اسلام آباد میں وفاقی وزارتِ صحت نے عمرہ زائرین کے لیے منجائٹس اور انفلوئنزا کی ویکسین مہنگے داموں خریدنے کے اسکینڈل میں ایک بڑی پیشرفت کے تحت اہم انتظامی فیصلے کیے ہیں اور اس بدعنوانی میں ملوث گرفتار افسران کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ اس حوالے سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ احکامات میں بارڈر ہیلتھ سروسز کے ان تمام افسران کو ہٹا دیا گیا ہے جو اس وقت تحقیقاتی اداروں کی تحویل میں ہیں۔
اس اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد وزارتِ صحت کے حلقوں میں ہلچل مچ گئی تھی اور حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ضابطے کی کارروائی کا آغاز کیا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور اس طرح کے معاملات کی روک تھام کی جا سکے۔ محکمہ جاتی سطح پر کی جانے والی ان کارروائیوں کا مقصد سرکاری محکموں میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں اور مالی بدعنوانیوں کے خلاف سخت پیغام دینا ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزارتِ صحت نے جن افسران کو معطل کیا ہے ان میں ڈائریکٹر بارڈر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر عابد حسین شاہ، بارڈر ہیلتھ سروسز کے سابق سربراہ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ شاہ اور بارڈر ہیلتھ سروسز کی پروکیورمنٹ کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر پردیپ کمار شامل ہیں۔ یہ تمام نامزد افسران اس وقت قانون نافذ کرنے والے ادارے یعنی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کی تحویل میں ہیں۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ان افسران سے بارڈر ہیلتھ سروسز کے لیے ویکسین کی خریداری کے پورے عمل کے دوران ہونے والی مبینہ مالی خرد برد اور قواعد کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے گہرائی سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ تفتیشی ٹیمیں اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ خریداری کے عمل میں کس مرحلے پر ضابطے کی خلاف ورزیاں کی گئیں اور اس اسکینڈل کے پیچھے کون کون سے عناصر کارفرما تھے۔
ملزمان پر یہ سنگین الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا مبینہ طور پر غلط استعمال کرتے ہوئے اور سرکاری قواعد و ضوابط کو پسِ پشت ڈال کر عمرہ زائرین کے لیے منجائٹس یعنی گردن توڑ بخار اور انفلوئنزا کی ویکسین انتہائی مہنگے داموں خریدی۔ اس مہنگے داموں خریداری کے باعث قومی خزانے کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ زائرین کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
حکومتی اور انتظامی سطح پر اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ صحت عامہ جیسے حساس شعبے میں اس قسم کی غفلت یا مالی بے ضابطگی کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے اور اس معاملے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی روشنی میں مزید کارروائی بھی متوقع ہے تاکہ اس نوعیت کے اسکینڈلز کا سدباب کیا جا سکے۔
دوسری جانب وفاقی وزارتِ صحت نے اس اہم ادارے میں انتظامی امور کو چلانے کے لیے فوری طور پر خالی ہونے والے عہدے پر نئے تقرر کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں گریڈ انیس کے افسر ڈاکٹر مرتضیٰ جعفری کو نیا ڈائریکٹر بارڈر ہیلتھ سروسز پاکستان مقرر کر دیا گیا ہے تاکہ دفتری امور بلا تعطل جاری رہیں۔
نئے تعینات ہونے والے ڈائریکٹر بارڈر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر مرتضیٰ جعفری اس تقرری سے قبل قومی ادارہ بحالی معذوراں کے سربراہ کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہے تھے اور انتظامی امور کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کی تقرری کے بعد وزارتِ صحت نے انتظامی تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے فوری نوعیت کے دیگر احکامات بھی جاری کیے ہیں۔
ڈاکٹر مرتضیٰ جعفری کی جانب سے بارڈر ہیلتھ سروسز کا چارج سنبھالنے کے بعد امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ادارے کے امور کو بہتر بنایا جائے گا اور زائرین کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات بالخصوص ویکسینیشن کے عمل میں مزید شفافیت لائی جائے گی۔ وزارتِ صحت اس تمام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ادھر قومی ادارہ بحالی معذوراں میں ڈاکٹر مرتضیٰ جعفری کی جگہ خالی ہونے پر وزارتِ صحت نے وہاں بھی فوری انتظام کرتے ہوئے اضافی چارج سونپ دیا ہے۔ قومی ادارہ بحالی معذوراں کا اضافی چارج اب ڈاکٹر شبانہ سلیم کو تفویض کیا گیا ہے تاکہ اس ادارے کے روزمرہ کے امور بھی متاثر نہ ہوں۔
حکومت کی جانب سے زائرین کی سہولت کے لیے حج اور عمرہ کے موقع پر طبی انتظامات کو ہمیشہ ترجیح دی جاتی ہے اور اس مقصد کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز مختص کیے جاتے ہیں۔ ایسے میں ویکسین کی خریداری میں بے ضابطگیوں کی خبروں نے عوامی حلقوں میں بھی شدید تشویش کی لہر دوڑا دی تھی جس پر فوری ایکشن لیا گیا۔
عوامی اور سماجی حلقوں نے وزارتِ صحت کی جانب سے فوری معطلی کے احکامات اور شفاف تحقیقات کے عمل کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس قسم کے اسکینڈلز میں ملوث افراد کوفرصتِ قانون کے مطابق عبرت ناک سزا دی جائے گی۔ محکمہ صحت کے اندر اصلاحات کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
تحقیقاتی اداروں کی جانب سے اس کیس کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ خریداری کے اس پورے عمل میں کون سے نجی ادارے یا افراد بھی اس گٹھ جوڑ کا حصہ تھے۔ ایجنسی کے حکام اس بات کا بھی عزم ظاہر کر چکے ہیں کہ اس اسکینڈل کی تہہ تک پہنچ کر تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
وزارتِ صحت کے ترجمان کے مطابق محکمے کے اندر احتساب کا عمل بلا امتیاز جاری رہے گا اور کسی بھی سرکاری اہلکار کو اختیارات سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومتی سطح پر یہ عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ آئندہ اس قسم کے معاملات کی روک تھام کے لیے پروکیورمنٹ کے نظام کو مزید شفاف اور سخت بنایا جائے گا۔



اپنی رائے دیں