ایک متفقہ لائحہ عمل تک پہنچ سکیں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر یوکرین تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔ روس کا یہ مؤقف کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، عالمی برادری میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان یہ تنازع گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے جس کے اثرات عالمی معیشت اور سلامتی پر مرتب ہوئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سہ فریقی مذاکرات کا یہ عمل کس حد تک امن کی راہ ہموار کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔
روسی صدر نے اپنی گفتگو کے آخر میں کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری ہی خطے کے استحکام کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔




اپنی رائے دیں