پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی اور جبری قبضے کے خلاف یومِ سیاہ منا رہے ہیں۔ اس دن کا منانے کا بنیادی مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ کشمیری عوام اپنی سرزمین پر بنیادی حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔
تاریخی تناظر کے مطابق ستائیس اکتوبر انیس سو سینتالیس کو بھارتی فوج نے سری نگر میں اتر کر وادی پر فوجی قبضے کی بنیاد رکھی تھی۔ اس غاصبانہ اقدام کے خلاف تب سے لے کر اب تک ہر سال اس تاریخ کو دنیا بھر کے کشمیری یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔
اکتور کے آخری ایام اور نومبر کے آغاز میں انیس سو سینتالیس کے دوران ڈوگرہ فورسز اور مسلح جتھوں نے آزادی کی تحریک چلانے والے بے شمار نہتے کشمیریوں کا خون بہایا تھا۔ جموں و کشمیر پر اس جارحانہ تسلط کو آج اناسی برس مکمل ہو چکے ہیں اور بھارتی فورسز بدستور جبر اور ظلم کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
مقبوضہ وادی میں اس سیاہ دن کی مناسبت سے مکمل ہڑتال کی جا رہی ہے اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس موقع پر دنیا بھر میں آباد کشمیری کمیونٹی بھی ریلیاں نکال کر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کا مطالبہ کر رہی ہے۔
مظفر آباد میں اس یومِ سیاہ کے سلسلے میں شاہراہِ سری نگر پر لائن آف کنٹرول کی سمت ایک بڑے مارچ کا انعقاد کیا گیا ہے۔ اس مارچ کے شرکاء ضلع جہلم ویلی کے علاقے ہٹیاں بالا تک جا کر بھارت کے غاصبانہ روئیے کے خلاف بھرپور احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔
گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اس عرصے میں بھارت نے کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کا پورا خطہ ایک بڑی فوجی چھاؤنی کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں عام شہریوں کا جینا محال کیا جا چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس طویل جدوجہد کے دوران بھارتی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں لاکھوں کشمیریوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔ صرف نوے کی دہائی سے لے کر اب تک مقبوضہ وادی میں ہزاروں افراد کو موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔
کشمیری قیادت اور حریت رہنماؤں سمیت ہزاروں افراد آج بھی طویل عرصے سے بھارت کی مختلف جیلوں میں غیر قانونی طور پر قید ہیں۔ ظلم و ستم کے ان ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیری عوام کے جذبے میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اور وہ اپنے مقصد پر قائم ہیں۔
عالمی سطح پر اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی طاقتوں کی توجہ اس دیرینہ تنازعے کی طرف مبذول کرانا ہے۔ کشمیری عوام کا مطالبہ ہے کہ انہیں اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق جینے کا حق دیا جائے۔
مقبوضہ علاقے میں جاری اس جبری تسلط کے خلاف عوامی ردعمل انتہائی سخت ہے اور ہر مکتبہ فکر کے لوگ اس یومِ سیاہ میں بھرپور انداز میں شریک ہیں۔ احتجاجی تقریبات میں شرکاء کی جانب سے عالمی اداروں کی سردمہری پر بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی حکومت اور عوام ہمیشہ کی طرح کشمیری بھائیوں کے ساتھ سیاسی، سفارتی اور اخلاقی سطح پر یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔ قومی سطح پر بھی اس دن کی مناسبت سے خصوصی بیانات جاری کیے گئے ہیں جن میں کشمیریوں کے موقف کی بھرپور تائید کی گئی ہے۔
کشمیری عوام کا عزم ہے کہ وہ اپنے پیدائشی حقِ خودارادیت کے حصول تک اپنی پرامن اور منصفانہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جبر کے تمام حربے استعمال کرنے کے باوجود آزادی کی یہ شمع بجھائی نہیں جا سکی ہے۔
موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ عالمی برادری اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے اور کشمیریوں کو ان کا جائز حق دلانے کے لیے فوری عملی اقدامات کرے تاکہ خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن ہو سکے۔

اپنی رائے دیں