اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے واضح کیا ہے کہ ملک کے پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو اب چوبیس سو ارب روپے سے کم ہوکر سولہ سو اسی ارب روپے پر آچکا ہے۔ انہوں نے یہ اہم اعداد و شمار دارالحکومت میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران بیان کیے۔
نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی یعنی نسٹ کے زیر اہتمام منعقدہ نیشنل انرجی سمٹ دو ہزار چھبیس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے توانائی کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات اور ان کے ثمرات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پاور سیکٹر کی بہتری کے لیے متعدد بنیادی نوعیت کے اقدامات اٹھائے ہیں۔
اویس لغاری نے سمٹ کے شرکاء کو بتایا کہ محکموں میں میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے اور اقربا پروری کے خاتمے کے لیے پاور سیکٹر کے اداروں میں پیشہ ورانہ مہارت کے حامل بورڈز کی تشکیل عمل میں لائی گئی ہے تاکہ کارکردگی بہتر ہو۔
وزارت توانائی کے ترجمان اور وفاقی وزیر کے مطابق شعبے میں شفافیت لانے اور بہتر طرز حکمرانی کے فروغ کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کا عمل بھی تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے جس کے مثبت نتائج اب تک سامنے آ رہے ہیں۔
تقریب سے خطاب میں وفاقی وزیر توانائی کا مزید کہنا تھا کہ وزارت کی سطح پر تکنیکی صلاحیتوں کو بڑھانے اور طویل المدتی پالیسی سازی کے موثر نظام کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے بھی بھرپور کام جاری ہے تاکہ فیصلے بہتر ہوں۔
صنعتی شعبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اویس لغاری نے اعلان کیا کہ صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے تاکہ ملکی پیداوار اور برآمدات کو عالمی منڈی میں مسابقتی بنایا جا سکے اور معیشت ترقی کرے۔
وفاقی وزیر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ صنعتوں کے اوپر سے کراس سبسڈی کا پرانا اور غیر منصفانہ بوجھ مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جس سے صنعتی اداروں کو بڑی ریلیف ملی ہے اور ان کے پیداواری اخراجات میں کمی واقع ہوئی ہے۔
حکومتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پنجاب کی تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں بجلی کے بلوں کی وصولی کی شرح سو فیصد تک پہنچ گئی ہے جو انتظامی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اس سے ادارے مضبوط ہو رہے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے کا حجم طویل عرصے سے ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا تھا جس پر قابو پانے کے لیے حکومتی سطح پر مختلف ادوار میں متعدد پالیسیاں تشکیل دی جاتی رہی ہیں تاکہ اس ناسور کو روکا جا سکے۔
موجودہ حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے انرجی سیکٹر کے یہ اقدامات ملکی اقتصادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور مالیاتی خسارے کو محدود کرنے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں جن کی تائید اقتصادی ماہرین بھی کر رہے ہیں۔
نیشنل انرجی سمٹ دو ہزار چھبیس میں ملک بھر سے آئے ہوئے ماہرینِ تعلیم، توانائی کے شعبے کے ماہرین، اور کارپوریٹ سیکٹر کے عمائدین نے شرکت کی اور ملک کو درپیش توانائی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تجاویز پیش کیں جنہیں سراہا گیا۔
توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے نفاذ سے نہ صرف گردشی قرضوں میں کمی آئی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ کاروباری حلقوں کی جانب سے بھی حکومتی پالیسیوں پر اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ مل رہا ہے۔
وزارت توانائی نے عزم ظاہر کیا ہے کہ اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ ملک کو طویل مدتی بنیادوں پر توانائی کے بحران سے مکمل طور پر نجات دلائی جا سکے اور عوام کو سستی بجلی فراہم ہو سکے۔




اپنی رائے دیں