اسلام آباد میں چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کی افتتاحی تقریب انتہائی پُرووقار انداز میں منعقد ہوئی جس میں اہم سرکاری شخصیات اور معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے پاک چین تعلقات کی عظمت اور اس کی تزویراتی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور چین کی دوستی محض سفارتی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسا لازوال اور قیمتی ورثہ ہے جو نسل در نسل کامیابی کے ساتھ منتقل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مضبوط رشتے کو نئی نسل تک مؤثر انداز میں منتقل کرنا ہم سب کی مشترکہ اور اہم قومی ذمہ داری ہے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ اس عظیم منصوبے نے دونوں برادر ممالک کی معیشتوں کو باہم مضبوطی سے جوڑ دیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سی پیک کے ذریعے دہائیوں پر محیط روایتی خیرسگالی کو عملی ترقی، بڑے پیمانے پر توانائی کے منصوبوں اور جدید بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں تبدیل کیا گیا۔
سی پیک کے مختلف مرحلوں کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ اس منصوبے کے پہلے مرحلے کے دوران دونوں ممالک کی سرزمینوں کو زمینی راستوں اور رابطوں کے نیٹ ورک کے ذریعے آپس میں ملایا گیا۔ اب سی پیک کے اگلے اور انتہائی اہم مرحلے کے تحت دونوں ممالک کے عوام کے ذہنوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے پر بھرپور توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔
چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کے قیام کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس نئے اقدام کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے عوام کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ، رواداری اور اعتماد کو مزید فروغ دینا ہے۔ اس سے دوطرفہ تعلقات کو عوامی اور سماجی سطح پر نئی اور وسیع تر جہتیں حاصل ہوں گی۔
موجودہ ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کا احاطہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ اس جدید دور میں رابطہ ہی اصل طاقت ہے اور بیانیہ کی خودمختاری بہت زیادہ معنی رکھتی ہے۔ انہوں نے انتہائی دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جو قوم اپنی کہانی خود بیان کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، دنیا میں اس کی کہانی دوسرے لوگ اپنی مرضی سے سناتے ہیں۔
دوست ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم اور پائیدار بنانے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کا مؤثر استعمال، معلومات کا بر وقت تبادلہ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا بہترین استعمال موجودہ دور کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ دونوں ممالک کو اس میدان میں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
سی پیک کے اگلے مرحلے کے اہداف کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سی پیک ٹو پوائنٹ زیرو کے تحت ترقی کے ایک بالکل نئے سفر کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس جدید مرحلے کا بنیادی ہدف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا، معیشت میں جدت لانا اور ماحول دوست ترقی کو یقینی بنانا ہے۔
تقریب کے شرکاء کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ ڈیجیٹل رابطوں اور اطلاعات کے اس نئے کوریڈور کے فعال ہونے سے دونوں ممالک کے ماہرین، محققین، طلباء اور عام شہریوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور خیالات کا تبادلہ کرنے کا بہترین موقع ملے گا۔ معلومات کے اس وسیع تبادلے سے تمام قسم کی غلط فہمیوں کا خاتمہ ہوگا۔
تاریخی تناظر میں بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی، سیاسی اور معاشی تعلقات کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے جو ہمیشہ ہر آزمائش کی گھڑی میں پورا اتری ہے۔ دونوں ممالک نے ہر بین الاقوامی فورم پر ہمیشہ ایک دوسرے کے مؤقف کی بھرپور اور غیر مشروط حمایت کی ہے۔
حکومتی عہدیداروں اور پالیسی سازوں کے مطابق سی پیک کے تحت اب تک جو منصوبے کامیابی کے ساتھ مکمل کیے گئے ہیں انہوں نے پاکستان میں صنعتی ترقی کے عمل کو تیز کیا اور ملک کو درپیش شدید توانائی کے بحران پر قابو پانے میں نہایت کلیدی کردار ادا کیا۔
اب انفارمیشن کوریڈور اور اس جیسے دیگر جدید منصوبے ملک میں ڈیجیٹل اکانومی کو فروغ دینے اور معیشت کو ڈیجیٹل خطوط پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے، جس سے پاک چین اقتصادی شراکت داری کو مزید استحکام ملے گا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وفاقی وزیر اطلاعات نے چین کے ساتھ دوطرفہ تعاون کے اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان اپنے تمامتر دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ان تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل اور کامیابی کے لیے پرعزم ہے۔ تقریب کے آخر میں تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا گیا۔

اپنی رائے دیں